بھارت اور پاکستان: ایٹم بم زیادہ، ایٹمی توانائی کم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے 75 سال قبل 16 جولائی 1945 کو امریکہ نے پہلی مرتبہ ایٹمی دھماکہ کیا۔ انسان نے ایٹم کو پھاڑ کر توانائی حاصل کرنے کا راز دریافت کر لیا تھا۔ چند ہفتوں کے بعد 6 اگست کو یہ بم قیامت بن کر جاپان کے شہر ہیرو شیما پر گرا۔ اس وقت سے اب تک اس ٹیکنالوجی کے دو اہم استعمال رہے ہیں۔ ایک تو جنگی مقاصد کے لئے ایٹم بم یا جوہری بم تیار کرنا اور دوسرے پر امن مقاصد کے تحت جوہری توانائی حاصل کر کے اس سے بجلی بنانا۔

1949 میں سوویت یونین نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا۔ 1952 میں برطانیہ اور 1960 میں فرانس اور 1964 میں چین ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو چکے تھے۔

1974 میں برصغیر بھی اس دوڑ کی لپیٹ میں آ گیا۔ اور بھارت جزوی کامیاب ایٹمی دھماکہ کر کے ایٹمی کلب میں شامل ہو گیا۔ 1998 میں بھارت نے کئی ایٹمی دھماکوں کا کامیاب تجربہ کیا اور ہائیدروجن بم بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی۔ اور اس وقت بھارت کی حکومت، سیاستدانوں اور عوام کی وہی کیفیت تھی، جیسے کسی دو سال کے بچے کے ہاتھ میں رنگین جھنجھنا آ جائے تو اسے بجا بجا کر سب کا جینا حرام کر دیتا ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ دو ہفتوں کے بعد پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کر کے اپنی جوہری صلاحیت کا اعلان کر دیا۔ اسی وقت بھارت کی لوک سبھا میں اپوزیشن نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ بی جے پی کی حکومت جو چند روز پہلے سڑکوں پر لڈی بھنگڑے ڈالتی نظر آ رہی تھی، اب پاکستانی حکومت کی سخت بیانی کا شکوہ کر رہی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ برصغیر میں اس دوڑ کی ذمہ دار بھارت کی حکومت ہے۔

اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں کس ملک کے پاس کتنے جوہری بم ہیں؟ 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں اس وقت چودہ ہزار کے قریب جوہری بم موجود ہیں۔ ان میں سے نوے فیصد بم روس اور امریکہ کے پاس ہیں۔ 6490 جوہری بموں کے ساتھ روس سب سے آگے ہے اور 6185 بموں کے ساتھ امریکہ کا دوسرا نمبر ہے۔ اور ان دونوں ممالک نے ماضی میں ایک معاہدے کے تحت اس تعداد میں تدریجی کمی کی ہے۔

اس کے بعد فرانس کے پاس تین سو چین کے پاس 290 اور برطانیہ کے پاس دو سو جوہری بم ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اپنے تمام مسائل اور مقروض معیشت اور مفلوک الحالی کے با وجود اس لحاظ سے پاکستان دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے اور پاکستان کے پاس 160 جوہری بم موجود ہیں۔ بھارت کے اسلحہ خانے میں 140، اسرائیل کے پاس نوے اور شمالی کوریا کے پاس تیس جوہری بم ہیں۔

یہ اعداد و شمار واضح کر رہے ہیں کہ باہمی رقابت کے جذبے کے تحت بھارت اور پاکستان نے اجتماعی خود کشی کا یہ سامان جمع کر کے دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ لیکن اس سائنس سے کچھ مثبت مقاصد بھی تو حاصل کیے جاتے ہیں۔ یعنی جوہری توانائی حاصل کر کے بجلی بھی تو پیدا کی جاتی ہے۔ یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ اس اعتبار سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟

اس وقت 31 ممالک جوہری ذرائع سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس ذریعہ سے مختلف ممالک کتنی بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ [نیچے بجلی کی پیداوار کے تمام اعداد و شمار گیگا واٹ آورز Gegawatt Hoursمیں دیے گئے ہیں۔ ] اس لحاظ سے امریکہ سب سے آگے ہے اور وہاں پر آٹھ لاکھ گیگا واٹ آورز سے زائد کی مقدار میں بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ فرانس دوسرے نمبر پر ہے اور وہاں پر تین لاکھ بیاسی ہزار گیگاواٹ آورز کی مقدار میں بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ فرانس، سلوویکیا اور یوکرین پچاس فیصد سے زائد بجلی کی ضرورت جوہری ذرائع سے پوری کر رہے ہیں۔ بلجیم اورہنگری نے کبھی ایٹم بم نہیں بنایا لیکن وہ اپنی بجلی کی ضرورت کا چالیس فیصد سے زائد جوہری ذرائع سے پیدا کر رہے ہیں۔

اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس لحاظ سے پاکستان کہاں پر کھڑا ہے؟ گزشتہ سال پہلے دس ماہ میں پاکستان میں جوہری ذرائع سے صرف تین ہزار گیگاواٹ آورز کے قریب بجلی پیدا کی جا رہی تھی جو کہ ہماری بجلی کی مجموعی پیداوار کا صرف تین فیصد تھی۔ یہ پہلو خوش کن ہے کہ اس سال پہلے دس ماہ میں جوہری ذرائع سے سات ہزار گیگاواٹ آورز بجلی پیدا کی گئی ہے اور یہ ہماری بجلی کی پیداوار کا 8 فیصد ہے۔

بھارت جوہری بموں کی تعداد میں ہم سے پیچھے ہے لیکن وہ اس طریقے سے چالیس ہزار گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کر رہا ہے یعنی ہمارے سے پانچ گنا زیادہ۔ لیکن یہ پیداوار بھارت کی بجلی کی پیداوار کا صرف تین فیصد ہے۔ دنیا کے اور بہت سے چھوٹے ممالک ہیں جنہوں نے کبھی ایٹم بم بنانے کا تکلف تو نہیں کیا لیکن وہ اس سائنس کی مدد سے بہت زیادہ بجلی پیدا کر کے اپنے عوام کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

بلغاریہ کی کل آبادی صرف ستر لاکھ ہے۔ وہ اپنی بجلی کی ضرورت کا 37 فیصد جوہری ذرائع سے پیدا کرتے ہیں اور اس ذریعہ سے وہ پاکستان کی نسبت دو گنا بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ چیک ریپبلک کی آبادی ایک کروڑ ہے یعنی کراچی سے بھی کم۔ انہوں نے کبھی ایٹم بم نہیں بنایا لیکن وہ ہماری نسبت جوہری ذرائع سے ڈھائی گنا زیادہ بجلی بنا رہے ہیں۔ کینیڈا کے پاس ایک بھی ایٹم بم نہیں لیکن وہ جوہری طریق پرہمارے سے گیارہ گنا زیادہ بجلی پیدا کر رہا ہے۔

فن لینڈ ننھا سا ملک ہے۔ صرف پچاس لاکھ کا۔ وہ اس طریق پر ہم سے تین گنا زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ اور ان کی ایک تہائی ضرورت اس طریق سے پوری کی جاتی ہے۔ سویڈن والوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا کہ وہ ایٹم بم بنائیں۔ پر وہ جوہری طریق سے 66 ہزار گیگاواٹ آورز سے زائد بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ اور ایسی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت نے جوہری صلاحیت پیدا کی تو سارا زور ایٹم بم بنا نے اور ان کی تعداد میں اضافہ کرنے میں لگا دیا۔ اس میدان میں دوسرے کئی ممالک کی سائنسی صلاحیت کم تھی لیکن انہوں نے اس سائنس کو اپنے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے استعمال کیا۔

یہ ٹھیک ہے کہ سویٹزرلینڈ، جرمنی اور جاپان جیسے ممالک اب رفتہ رفتہ توانائی کے لئے جوہری طریق پر انحصار کم کر رہے ہیں لیکن اب ان کے پاس متبادل ذرائع موجود ہیں اور وہ کئی دہائیوں سے اس ذریعہ سے جی بھر کے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے ہماری طرح اپنے عوام کو لوڈ شیڈنگ کا نشانہ نہیں بننے دیا۔ بے شک اس سلسلہ میں کئی رکاوٹیں ہوں گی۔ نئے پلانٹ لگانے پڑیں گے اور خام جوہری ایندھن یعنی یورینیم کا حصول بھی ایک مسئلہ ہو گا۔

لیکن اگر ہم ایٹم بموں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لئے ساری رکاوٹیں دور کر سکتے ہیں تو اپنا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے بھی یہ رکاوٹیں دور کر سکتے ہیں۔ اور گزشتہ ایک سال میں اس صلاحیت میں جو اضافہ ہوا ہے وہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ کام نا ممکن نہیں ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ اس بحث میں الجھتی رہتی ہیں کہ ایٹمی دھماکوں کا سہرا کس کے سر ہے؟ یہ پروگرام نہیں پیش کرتیں کہ اس طریق سے اپنے ملک کے اندھیرے کس طرح دور کرنے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ قومی اسمبلی کی توانائی کمیٹی جوہری سائنسدانوں کو دعوت دے کر ان سے مشورہ کرے کہ اس سلسلہ میں کیا اقدامات ممکن ہیں اور اس میدان میں پیش رفت کیسے کرنی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *