انور کیتھران کا قتل اور حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انور کیتھران کا تعلق بلوچستان کے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقے بارکھان سے تھا۔ وہ دوسرے مقامی لوگوں کے برعکس تعلیم یافتہ بھی تھا اور غالبًا ھیلتھ اینڈ ایجوکیشن میں کوئی ڈگری بھی لی تھی۔ سیاسی طور پر وہ میر حاصل بزنجو کی بلوچستان نیشنل پارٹی سے وابستہ تھا لیکن اس کے پاس کوئی تنظیمی عہدہ نہیں تھا۔

سوشل میڈیا پر اسے ایک صحافی بتایا جا رہا ہے لیکن حقیقت بہر حال یہ ہےکہ وہ صحافی بھی نہیں تھا کیونکہ کسی اخبار، چینل یا اہم ویب سائٹ سے اس کی وابستگی نہیں تھی بلکہ مقامی معاملات اور سیاسی خیالات کے اظہار کے لئے صرف اپنا فیس بک پیج چلاتا تھا جس کا دائرہ اثر صرف بارکھان کی مقامی سیاست یا ایک صوبائی وزیر عبدالحمٰن کیتھران پر الزامات اور اس کی مخالفت تک ہی محدود تھا۔

23 جولائی کی شام انور کیتھران نے بارکھان شہر سے گھر کے لئے کچھ سودا سلف خریدا اور اپنے موٹر سائیکل پر اپنے گاؤں بستی نالہ کے لئے روانہ ہوا، جو تقریبًا پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، راستے میں ناہر کوٹ یونین کونسل کے قریب پیچھے سے آنے والے دو موٹر سائیکل سواروں نے اسے اوور ٹیک کیا اور تھوڑا سا آگے جاکر انور کیتھران کا راستہ روکا تو اس نے فورًا اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر دی او اپنی پسٹل نکال دی لیکن اس سے پہلے کہ وہ فائر کرتا مخالف سمت سے فائرنگ میں پہل ہوئی اور انور کیتھران موقع پر جان بحق ہوئے۔

واقعے کے دو گھنٹے بعد انور کیتھران کے بھائی اکبر خان کیتھران نے تھانہ لیوی ناہر کوٹ میں اپنے بھائی کے قتل کا مقدمہ درج کراتے ہوئے صوبائی وزیر عبدالرحمٰن کیتھران اور ان کے دو گارڈز نادر جان اور آدم خان پر کو نامزد کیا اور بتایا کہ انور کیتھران کو صوبائی وزیر کے اشارے پر قتل کیا گیا ہے کیونکہ انور کیتھران عبدالرحمٰن کیتھران کی مبینہ کرپشن کو سوشل میڈیا پر سامنے لاتا رہا، یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سوشل میڈیا پر انور کیتھران کا رویہ بہت جارحانہ تھا اور وہ اکثر مخالفین کے نام لے لےکر ان پر سنگین بد عنوانیوں کے الزامات لگاتا رہتا تھا

 گویا معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے لیکن کیا حرج ہے کہ ذاتی نوعیت کے معاملے کے پس منظر کا کھوج لگایا جائے۔

پہلے انور کیتھران کی بات کرتے ہیں۔ وہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان تھا لیکن اس کی نفسیات اور رویے پر تعلیم کی بجائے قبائلی طرز معاشرت نے زیادہ اثر ڈالا۔

پچھلے سال بلوچستان کے علاقے کان مہتر زئی کے برفانی طوفان سے ایک بلوچ نوجوان نے ڈیڑھ سو افراد کو زندہ نکالا تو میں نے اس نوجوان کے لئے ایک تعریفی کالم لکھا جو فورًا سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔

دوسرے دن ایک انجانے وٹس ایپ نمبر سے میری تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے پیغامات ملنے لگے جسے میں نے غیر ضروری سمجھ کر بغیر شکریہ ادا کئے نظر انداز کیا لیکن شام کو اسی نمبر سے فون آ گیا۔ تعارف ہوا تو وہ انور کیتھران تھے خود کو صحافی بتایا اور ضلع بار کھان کا ذکر کیا تو میرے لئے ایک دم اہم ہو گئے کیونکہ بڑے شہروں اور چینلوں سے چمٹے صحافیوں، ادیبوں اور شاعروں کی نسبت مجھے وہ باصلاحیت لوگ زیادہ اپیل کرتے ہیں جن کا تعلق دور افتادہ اور مضافاتی علاقوں سے ہو۔

سو اب مسلسل انور کیتھران کے پیغامات ملتے رہے جس کی تان ہمیشہ میری بے مقصد تعریف اور چند مقامی سیاستدانوں خصوصًا ایک صوبائی وزیر کی کرپشن پر ہی ٹوٹتی۔ جلد ہی یہ بھی پتہ چلا کہ انور کیتھران صحافی نہیں بلکہ صرف فیس بک کی حد تک سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ہی ہے۔ سو میری کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی اور رابطہ منقطع کر دیا۔

اب آتے ہیں صوبائی وزیر سردارعبدالرحمٰن کیتھران کی طرف سردار صاحب بلوچستان کے انتہائی پسماندہ اور دور افتادہ ضلع بار کھان کے مقامی سردار ہیں سو سرشت میں وہی ہے جو اس قبیلے (سرداروں اور نوابوں) کا خاصہ ہے یعنی طاقتوروں سے نباہ کر رکھنا اور طاقت ھاتھ میں رکھنا۔ سردار عبدالرحمٰن کیتھران کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کےان فراریوں سے مذاکرات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جو پہاڑوں پر چلے گئے تھے۔

سردار کیتھران نے بہت سے فراریوں کو سرنڈر کروا کر انہیں پہاڑوں سے نیچے اُتارا اور ان کے گھروں پر پاکستان کے جھنڈے لہرائے۔ یہ کام یقینًا قابل ستائش ہے لیکن سردار صاحب آخر سردار ہی ہیں اس لیے معاوضہ وصول کرنے کا فن خوب آتا ہے تبھی تو وہ پانچ چھ بار مسلسل بلوچستان اسمبلی میں بھی پہنچے اور وزیر بھی بنے۔ اس وقت بھی وہ بلوچستان حکومت میں صوبائی وزیر بہبود آبادی ہیں۔

سو حقائق یہی ہیں کہ انور کیتھران تعلیم یافتہ لیکن کچھ زیادہ ہی جارحانہ تھا اور وہ پرانے سیاسی کھلاڑی کو سوشل میڈیا کے ذریعے “ گندہ” کرکے خود اس کی “جگہ” لینا چاھتا تھا جبکہ صدیوں کے تاریک اور بہیمانہ طلسم کا پروردہ سردار اسے اکھاڑے میں اُترنے کے قابل ہی نہیں سمجھ رہا تھا۔ اس لئے تو بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بھی اپنے اس “ننھے اور نوزائیدہ” حریف کا ذکر لے بیٹھا تھا۔

گویا انور کیتھران آگے آنا چاھتا تھا اور سردار عبدالرحمٰن کیتھران اسے پیچھے دھکیلنا چاہتے تھے اور اسی دھکم پیل میں انور کیتھران اپنی نا تجربہ کاری اور کم طاقتی کے سبب کھیل سے باہر ہوا اور ان بد بخت معاشروں میں تو ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *