خون کے رشتے خونی ہوتے ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری جناب محترم اشفاق احمد خان صاحب سے ملاقات محترمہ بینا گوئندی کے توسط سے اس وقت ہوئی جب خان صاحب اردو سائنس بورڈ کے سربراہ تھے اور بینا گوئندی وہاں شعبہ حیاتیات میں سکالر تھیں۔ چونکہ میں اور بینا گوئندی رشتہ ازواج سے منسلک تھے لہذا مجھے اپنے آفس سے واپسی پر بینا کو اردو سائنس بورڈ سے پک کرنا ہوتا تھا چونکہ بینا گوئندی کا نام علمی اور ادبی حلقوں میں اس وقت تک بہت نمایاں ہوچکا تھا۔ یہ نام و مقام انہوں نے کم عمری میں اپنی مضبوط ادبی خدمات کے صلے میں حاصل کیا تھا ان کی شاعری کی کتاب ”سوچتی آنکھیں“ قارئین میں قبول عام حاصل کر چکی تھی اس کے علاوہ علمی میدان میں خاص کر سائنسی کتب کے حوالے سے وہ 1990ء کی دہائی تک پچیس کے قریب کتب لکھ چکی تھیں جس میں سائنس انسائیکلوپیڈیا اور نامور مسلمان سائنسدان ناصرف ضخیم کتب ہیں بلکہ بینا کی علمی اور تحقیقی کاوشوں کا نچوڑ بھی ہیں۔

میں جب بینا کو ان کے آفس سے لیتا یا تو ہم کسی علمی و ادبی تقریب میں چلے جاتے یا گھر۔ چونکہ میں بینا کو ان کے آفس سے پک کرتا تھا اور اس لئے مجھے دفتر میں اندر جانا ہوتا تھا دفتر کے داخلی دروازے کے ساتھ ہی ادارہ اردو سائنس بورڈ کے سربراہ جناب اشفاق احمد صاحب کا کمرہ تھا اور وہ اپنے کمرے سے دفتر میں آمدورفت کی ہر کارروائی پر نظر رکھے ہوئے ہوتے تھے جونہی مجھے دفتر میں داخل ہوتا دیکھتے تو بابو کو حکم ہوتا کہ ”بابو جا اینوں بلا لیا“ بابو جاؤ اسے بلا لاؤ۔

میں حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان کے کمرے کے دروازے پر دستک دیتا اور وہ اندر سے ”آؤ“ کہتے پھر خان صاحب اپنی کچھ باتیں کرتے کوئی سوال کرتے اور جواب طلب فرماتے میں کچھ عرض کرتا تو مزید در مزید در مزید وضاحتیں طلب کرتے اور سلسلہ گفتگو طویل سے طویل تر ہوتا جاتا۔ مجھے نہیں معلوم وہ ایسا کیوں کرتے تھے۔ مجھے یہ ضرور معلوم ہے کہ وہ فارغ شخص تو بالکل نہیں تھے کہ یونہی لغو گفتگو یا کج بحثی کو فروغ دیتے۔ بہرحال یہ میرے لئے اعزاز تھا کہ مجھے ان کی براہ راست قربت اور گفتگو کا شرف مل رہا ہے۔ بسا اوقات ان کے پاس کئی ایک اہم شخصیات بھی تشریف فرما ہوتیں مگر اگر میں اس وقت ان کے دفتر میں ہوتا تو وہ شفقت فرماتے اور ہماری ان سے ملاقات ضرور کراتے مگر یہ بلاوا صرف چند نہایت ہی قابل احترام شخصیات ہی سے ملاقات تک محدود ہوتا تھا۔

پیر باصفا جناب محترم واصف علی واصف سے بھی میری ملاقات وہیں پر جناب خان صاحب ہی کے توسط سے ہوئی۔ بینا چونکہ وہیں کام کرتی تھیں لہذا ان کا تو سب سے ملنا رہتا تھا اور پھر ان کا اپنا بھی نام اور کام تھا جو ان کی وجہ شہرت تھا۔ میرے لئے یہ رسائی بہرحال ہر دو کے توسط ہی سے ممکن ہوئی تھی۔ اس روز جناب واصف صاحب سامنے والے صوفہ پر تشریف فرما تھے اور خان صاحب اس صوفے کے بائیں جانب شیشے کی کھڑکی کے آگے سنگل سیٹر صوفے پر بیٹھے تھے دیگر چند افراد بھی کمرے میں موجود تھے ہم اندر داخل ہوئے سلام عرض کیا خان صاحب کا اپنا ایک مخصوص انداز تھا ”اؤ ہاں بھئی آؤ آؤ“ اور ساتھ ہی واصف صاحب سے تعارف کرایا کہ یہ حامد ہے اور بینا کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔

اس سے پہلے بھی میرے بارے انہوں نے ضرور کچھ فرمایا ہو گا جو محترم جناب واصف صاحب نے مجھے اپنے قریب بیٹھنے کا شرف بخشا۔ واصف صاحب کی گفتگو سننا اور ان کی محفل میں موجود ہونا روحانیت کی انتہائی منزل کہلاتا ہے۔ اس روز کے بعد جناب واصف صاحب سے بھی ہمارا رشتہ ذاتی قربت کے حوالے سے ازلی حیثیت حاصل کر گیا جو ان کے وصال تک اور پھر وصال کے بعد سے آج تک مضبوط روحانی رابطے کے طور پر موجود ہے۔ اس روز واصف صاحب نے دو اہم جملے اپنی گفتگو میں فرمائے ”خون کے رشتے خونی ہوتے ہیں“ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے فرمایا ”دعا کریں، دعا کی ضرورت ہے“

ان کا پہلا جملہ میری آج کی تحریر کا موضوع ہے اور یہ سب تمہید اس عنوان کی اصل روح تک پہنچنے کے لئے باندھی گئی ہے۔

قرآن شریف میں انسانی رشتوں کی پہچان اور مقصد کے حوالے سے ایک سورت نازل ہوئی ہے جو پانچویں سپارے میں سورہ النسا کے نام سے منسوب ہے۔ اس سورہ کی ابتدا میں جس اہم رشتے کا ذکر ہے وہ رشتہ نکاح کے پاکیزہ بندھن سے قائم ہوتا ہے جس کا مقصد فی الحقیقت ایک مضبوط خاندان کا قیام عمل میں لانا ہے۔ میاں بیوی حقوق و فرائض کی متوازن تقسیم کے ساتھ ایک خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں جو آگے چل کر بچوں کی آمد سے خاندان کو مزید تقویت بخشتی ہے۔ نکاح کے نتجے میں جو رشتے ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ خون کے رشتے کہلاتے ہیں۔

ایک ماں باپ اپنی زندگی میں محنت اور لگن سے اولاد کی محبت میں مسرور رہتے ہوئے اولاد کی کامیابیوں پر خوش اور ناکامیوں پر پریشان رہتے ہیں اور اپنی اولاد کی ہر حال میں حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہی خون کے رشتے جب دنیا میں اپنے تئیں معمولی نوعیت کی کامیابیاں حاصل کر لیتے ہیں تو ان پر اپنی چھوٹی چھوٹی بظاہر کامیابیوں کا غرور نمایاں ہونے لگتا ہے یہ غرور و تکبر انہیں انسانیت کے بندھن سے دور کرتا چلا جاتا ہے۔ اپنی نرگسیت کے زعم میں بہن بھائی کے خون کے رشتے کو خونی بنا دیتا ہے۔

خاص طور پر جب کوئی خود پسندی کی نرگسیت، حد ادب، باہمی احترام اور قرب سے مبرا ہو جائے تو انسان فریب خودی کا شکار ہوجاتا ہے یوں اسے اپنے علاوہ کوئی دوسرا اپنی برابری حتی نام تک کی نسبت سے بھی خائف کر دیتا ہے اور نتیجتاً اس کا یہ خوف رشتوں کی پاسداری کی حدود و قیود کی پہچان سے عاری ہوجاتا ہے وہ اپنے کردار و گفتار میں مخالفت کی انتہائی پستی تک گر جاتا ہے وہ اکیلا سوار بن کرکسی دوسرے کی غیر موجودگی میں ایک جوکی ایک گھوڑا اور خالی میدان میں ریس دوڑتا ہے دوڑ کے آخری نشان تک پہنچ کر وہ خود کو کامیاب تصور کرتا ہے۔

مگر وہ زمانوں میں اور اہل فکر و دانش میں کبھی مقبولیت یا ناموری حاصل نہیں کر پاتا۔ پس ایسا انسان دیگر اہل علم و دانش سے ہمیشہ خوف زدہ رہتا ہے یہ خود ساختہ خوف اسے اپنے سے بہتر کی صحبت سے دور رکھتا ہے وہ ان کے کسی اختلاف رائے کو سننے کا حوصلہ نہیں رکھتا اور نہ ہی اس کی کوئی رائے کسی دوسرے کے بارے میں اہم تصور کی جاتی ہے۔ اب چونکہ ایسا شخص محض اپنے گھر میں یا علم سے نابلد افراد میں اپنی ساکھ بنائے ہوئے ہوتا ہے جہاں سے اسے حسب منشا پذیرائی بھی ملتی اور کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کرتا۔

مگر اگر اسی گھر میں سے کوئی بھی اس خود پسندی میں ناک و ناک ڈوبے شخص سے زیادہ علم و فکر کا حامل ہو جائے تو وہ اس کی برداشت سے باہر ہوجاتا ایسے میں وہ شخص نہ صرف رشتوں کا احترام بھول جاتا ہے بلکہ رشتوں میں قائم فطری عصمت و غیرت کی حدود کو بھی پھلانگ جاتا ہے۔ بھائی بہن کو بازاری تک قرار دے دیتا ہے پیار عزت و غیرت پر مر مٹنے والے اپنی فریب نرگسیت میں بازاری بن جاتے ہیں۔ بہنوں کو علم و فضل کی بلندی پر پہنچتا دیکھ کر خود کو غیر محفوظ تصور کرنے والے نیچا محسوس کرنے لگتے ہیں خود اٹھنے کی سکت نہیں رکھتے مگر جیسے قدرت نے نوازا ہے وہ اس نوازش الہامی کے فیصلے کے سامنے اپنی انا کی دیوار اور زبان کی ترشی کو حائل کر دیتے ہیں یہ احساس کمتری میں مبتلا خود اپنے گھر کی بہن بیٹی کو بازاری القابات سے نوازتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ان کی اپنی بیٹی یا بہن جسے وہ بازاری قرار دے رہے ہیں کیا ان کا ایسا کہنا انہیں خود اسی بازار کے دلال نہیں بنا دیتا۔ خون کے رشتے حقیقتاً خونی بن جاتے ہیں۔

یہ بس وہاں خونی نہیں بنتے جہاں مرد اپنی پستی کے باوجود اہم رہے اور عورت برتر ہونے کے باوجود قابل بازاری کہلائے، قابل فخر نہیں۔ جہاں مرد کی حاکمیت اس کے پست ہونے کے باوجود اعلی رہے اور عورت کا مقام بہترین ہونے کے باوجود پست۔ اور اگر عورت بوجوہ پھر بھی سر اٹھائے تو پھر خون کے رشتے خونی بن جاتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کے ناکام مرد خونخوار بھیڑیے ہیں اور کامیاب خواتین کی حیثیت بہترین ہونے کے باوجود ان ہرنیوں جیسی ہوتی ہے جن کا مقدر صرف شکار ہونا ہے۔ مرد کا خون اپنی خود پسندی اور انا کے اندھے گھوڑے پر سوار اپنی بہن بیٹی کو تہ تیغ تک کرنے سے گریزاں نہیں۔ خون کا رشتہ جو ایک مقدس بندھن سے شروع ہوتا ہے خود فریبی، انا، نرگسیت کا زعم اسے خونی بنا دیتا ہے۔ واقعی خون کے رشتے خونی ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply