قربانی اور سائنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان ایک اسلامی جمہوری مملکت ہے جہاں مسلمانوں کو عبادات کی ادائیگی، تہذیب و ثقافت کے فروغ اور مزہی تہواروں کو اپنے عقائد کے مطابق منانے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ یہ روایت، عبادات اور تہوار ہماری اسلامی تہذیب و ثقافت کے آئینہ دار ہیں۔ ہمارے مذہبی تہواروں میں سب سے بڑا تہوار عید الاضحٰی ہے جو مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے مذہبی جوش وجزبے سے مناتے ہیں۔ یوں تو جہاں قربانی کے شرعی اور دینی مسائل کا علم ہر مسلمان کے پاس ہونا لازمی ہے وہاں قربانی کے عمل کے سائنسی حقائق کو جاننا بھی انتہائی ناگزیر ہے۔

یہاں پر ضرورت اس امر کی ہے کہ قربانی کے جانور کی بہتردیکھ بھال، مناسب اور سائنسی طریقے سے اسے زبح کرنے اور گوشت کے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق استعمال پر جامع بات کی جائے۔ یہ عمومی مشاہدہ ہے کہ قربانی کا گوشت عام طور پر سخت اور گہری رنگت کا ہوتا ہے جسے کھانے میں مطلوبہ زائقہ حاصل نہیں ہوتا۔ عام طور پر اس معاملے کی وجہ کو کسی الہامی مصلحت سے جوڑا جاتا ہے اور اس مسئلے کی سائنسی وج تلاش کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی جبکہ فطرت اور سائنس ہمیں اس مسئلے کی وجہ اور اس کا حل بتانے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

قربانی کے گوشت کی مطلوبہ نزاکت، رنگت اور زائقہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ عوامل پر عمل کیا جائے۔ اول یہ کہ قربانی کے جانور کی احسن طریقے سے دیکھ بھال کی جائے یعنی قربانی سے پہلے جانور کو پیٹ بھر کر چارہ کھلایا جائے۔ جس سے جانور کا نظام انہضام اور خون کی گردش کا نظام تندرست اور فعال رہتا ہے۔ اس طرح جانور کا جسم توانائی کی وافر فراہمی سے توانا رہتا ہے۔ جانور کے جسم میں توانائی کی وافر موجودگی کا فائدہ یہ ہے کہ زبح کرنے کے بعد جانور کا جسم نسبتاً دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے اور دیر سے اکڑتا ہے جس سے جانور کی کھال اتارنے اور گوشت کاٹنے میں عجلت اور آسانی رہتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جانور کو ہر ممکن تناؤ سے دور رکھا جائے تاکہ جانور کے اعصاب درست رہیں۔ تناؤ کی زیادتی سے جانور کے جسم میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے ہارمونز زیادہ مقدار میں خارج ہوتے ہیں۔ ان ہارمونز کے خارج ہونے سے پٹھوں میں خون کے بہاؤ اور گردش میں غیرمعمولی اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے زبح ہونے کے بعد خون کی کچھ مقدار پٹھوں کی نسوں ناقی رہ جاتی ہے جس اے گوشت کی نزاکت اور رنگت بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔

اگر گوشت صحیح نہ پک سکے تو اس میں موجود خون انسانی معدے میں بیکٹیریا کی افزائش کے لئے ماحول فراہم کرتا ہے۔ جانور کو تناؤ سے بچانے کے لئے زبح کرنے کے لئے استعمال ہونے والی چھری تیزدھار ہونی چاہیے تاکہ جتنی جلدی اور آسانی سے ممکن ہو جانور زبح ہو جائے۔ اس طرح سے اینیمل رائٹس کے تقاضے بھی پورے ہو جاتے ہیں۔ جانور کی گردن میں چھہ رگیں اور نالیاں موجود ہوتی ہیں ان میں سے سانس، خوراک اور جیوگولر وینز کا کٹ جانا ضروری ہے۔

چھری کو ریڑھ کی ہڈی کے انتہائی قریب نہ لے جایا جائے تاکہ اس کے اندر موجود حرام مغز سلامت رہے جو کہ خون کی جسم سے باہر نکاسی کے لئے ضروری ہے۔ عام طور پر جانور کو زبح کرنے کے بعد درد اور تڑپنے سے بچانے کے نام پر حرام مغز کو کاٹ دیا جاتا ہے جس سے جانور فوراً ساکت ہو جاتا ہے۔ ایسا کرنا درست نہیں اور نہ ہی اس کا جانور کو درد سے بچانے سے تعلق ہے۔ لہذا زبح کے جانور کا تڑپنا عین فطری اور سائنسی ہے۔ اس طرح ذبح کرنے سے گوشت نہ تو سخت ہو گا اور نہ ہی کڑوا کسیلا۔ بلکہ یہ نزاکت، رنگت اور ذائقے میں مطلوبہ معیار کا حامل ہو گا اور یوں نہ صرف ہماری عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کا ذریعہ ہو گا بلکہ حفظان ضحت کے اصولوں کے عین مطابق ہو گا۔

Latest posts by کاشف منیر، لاہور (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کاشف منیر، لاہور کی دیگر تحریریں

3 thoughts on “قربانی اور سائنس

Leave a Reply