اہل بونیر کی سادگی اور گابا پبلشرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی ملک میں پڑھایا جانے والا نصاب تعلیم اس معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ عام طور پردنیا کے دوسرے ممالک میں نصاب کواس طرح بنایا جاتا ہے جو کہ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی میں موثر کردار ادا کرسکے۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم خامیوں سے بھرا پڑا ہے۔ ایک طرف ایک ہی ملک میں مختلف قسم کے تعلیمی ادارے ہے۔ جو کہ مختلف قسم کی ذہنیت تیارکر رہے ہیں۔ مدارس، سرکاری سکول، نجی تعلیمی ادارے (عام پرائیویٹ سکول، بیکن ہاؤس، سٹی سکول سسٹم وغیرہ وغیرہ) جو کہ ہمارے معاشرے میں مختلف قسم کے درجہ بندی کر رہے ہے۔

مدارس کا نصاب اہل سنت، دیوبندی، بریلوی، پنج پیری، شیعہ اور سنی مسالک کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ جو کہ مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے۔ اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لئے میدان ہموار کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ مدرسہ اور سکول کے پڑھے ہوئے لوگوں کے درمیان ایک بڑی نظریاتی کشمکش کی دیوار بن رہی ہے۔ جوکسی بھی قیمت پر ایک دوسرے کو قابل قبول نہیں ہے۔

اسکے علاوہ انگریزی تعلیم کے اندر بھی مختلف قسم کے درجہ بندیاں ہو رہی ہیں۔ غریب طبقہ اور بعض درمیانی طبقے کے والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرتے ہے جہاں پر بیٹھنے کے لئے نہ کرسیاں ہوتی ہیں نہ پینے کے لئے پانی۔ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ دوسرے طرف امیر طبقے کے لوگ اپنے بچوں کو بہترین پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرتے ہے جہاں پر انکوجدید تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے طورطریقے بھی سکھائے جاتے ہیں، ان سکولوں کے طلبعلم سرکاری سکولوں اور مدارس کے پڑھے ہوئے طالبعلموں سے بدرجہا بہترہوتے ہے۔ لیکن جب مقابلے کا امتحان ہوتا ہے تومحمود و آیاز ایک صف میں کھڑے ہوتے ہے جو کہ سراسر نا انصافی ہے۔ ہماری نظام تعلیم معاشرتی اور معاشی دیواریں کھڑی کررہی ہے جو کہ مستقبل قریب میں ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک طرف سرکاری سکولوں میں ٹیکسٹ بک بورڈ کی بنائی گئی نصاب پڑھایئی جاتی ہے جوکہ ایک خاص قسم کی ذہنیت کی تیاری میں کارگر ثابت ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر 80 کی دہائی میں پاکستان امریکہ کے اتحادی تھا اور اس وقت سوویت یونین کے خلاف امریکہ سردجنگ میں مصروف تھی جس کو پاکستان کی سخت ضرورت تھی تاکہ سوویت یونین کو شکست دے۔ اصل میں یہ جنگ اشتراکی اور سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان تھی۔ امریکہ جواس وقت سرمایہ داروں کی سربراہی کررہی تھی اس نے کمیونسٹ سوویت کو قابوکرنے کے لئے پاکستان طرف دیکھا جو کہ اس وقت کے آمرضیالحق نے اپنے حکومت کوبچانے کے لئے ایک موقع سمجھ کر بھرپورمدد کی۔

تعلیم نصاب میں اشتراکی نظام کے خلاف اور جہاد کے بارے میں قرآنی آیات شامل کی جوکہ بڑی حد تک اپنے مقصدمیں کامیاب ہوگئی۔ اشتراکی سوویت یونین کے خلاف امریکہ کے اتحادی نے پاکستانی اور افغانی مجاہدین کی مدد سے یہ جنگ جیت لی۔ اصل میں ہمارا جنگ اشتراکیت سے نہیں تھا بلکہ سوویت یونین سے تھا اگر ہمارا جنگ اشتراکیت سے ہوتھا تو ہمارا سب سے اچھادوست چین بھی تو اشتراکی نظام کے مطابق اپنا نظام چلارہا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے ہم نے اپنے ایک ہمسایہ سے ہمیشہ کے لئے دشمنی مول لی۔ جس کے اثرات اب تک علاقائی سیاست میں نظرآرہے ہے۔

اسکے علاوہ بعض پرائیویٹ پبلشر ایک علاقے کے لوگوں جوکہ انتہائی سادہ لوح اور مہمان نواز ہیں کی تضحیک کرکے نصاب کا حصہ بنارہے ہے جوکہ اس علاقے کے باسیوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ ہمارے ہاں جولوگ فراڈی اور دو نمبر کے ہوتے ہیں ان کو عقلمند اور چالاک کہاجاتا ہے ۔ لیکن جولوگ ضلع بونیر کے لوگوں کی طرح سادہ لوح اور انکسارہو وہ بیوقوف اور کم عقل ہے۔ یہ بات گابا پبلیشرزنے ساتویں جماعت کے انگلش کی کتاب میں شامل کی ہے۔ گابا کو چاہیے کہ اس کے بجائے وہ بونیر کی تاریخ کو اس کورس کاحصہ بناتے جس سے اس علاقے کے لوگوں کے قربانیوں کے بارے میں ہمارہے بچوں کو پتہ چلتا۔

لیکن گابا پبلشرز نے اپنے پیمانے میں بونیرکے عوام کو بیوقوف قرار دیا ہے جو کہ ایک غیر ذمہ دارانہ قدم ہے۔ گابا پبلشرز کو اس پرحرکت پربونیرکے عوام سے معافی مانگنی چاہے۔ اور حکومت کوبھی اس طرح کے نفرت آمیز مضامین کی حوصلہ شکنی کرنا چاہے جونصاب تعلیم کاحصہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حسن شاہ، بونیر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply