”کورونا“ نے اساتذہ کی سفید پوشی چھین لی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ایک دوست ہیں جن کو پراپرٹی کے لین دین کا بہت شوق ہے۔ وہ اپنے آپ کو علاقے کا ”ملک ریاض“ سمجھتے ہیں۔ محنتی آدمی ہیں، زیرو لیول سے اوپر آئے ہیں۔ وہ بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں۔ ان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اپنے دوستوں کو یاد رکھتے ہیں اور ان کی خوب قدر کرتے ہیں۔ میری خوش قسمتی سمجھیے اور ان کی اعلیٰ ظرفی کہ وہ مجھے اپنے چند مخلص دوستوں میں شمار کرتے ہیں۔ جب بھی وہ کوئی پروجیکٹ سٹارٹ کرنے لگتے ہیں مجھے ضرور مدعو کرتے ہیں۔ آج کل وہ کوئی پرائیویٹ ہسپتال بنانا چاہ رہے ہیں۔ پلاٹ کی خریداری اور بلڈنگ کے تعمیراتی کام کے آغاز کے وقت موصوف نے مجھے مدعو کیا لیکن میری مصروفیات آڑے آئیں اور میں ان پر مسرت لمحات میں شریک نہ ہو سکا۔

دو دن پہلے مصروفیات کچھ کم تھیں تو ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔ کال کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ سائٹ پر ہی موجود ہیں۔ میں جب وہا ں پہنچا تو تعمیراتی کام بڑے زور وشور سے جاری تھا۔ ہر کوئی اپنے کام میں مگن تھا۔ وہیں عارضی طور پر بنائے گئے ایک آفس میں میرے وہ دوست تشریف فرما تھے۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی فائل بغل میں لیے موجود تھے۔ طور و اطوار سے کوئی اسسٹنٹ لگ رہے تھے۔ بریفنگ کے کے بعد جب وہ صاحب رخصت ہوئے تو میں نے بے تکلفی سے پوچھ ہی لیا۔ ۔ ”صاحب جی! کل تک تو آپ کہتے تھے میں اپنا کام خود کرتا ہوں کسی پر ٹرسٹ نہیں کرتا اور آ ج یہ اسسٹنٹ کیسے؟“ میری بات سن کر وہ زیر لب مسکرائے اور کہنے لگے۔ ”یار ارشد! بات تو آپ کی درست ہے لیکن اس بندے کے شایان شان میرے پاس کوئی مناسب کام نہیں تھا اس لیے میں نے اسے بطور اسسٹنٹ رکھ لیا۔“

میرے متجسس انداز کو دیکھ کر انھوں نے گہری سانس لی اور کہنے لگے ”یہ سب کورونا کا رونا ہے۔ کورونا وائرس نے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ جوخطرناک کھیل کھیلا ہے اس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اچھے بھلے لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں، کل تک پرآسائش زندگی گزارنے والے آج پریشان حال ہیں، نہ جانے کتنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکیہیں اور کئی ہیروزکو اس موذی وبا کے جبر نے زیرو کر کے رکھ دیا ہے۔“

ان کی باتوں سے میری تشفی نہیں ہو رہی تھی لہذا میری بے چینی کو بھانپتے ہوئے وہ ڈائریکٹ میرے سوال پر آ گئے کہنے لگے ”ان صاحب نے میرے پاس اسسٹنٹ کی پوسٹ کے لیے اپلائی کیا تھا اور نہ ہی میرے پاس ایسی کوئی جاب تھی بلکہ یہ تو ٹھیکیدار کے پاس مزدوری کے لیے آئے تھے۔ اس نوعیت کے کام کا ان کو پہلے تجربہ نہیں تھا تو کام ٹھیک سے کر نہیں پا رہے تھے۔ جس کی وجہ سے ٹھیکیدار نے ان کو مزدوری پر لینے سے انکار کر دیا۔

یہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کو دیکھتے ہی پہچان لیا۔ یہ میرے بچوں کے استاد ہیں۔ ہمارے گھر کے ساتھ والی گلی میں جو پرائیویٹ سکول ہے، یہ وہاں جاب کرتے تھے مگر جب سے کورونا کی وبا پھیلی ہے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سکول مالکان خود پریشان ہیں ان کو یوٹیلٹی بلز اور بلڈنگ کا کرایہ ادا کرنا مشکل ہو رہا ہے وہ ٹیچرز کو تنخواہ کیسے دیں گے۔ لہذا ان کو مجبوراً اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے مزدوری کے لیے نکلنا پڑا۔“

ان کی باتیں سن کر میں سکتے میں آ گیا اور پھر میرے اندر لب کشائی کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں وہاں سے تو آ گیا لیکن ابھی تک پریشان ہوں۔ دل بہت رنجیدہ ہے کہ اس وبا کے جھکڑوں نے کیسے کیسے لوگوں کی سفید پوشی کا نقاب الٹ کر رکھ دیا ہے، کتنے لوگوں کی عزت نفس کو تار تار کر دیا ہے، کتنے بچے ہیں جو ایک نوالہ گندم کو ترس رہے ہیں، کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں اداسیوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں، کتنی ہی عزتیں ہیں جو اناج کی خاطر گروی رکھی جا چکی ہیں اور کتنے خواب ہیں جو چکنا چور ہو چکے ہیں۔

میرے نزدیک تواس ظالم وبا کا شکار سب سے زیادہ پرائیویٹ سکولز کے اساتذہ ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں اور نہ کسی کو اپنا دکھڑا سنا سکتے ہیں کیوں کہ اس امر میں ان کی خودداری مانع ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پورے پاکستان میں لگ بھگ 200000 پرائیویٹ سکولز ہیں جن کے فیکلٹی ممبران کی تعداد تقریباً 1500000 ہے۔ اتنے سارے سکولز میں سے چند ہزار کے علاوہ باقی سب سکولز کے مالکان کا سکول کی فیسوں کے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے لہذا جو رقم وہ فیس کی مد میں لیتے ہیں اسی میں سے ان کو بلڈنگ کا رینٹ، یوٹیلٹی بلز، اساتذہ اور معاون سٹاف کی تنخواہیں بھی پوری کرنی ہوتی ہیں۔

گورنمنٹ نے سکول انتظامیہ کو تو 20 % ڈسکاؤنٹ کے ساتھ فیس لینے کا تو پابند کر دیا ہے مگراس سلسلے میں والدین پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ فیس وصول کرنے کے معاملے میں چھوٹے لیول کے پرائیویٹ اداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ سکول مالکان جو پہلے ہی اساتذہ کا استحصال کرتے ہیں، تنخواہ دیتے کم ہیں اور ریکارڈ میں زیادہ ظاہر کرتے ہیں، کیا وہ ان حالات میں اساتذہ کو سیلری کی ادائیگی کریں گے؟ ان کے نزدیک تو استاد کی حیثیت ایک مزدور کی سی ہے کام کرے گا تو اجرت ملے گی۔ ان سے یہ توقع رکھنا ہی عبث ہے کہ وہ حکومتی احکامات پہ عملدرآمد کرتے ہوئے اساتذہ کو ادائیگیاں کرتے ہوں گے۔

آئے روز ایسی تصاویر میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں جن میں قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والے اساتذہ کو مزدوری کرتے ہوئے، فروٹس کی ریڑھی لگائے ہوئے یا کبھی فٹ پاتھ پر چنے بیچتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ پیشہ۔ پیغمبری کی یوں تذلیل ہوتی دیکھ کر جگرچھلنی ہوتا ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور دماغ اپنی بے بسی پرنوحہ کنا ں ہو جاتا ہے۔ بلاشبہ محنت کرنے میں کوئی عار نہیں ہے اور محنت کرنے والوں کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند مقام ہے مگر یہ نقطہ بھی تو غور طلب ہے کہ پہلے ہی ہمارے معاشرے میں استاد اور تعلیم کی جو قدر ومنذلت ہے وہ کوئی بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔

مزید یہ کہ اگر ایک استاد مزدوری کرنے لگ جائے گا تو سکول کھلنے پر وہ کبھی بھی موثر انداز میں ٹیچنگ نہیں کر سکے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس پیشے کو ہی خیر باد کہہ دے۔ دونوں میں سے کوئی بھی صورت ہو، ہمارا معاشرہ ایک اچھے استاد سے محروم ہو جائے گا۔ تا ہم جس ذہنی تناؤ اور روحانی اذیت سے وہ استاد گزرے گا اس کا صرف تصور ہی رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے۔ مجھے اور آپ کو تو ہر وقت آسائشوں کی طلب اور حرص ہی رہتی ہے لیکن ذرا تصور تو کیجیے کہ وہ کیسی دردناک گھڑی ہوتی ہوگی جب ایک معلم اپنے بچوں کومحض ایک نوالہ گندم کھلانے اور صرف زندہ رہنے کی قیمت چکانے کے لیے قلم کو چھوڑ کر بیلچہ اٹھاتا ہوگا یا گرامر سمجھانے والا استاد فروٹ بیچنے کے لیے آواز لگاتا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ارشد راں کی دیگر تحریریں

Leave a Reply