کراچی میں لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسٹ انڈیا کمپنی کا نام کس نے نہیں سنا۔ ۔ ۔ لیکن سمجھ کبھی نہیں آیا تھا کہ ایک کمپنی پوری کی پوری سونے کی چڑیا کو کیسے نگل سکتی ہے؟ لیکن اب سمجھ آتا ہے۔ جب ہمارے ہمدرد، پیارے سیاستدان منہ بھر بھر کر کے الیکٹرک کو قاتل الیکٹرک، مافیا اور غنڈہ قرار دیتے ہیں۔ ایسا ڈھیٹ جو وزیراعظم پاکستان کے بھاشن پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ حکومتیں اسے ریلیف دے دے کر اور عوام کو جھوٹے سپنے دکھا دکھا کر تھک گئے لیکن یہ سب کو چکمہ دے جاتا ہے تو چلیں نئے دور کی ایسٹ انڈیا کمپنی پر اک نظر ڈال لیتے ہیں

پاکستان کی تشکیل سے کئی برس قبل 1913 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی بنیاد رکھی گئی۔ ادارہ کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ لیکن ستر اور اسی کی دہائی میں سندھ میں لوٹ مار اور لسانیت کا جو بازار گرم ہوا اس کا اثر ہر ادارے پر نظر آتا ہے۔ ہر سرکاری محکمے کی طرح کے ای ایس سی میں بھی من پسندبھرتیاں اور کرپشن کا سلسلہ شروع ہوا۔ سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے ہر شخص نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ صولت مرزا کو جن شاہد حامد صاحب کے قتل کے جرم میں پھانسی ملی وہ کے الیکٹرک کے ایم ڈی ہی تھے۔

بہرحال ان تمام اقدامات کی بدولت۔ ۔ ۔ کے الیکٹرک سفید ہاتھی بن گیا اور خسارہ بڑھتے بڑھتے 17 ارب سے تجاوز کرگیا۔ مشرف دور میں کمپنی کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت کمپنی کے اثاثوں کی مالیت دو سو ارب سے زائد تھی اور اسے بلنگ کی مد میں صارفین سے 29 ارب روپے وصول کرنے تھے۔ اس کے باوجود 2005 میں اسے صرف 15 ارب 86 کروڑ روپے میں کوڑیوں کے مول خلیجی کمپنی کو فروخت کر دیا گیا۔ 2005 سے 2008 تک الجمعیہ گروپ جب جی بھر مال سمیٹ چکی تو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑی خاموشی سے ادارے کے اکثریتی حصص ابراج گروپ کے ہاتھوں فروخت کردیے۔

ابراج گروپ نامی نجی کمپنی کا بجلی کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں بلکہ یہ وہی مالیاتی کمپنی ہے جو ابراج کیپٹل لمیٹڈ کے نام سے مشہور ہے۔ جس کے سابق چیف ایگزیکٹو عارف نقوی کو گزشتہ سال اپنے سرمایہ کاروں سے اربوں روپے کا فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں لندن ائرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اندازہ ہے کہ انہوں نے بل گیٹس سمیت درجنوں سرمایہ کاروں کے 385 ملین ڈالرز کی رقم کو اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیا۔

آج کل وہ لندن میں ہیں جہاں انہیں امریکہ حوالگی کے حوالے سے مقدمے کا سامنا ہے۔ اگر فراڈ کے مقدمے میں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تو انھیں 291 سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ عارف نقوی کے پاکستان کی سب با اثر سیاسی رہنماؤں سے قریبی تعلقات ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی خبر نے دنیا بھر میں تہلکہ مچایا۔ ۔ ۔ کچھ زیادہ پرانی بات نہیں خبرکے مطابق کے الیکٹرک کی فروخت میں معاونت کے حوالے سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی کو دو کروڑ ڈالر رشوت کی پیشکش کی گئی تھی اور رہی تحریک انصاف تو عمران خان اور عارف نقوی کی بہترین سدا بہار دوستی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ عارف نقوی وزیراعظم عمران خان کے دفتر میں ان سے ملاقاتیں کرتے رہے اور اہم میٹنگز کا حصہ بھی رہے ہیں۔

اماراتی اخبار ’دا نیشنل‘ کے مطابق لندن کی عدالت میں پراسیکیوٹر ریچل کپیلا نے عارف نقوی کی ضمانت کے حوالے سے کیس میں جج کے سامنے کہا: ’جب عارف نقوی کو لندن ائرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تو انہوں نے پولیس کو رابطے کے لیے مختلف فون نمبر دیے جن میں سے ایک نمبر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا تھا

بہر حال۔ ۔ ۔ ملک کی ایک اہم ترین ادارے کو خفیہ طریقے سے بیچنے پر جب حکومت پر تنقید بڑھ گئی تو 2009 میں ابراج گروپ اور حکومت کے درمیان معاہد ہ ہوا جو اپنی نوعیت کا انوکھا نمونہ ہی ہے۔ یہ معاہدہ آج تک مکمل طور پر تو منظر عام پر نہیں آ سکا جبکہ پیپلز پارٹی ایسے کسی بھی معاہدہ سے انکاری ہے۔ لیکن اس کے حوالے سے یہ بات تصدیق سے کہی جاسکتی ہے کہ معاہدہ میں کوئی ایسی شق نہیں جس سے کے الیکٹرک کو کسی خسارے کا سامنا ہو۔

معاہدے کے مطابق کے الیکٹرک کے اکتیس ارب روپے کے بقایا جات حکومتی خسارہ قرار دے کر معاف کیے گئے۔ کمپنی کی بینکوں کو ادائیگیوں کی گارنٹی بھی حکومت نے اٹھا لی۔ ترمیمی معاہدے میں کمپنی کو ملکی قوانین سے متصادم آرڈر پاس کرنے کا بھی اختیار ملا۔ اخباری خبر کے مطابق معاہدے میں صاف لکھا ہے کہ کمپنی درخواست دے تو ملکی قوانین سے متصادم آرڈرز کے حوالے سے ے حکومتی ادارے بھرپور معاونت کریں گے۔ (جنگ اخبار، 20 جولائی فرنٹ پیج)

معاہدے کے مطابق وفاقی حکومت اگلے پانچ برس تک کے الیکٹرک کونیشنل گرڈ سے 650 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی بھی پابند تھی اس دوران ادارہ کو بجلی پیداوار میں خود کفیل بنانا تھا۔ لیکن ایک دہائی گزرنے کے باوجود کے الیکٹرک نے بجلی پیداوار کا ایک منصوبہ بھی شروع نہیں کیا۔ جس کا اعتراف سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی نے خود کیا ہے۔ ۔ کے الیکٹرک پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے پلانٹس کو فرنس آئل کے بجائے گیس پر چلاتی ہے لیکن حکومت سے سستا آئل لے کر اسے پرائیویٹ کمپنیز کو بیچ دیتی ہے۔

کے الیکٹرک کی مالی بے قاعدگیوں پر ایف آئی اے کی رپورٹ کو جاری نہیں کیا جا رہا ، اس رپورٹ میں چشم کشا انکشافات ہیں جنہیں پڑھتے جائیں اور سر دھنتے جائیں۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے الیکٹرک کو بغیر کسی معاہدے کے چودہ سال سے گیس دے رہی ہے، جنوری دوہزار اٹھارہ میں کے الیکٹرک ایس ایس جی سی کی 89 ارب روپے کی نادہندہ تھی، گیس کم ملے تو پی ایس او کے الیکٹرک کو فرنس آئل فراہم کرتا ہے، ۔ کے الیکٹرک کو فرنس آئل گیس کی قیمت پر دیا جاتا ہے اور فرنس آئل کی حقیقی قیمت قومی خزانے سے ادا کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ میں سوئی سدرن کے ایم ڈی امین راجپوت کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جو کہ پہلے کے الیکٹرک کے چیف انٹرنل آڈیٹر رہ چکے ہیں۔

حال ہی میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کے الیکٹرک کو ضرورت اور مطالبے سے زیادہ بجلی تیل اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے بعد لوڈشیڈنگ نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ لیکن غضب کیا ترے وعدے پر اعتبار کیا۔ ۔ ۔ کے الیکٹرک کہتی ہے جن علاقوں میں بجلی چوری کی جاتی ہے وہاں لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ بجلی چوری پکڑنا کس کا کام ہے؟ میرا جو اس علاقے میں رہتی ہوں لیکن پورا بل ادا کرتی ہوں یا آپ کا جو بجلی چوری کی سزا مجھ جیسے صارفین کو دے رہے ہیں جن کا جرم اس علاقے میں رہائش ہے۔

کراچی والوں کے لیے کرنٹ کھا کر مرنا یا زندگی بھر کے لیے معذور ہوجانا نئی بات نہیں۔ سال 2019 میں صرف مون سون کے سیزن میں کرنٹ لگنے سے چالیس سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ نیپرا نے 19 ہلاکتوں کا ذمہ دارکے الیکٹرک کو قرار دیا۔ 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوا لیکن ادارے نے فوراً ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔ کے الیکٹرک کروڑوں کے وکیل تو کرلیتی ہے لیکن مرنے والوں کا ہرجانہ ادا کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔ مونس علوی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تقریباً سب لوگوں کو ہرجانہ ادا کر دیا ہے، لیکن اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ یہی ہے کہ لواحقین سے عدالت کے باہر سیٹلمنٹ کرلی جاتی ہے۔ کچھ دے دلا کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔ اگر ایک بار مکمل ہرجانہ ادا کر دیا تو روز کوئی نہ کوئی ان کے در پر کھڑا ہوگا۔ کیونکہ کے الیکٹرک کی مہربانیوں سے شہریوں کا مرنا تو روز کی کہانی ہے۔ سسٹم تو ٹھیک ہونے سے رہا

کے الیکٹرک ایک ایسی کتھا ہے جس کے ہر موڑ پر عجب کرپشن کی غضب کہانیاں ہیں، اس حمام میں ساری سیاسی جماعتوں کے کپڑے اترتے ہیں۔ لیکن جماعت اسلامی کے نظریے سے لاکھ اختلاف ہونے کے باوجود یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ وہ واحد جماعت ہے جس نے کراچی والوں کا مقدمہ احسن طریقے سے لڑا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان گزشتہ پانچ سال سے کے الیکٹرک کے خلاف صف آرا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی والوں کو اس اذیت سے نجات دلانے کا بس ا ایک ہی حل نظرآتا ہے کہ کے الیکٹرک کو تحویل میں لے کر اسے سات سے دس مختلف بجلی کی پیداوار میں خود کفیل کمپنیز کے سپرد کر دیا جائے تاکہ مقابلے کی فضا میں صارفین کا بھلا ہو۔ اس رپورٹ کی تیاری میں کے الیکٹرک سے ان کی رائے لینے کی متعدد کوششیں کی گئیں لیکن ادارے کی پی آر او نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا،

گزشتہ کچھ برسوں سے کے الیکٹرک اس کوشش میں ہے کہ اسے شنگھائی الیکٹرک کے ہاتھوں فروخت کر دیا جائے۔ لیکن ان کے ذمے جو بقایا جات ہیں وہ کون ادا کرے گا، ایف آئی اے کی رپورٹ میں بھی اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کسی بھی لین دین سے قبل ابراج کیپیٹل سے واجبات کی وصولی یقینی بنائی جائے۔ اس پورٹ میں مالی بے قاعدگیوں پرنیپرا اور اوگرا کی کوتاہیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اورکہا گیا ہے کے الیکٹرک کو فراخدلی کے ساتھ دی جانے والی مالی مراعات کرپشن کے زمرے میں آتی ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے بھی کے الیکٹرک کا لائسنس معطل کرنے کی سفارش کردی ہے۔ بہرحال نظر تو یہی آتاہے کہ مستقبل میں اگر کراچی والوں کی کے الیکٹرک سے جان چھوٹ بھی گئی تو اوہ اپنے پیچھے اتنے قرضے چھوڑ جائے گی کہ ریاست کا ہی دیوالیہ نکل جائے۔ ۔ ۔ اور حکومت کسی کی بھی ہو، سوائے ڈھول پیٹنے کے کچھ نہیں کرسکے کیونکہ بی لاڈو۔ ۔ ۔ سب کی نظروں کا تارا اورمن کا پیارا جو ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *