بلی کا ریپ: انفرادی فعل یا قوم کی کوتاہی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک بہت ثقیل اور سچی کہانی ہے، افسانہ نہیں ہے۔ یہ کہانی آج سے صرف بارہ سال پہلے 2008 میں یورپ کے ایک بہت ترقی یافتہ اور اہم ملک آسٹریا میں سامنے آئی تھی۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ جوزف نامی ایک شخص نے 1984 میں اپنی اٹھارہ برس کی سگی بیٹی الزبتھ کو اپنے گھر کے تہہ خانے میں بند کر دیا اور چوبیس سال تک بند رکھا۔ اس نے پولیس میں بیٹی کے گم ہونے کی رپورٹ لکھوا دی تھی۔ یعنی اس خاتون الزبتھ نے 1984، جب اس کو تہہ خانے میں قید کیا گیا، سے لے کر 2008، جب اس کو تہہ خانے سے نکالا گیا، تک روشنی کی کرن نہیں دیکھی۔ یہ تہہ خانہ اس ظالم شخص جوزف نے خاص طور پر اسی مقصد کے لیے تیار کیا تھا۔ اس تہہ خانے کے کمرے تک پہنچنے کے لیے سات دروازوں سے گزرنا پرٹا تھا۔ جن میں کئی ایک سٹیل اور بجری کے بنے ہوئے تھے اور الیکرانک کوڈ سے بند ہوتے اور کھلتے تھے۔

وہ شخص اس تہہ خانے میں بند اپنی سگی بیٹی کے ساتھ چوبیس سال مسلسل ریپ کرتا رہا۔ اس ریپ کے نتیجے میں اس خاتون نے سات بچوں کو جنم دیا ان سات بچوں میں سے ایک بچے کو باپ نے پیدا ہوتے ہی مار دیا تھا۔ باقی چھ بچوں میں تین بچوں کو وہ پیدائش کے فورا بعد ہی اوپر اپنے گھر اپنی بیوی کے پاس لے جاتا اور یہ ظاہر کرتا کہ ان کی بیٹی دروازے پر چھوڑ گئی ہے اور ساتھ ایک خط بھی چھوڑا ہے کہ ہم اس کے بچے کو پال لیں۔ تین بچے تہہ خانے کے اندر ہی بڑے ہوئے۔ ان چھ بچوں میں سب سے بڑی بیٹی جو اس گھر کے تہہ خانے ہی میں پیدا ہوئی اس نے اپنی زندگی کے پہلے بائیس سال اسی تہہ خانے میں گزارے اور کبھی سورج نہیں دیکھا۔

الزبتھ اور اس کے تین بچوں کی رہائی یوں ممکن ہوئی کے سب سے بڑی بیٹی بہت سخت بیمار ہو گئی۔ وہ کومے میں چلی گئی اور اس کے مرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس ڈر سے جوزف اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے پر راضی ہو گیا۔ ساری بات وہاں سے کھلنا شروع ہوئی۔ بچی کا کہیں اندراج ہی نہیں تھا اس لیے ڈاکٹر کو شک ہوا تو اس نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ پولیس نے اس بندے کو گرفتار کیا اور الزبتھ کو یقین دلایا کہ اس کا باپ آئندہ کبھی بھی اس کے سامنے نہیں آ سکے گا۔ اس وعدے پر الزبتھ نے اپنے پوری کہانی بیان کر دی۔ پولیس نے تہہ خانہ جا کر دیکھا اور باقی بچوں کو بازیاب کیا۔

وہ بندہ اس وقت بھی آسٹریا کی کسی جیل میں پڑا ہوا اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہا ہے۔ یہ خبر ساری دنیا کے میڈیا میں چھپی۔ بعد میں اس پر “دی سیکرٹ آف دی آسٹرین سیلر” کے نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی۔ کہانی کی تفصیل جاننے کے لیے آپ گوگل بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھیانک کہانی میں نے لاہور میں بلی کے بچے کے ریپ والے ظالمانہ واقعے پر سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردعمل کو دیکھ کر سنانے کی کوشش کی ہے۔ کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ اس واقعے کو آسٹریا کے لیے بحثیت مجموعی ایک تہمت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک نفسیاتی بیمار شخص کا فعل ہے اور اس میں میں آسٹریلیا کی حکومت وقت یا قوم کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اسی طرح بلی کے ساتھ ریپ بھی ایک شخص کا فعل ہے۔ اس پر ساری قوم کو ذہنی بیمار قرار دینا نامناسب ہے۔

اس طرح کے بھیانک اور عجیب واقعات کہیں بھی ہو سکتے ہیں۔ ہاں البتہ ایسے واقعے کے بعد کیا ہوتا ہے۔ حکومت، میڈیا اور عام لوگ کا رویہ کیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ مثلا آسٹریا میں جب یہ واقعہ ہوا تو اس پر انصاف ہوا۔ ملزم جیل میں ہے۔ اور وہ لوگ جن کے ساتھ ظلم ہوا تھا ان کو ہر طرح کی امداد مہیا کی گئی۔ خاص طور پر نفسیات مدد برسوں تک جاری رہی جب تک کہ وہ سب لوگ اس دکھ اور ڈیپریشن سے باہر نہیں آ گئے۔

پاکستان میں شاید ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ بلی کے ریپ کا ملزم ایک بچہ ہے۔ اسے بہت نفسیاتی امداد کی ضرورت ہے۔ اسے وہ امداد ملنی چاہیے۔ اسی طرح سے ملزم کے گھر والوں کا بھی اس میں کوئی قصور نہیں ہو گا، لیکن میڈیا کی بے احتیاطی کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں بھی بہت اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس لیے اس معاملے پر قوم کے لتے نہ لیں۔ حکمرانوں کی نااہلی اور غلط پالیسیوں کے پول کھولنے کے لیے ہہت اہم اور حقیقی مسائل پر بات ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر قوم حکمرانوں کی کوتاہی، نااہلی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے بھگت رہی ہے۔ مذہب کا سیاسی استعمال، بچوں کے لیے معیاری تعلیم کا فقدان اور غلط دفاعی پالیسی ہمیں بربادی کی جانب دھکیل رہی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ہم پانچواں بڑا ملک ہیں جبکہ انسانی ترقی کے حوالے سے ہمارا نمبر 152 ہے۔ اس لیے اصل مسائل پر توجہ دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 236 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply