کلبھوشن یادیو ’صدارتی فرمان اور ادریس خٹک کی مثلث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

متحرک اور حکومتی فکر و استدلال کے لئے ناگزیر قانونی معاون/ وکیل ’وفاقی وزیر قانون‘ جناب بیرسٹر فروغ نسیم نے فرمایا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینے کے لئے صدارتی آرڈیننس کے اجراء سے حکومت نے بھارت کے ہاتھ کاٹ دیے ہیں ”یہ بات درست ہے یا نہیں لیکن یہ بات۔ طے ہے کہ اس آرڈیننس اور اس کے اجراءکے پر اسرار طریقہ کار سے ملک میں آئینی طرز حکومت و انصرام کی ناک ضرور کٹ گئی ہے۔

پہلے آرڈیننس کے اجراءپر بات کر لیتے ہیں آئین کے تحت۔ کسی ہنگامی صورتحال میں جبکہ قانونی بحران پیدا ہونے کا احتمال ہو اور پارلیمان کے فوری اجلاس کا امکان یا انتظار کرنا ممکن نہ ہو تو حکومت کسی قانون و ضابطے میں فوری ترمیم کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری کر سکتی ہے اور دفعہ 267 / 2 کہتی ہے

” شق (i) کے تحت صادر شدہ کوئی فرمان (صدارتی ) بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے (پارلیمنٹ ) دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک کہ کوئی ایوان اسے نامنظور کرنے کی قرارداد منظور نہیں کرتا یا دونوں ایوانوں میں اختلاف کی صورت میں اس وقت تک جب تک ایسی قرارداد مشترکہ اجلاس میں منظور نہ ہو جائے“

دستور کی شق (i) 89 کہتی ہے۔

” صدر سوائے جبکہ سینٹ یا قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہو اگر اس بارے میں مطمئن ہو کہ ایسے حالات موجود ہیں جس کی بناءپر فوری کارروائی /اقدام ضروری ہے تو وہ حالات کے تقاضے اور ضرورت کے مطابق آرڈیننس وضع اور نافذ کر سکے گا“

89 / 2 دوئم۔

”دونوں ایوانوں کے سامنے اپنے نفاذ سے ایک سو بیس دن کے اختتام پر یا اگر دونوں میں سے کوئی ایوان اس مدت کے اختتام سے قبل نامنظوری کی قرارداد پاس کر دے تو اس قرارداد کے پاس ہونے پر (صدارتی فرمان ) منسوخ قرار پائے گا“

کلبھوشن ترمیمی صدارتی فرمان 20 مئی 2020 ءکو جاری و نافذ ہوا جبکہ 11 مئی سے پارلیمان کے اجلاس شروع ہو چکے تھے گویا دفعہ 89 / 1 کے مطابق اس عرصہ میں صدارتی فرمان کے اجراءکا اختیار معطل شدہ تھا علاوہ ازیں دستور کے مطابق اس فرمان کو پارلیمان کے اجلاس میں جبکہ بجٹ کے معاملات مکمل ہو چکے تھے بھی لازمی طور پر پیش کرنے کی آئینی قدغن تھی مگر حکومت نے اس فرمان کو نہ صرف پارلیمان کے کسی اولین اجلاس میں توثیق کے لئے پیش نہیں کیا بلکہ حیرت انگیز طور پر جولائی 2020 ءتک اس فرمان کو مخفی رکھا گیا جو سراسر آئین شکنی کے مترادف عمل ہے۔

23 جولائی کو قومی اسمبلی میں آڑڈیننس پیش کیا گیا ہے جہاں سے تاحال اس کی توثیق نہیں ہوئی سینٹ میں اس کی توثیق ناممکن تو نہیں لیکن انتہائی مشکل دکھائی دے رہی ہے اگر سینٹ نے فرمان منسوخ کرنے کی قرارداد منظور کر لی تو مسئلہ پیچیدہ ہو جائے گا آئین کی دفعہ 89 / 2۔ دوئم کے مطابق فرمان غیر موثر ہو جائے گا اور اگر قومی اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے تو معاملہ مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں پیش ہوگا اس دوران فرمان کی حیثیت سینٹ کی عدم توثیق کی قرارداد کے تحت منسوخ تصور ہوگی؟ یا قومی اسمبلی کی رائے کو فوقیت ملے گی؟ میرے خیال میں کسی ایوان کی رائے کو دریں حالات فوقیت دینا ناپسندیدہ ہوگا البتہ صدارتی فرمان متنازعہ ہو چکا ہو گا اور اس کی قانونی ساکھ مجروح۔

دوسرا نکتہ تکنیکی ہے وزیر قانون کا کہنا ہے کہ صدارتی فرمان کا اجراء آئی جے سی ’عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کے تحت ناگزیر ضرورت بلکہ پابندی تھی وکلاءکا ایک بڑا حلقہ اس استدلال سے متفق نہیں کہ فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود نہیں متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن میں فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دہشت گردوں نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں جہاں فوجی عدالت کے فیصلوں میں ردوبدل ہوا یا تنسیخ۔

اب سوال یہ ہے کہ آئی جے سی کے فیصلے میں جس طرح کے اقدامات کی ہدایت کی ہے اور بقول فروغ نسیم پاکستان ان پر عمل کا پابند ہے وہ ”نتیجہ خیز اقدامات ہیں“

اس لفظ کے مفہوم و اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیا فوجی عدالت سے سنائی گئی سزا۔ نتیجہ خیز نہیں؟ اگر اس فیصلے پر عمل ہو تو کیا ایک امر واقع بطور نتیجہ سامنے نہیں آئے گا؟

تو پھر آئی جے سی کس نوعیت کے نتیجے کی مانگ کر رہی ہے؟ میری رائے میں آئی جے سی اس جملے میں (جس کو حکومت پاکستان نے بہت اہمیت بھی دے دی ہے) دراصل فیصلے میں نتیجہ خیز تبدیلی چاہتی ہے شاید وہ کلبوشن یادیو کی سزائے موت کو عمر قید یا معینہ مدت کی سزا قید میں بدلنے جیسا نتیجہ خیز اقدام چاہ رہی ہے! کیا حکومت پاکستان اسی جانب بذریعہ صدارتی فرمان عملاً پیشرفت کی تیاری کر رہی ہے؟

کلبوشن یادیو نے جیسا کہ اس پر الزام لگایا گیا ہے کہ بلوچستان میں تشدد خیز کارروائیوں کی معاونت کی بیسیوں افراد کو قتل کروایا یہ سنگین الزام ہے ایسا ہی الزام احسان اللہ احسان پر بھی تھا جواب ریاستی اداروں کی حراست سے فرار نما رہائی کے بعد ملک سے باہر جا چکا ہے۔ پہلا مطالبہ تو یہ ہے کلبھوشن یادیو کے جرائم چونکہ بلوچستان میں وقوع پذیر ہونے لہذا اس کے مقدمے کی اپیل کی سماعت بلوچستان ہائی کورٹ کرے اور ثانوی طور پر میں یہ بھی عرض کروں گا کہ اگر احسان اللہ احسان اپنے جرائم کی سزا سے بچ سکتا ہے تو کسی بھی ”نتیجہ خیز اقدام“ کے بعد کلبھوشن یادیو کے بچ جانے پر ہمیں دکھ کا اظہار تو کرنا ہوگا حیرت کا نہیں!

کے پی کے کے ممتاز سیاسی سماجی رہنماءادریس خٹک چھ ماہ کے زیادہ عرصہ سے لاپتہ تھے اب جبکہ ان کا پتہ معلوم ہوا ہے تو ان کے اہل خانہ نے پشاور ہائی کورٹ میں بازیابی کی درخواست دائر کی جس کے جواب میں بتایا گیا کہ ادریس خٹک پر فوجی عدالت میں آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چل رہا ہے اور اس ایکٹ کے تحت زیر سماعت مقدمے کے ملزم کا کسی دوسری عدالت میں رہائی یا بازیابی کا مقدمہ نہیں چل سکتا پشاور ہائی کورٹ نے اس دلیل کو قبول کیا اور ادریس خٹک کی درخواست خارج کر دی اگر پاکستان کے اپنے شہری کے خلاف نامعلوم الزامات کے تحت آرمی ایکٹ کے تحت زیر سماعت مقدمے پر عدالت عالیہ مداخلت نہیں کر سکتی تو سوال تو ابھرئے گا کہ ملک میں سپریم لاءکون سا ہے؟ آئین پاکستان یا آرمی ایکٹ؟ کلبھوشن یادو کے لئے صدارتی فرمان جاری کر کے ایسے نتیجہ خیز موقع دینے والوں نے یقیناً ان سوالات سے چشم پوشی کی ہے۔ جس سے شہری اور ریاست کے درمیان قابل اعتماد و پر از یقین قائم ہو نے والے بہ دیگر۔ شہری اور ریاست کے سیاسی تعلق میں دراڑ کا پیدا ہونا بعیداز قیاس نہیں۔

کلبھوشن کے لیے صدارتی مخفی فرمان اور ملکی سیاسی کارکن ادیس خٹک کے ساتھ یکسر مختلف رویے کی اس تکون کے منفی خدشات کو نگاہوں سے اوجھل کیا جانا۔ پاکستان کو آئینی ریاست کے رتبے سے گرا کر سلطلنت بنانے کے مترادف ہے جو تشویشناک امر ہے۔ شہری اور ریاست کا باہمی اعتماد مجروح ہو جائے تو بحالی میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ پھر شیشے میں لکیر موجود رہتی ہے۔ ٹوٹے خوابوں اور شیشیوں کا مسیحا تاریخ انسانی دریافت کر سکی ہے نہ تشکیل۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *