عید کے بعد قربانی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کے بعد سیاست گرم ہورہی ہے دو سالہ جمود ٹوٹ رہا ہے۔ عمران خان کا سحر بھی ختم ہوچکا ہے۔ انہیں آخری بلندی سے نیچے کی طرف آنا پڑے گا۔ ان دنوں راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور سیاسی سرگرمیوں کے محور ہیں۔ بہت کچھ سوچا جا رہا ہے، بہت کچھ ہونے جا رہا ہے۔ مولانا نے اس مرتبہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو قائل کر لیا ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ مولانا کا مؤقف ہے کہ اگر اپوزیشن نے اپنا بھرپور کردار ادا نہ کیا تو یہ خلا کوئی اور طاقت پر کر دے گی جبکہ حکومت کو بھی اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملے گا۔ چنانچہ عید کے بعد اے پی سی ہو گی جس میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تحریک کس طرح کی ہوگی یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن دوسری جانب بھی صف بندی ہورہی ہے آخری کوشش ہوگی کہ اپوزیشن ایم آر ڈی کی تحریک کی طرح سڑکوں پر نہ آئے اور گرفتاریاں بھی پیش نہ کرے کوئی بعید نہیں کہ اپوزیشن کو شٹ اپ کال ملے اگر سیاسی رہنما اس سے ڈر گئے تو ان کا اللہ ہی حافظ ہے اور اگر وہ ڈٹ گئے تو پھر تبدیلیاں ناگزیر ہونگی حکومت پارلیمنٹ میں نیب کا قانون تبدیل کرنا چاہتی ہے اس مقصد کیلئے اپوزیشن سے اس کے مذاکرات جاری ہیں نیب کے پر کاٹنا دونوں کے مفاد میں ہے لیکن زیادہ تر حکومت کے مفاد میں ہے کیونکہ اپوزیشن تو اپنے حصے کی سزا کاٹ چکی ہر طرح کی بدنامی مول لے چکی۔

آئندہ باری موجودہ حکمرانوں کی ہے۔ انہیں خوف ہے کہ وہ جس دن اقتدار سے ہٹ گئے، اسی دن ان کی گرفتاریاں ہوں گی۔ وزیراعظم سمیت ان کی کابینہ اور سارے غیر ملکی مشیر جیلوں میں ہونگے۔ اسی خوف کی وجہ سے حکمران جماعت کوشش کررہی ہے کہ وہ نیب کے بارے میں جو ترامیم لانا چاہتی ہے اپوزیشن اس کی حمایت کرے ویسے یہ اتنا آسان مسئلہ نہیں ہے اس میں بے شمار پیچیدگیاں ہیں کیونکہ نیب کے مسئلے میں کئی اسٹیک ہولڈر ہیں ان اسٹیک ہولڈرز کو بلاول کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر اعتراض ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں کے ساتھ جرنلز، جج صاحبان اور دیگر عناصر کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی نیب کو دیا جائے بلکہ بلاول نے تو یہ کہا ہے کہ نیب کو ختم کرکے اس کی جگہ احتساب کا نیا ادارہ بنایا جائے جو مندرجہ بالا شعبوں کا احتساب بھی کرے لہٰذا یہ تجاویز اتنی مشکل ہیں کہ ان پر فریقین کا متفق ہونا مشکل ہے بہرحال کوئی درمیانی راہ نکالنی پڑے گی۔

آئندہ چند ہفتے اتنے اہم ہونگے کہ میاں شہباز شریف کرونا کو لات مارکر گہوارے سے باہر نکل آئے ہیں جبکہ بلاول نے لاہور کو مرکز بنالیا ہے جب بلاول اسلام آباد پہنچیں گے تب رحمان ملک انہیں بتائیں گے کہ پیغام کیا ہے اسی سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ آئندہ کا موسم کیسا ہوگا کوئی بجلی بھی کڑکے گی یا صرف گرج چمک کے ساتھ بارش ہوگی آیا کوئی طوفان بھی آنے والا ہے یا سیاسی رہنما محض ”دل پشوری“سے کام لے رہے ہیں یہ بات تو طے ہے کہ سلیکٹرز اس حکومت کی کارکردگی سے اتنے مایوس ہیں جتنے عام لوگ لیکن مجبوری یہ ہے کہ وہ آئین کو بدلنا چاہتے ہیں اور ملک کا نظام پارلیمانی سے صدارتی کرنا چاہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کام ن لیگ، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی راہ میں سب سے زیادہ رکاوٹیں پیپلز پارٹی ڈالے گی کیونکہ 1973ء کا آئین پیپلز پارٹی کا تشکیل کردہ ہے جو وفاق اور اس کی اکائیوں کے درمیان ایک متفقہ عمرانی معاہدہ ہے۔

پیپلز پارٹی سمیت کئی جماعتوں کا خیال ہے کہ 1973ء کے آئین کے بغیر وفاق نہیں چل سکتا اگر اس آئین کو تبدیل کیا گیا تو نیا متفقہ آئین بنانا مشکل ہوگا اور اگر کسی ریفرنڈم کے ذریعے نظام کی تبدیلی کی کوشش کی گئی تو ملک خانہ جنگی اور افراتفری کا شکار ہوجائے گا پاکستان کے لوگوں کیلئے ریفرنڈم کوئی نئی بات نہیں جنرل ضیاء الحق نے 1984ء میں ریفرنڈم کے ذریعے خود کو منتخب صدر قرار دیا تھا جبکہ جنرل مشرف وردی سمیت ریفرنڈم کے ذریعے صدر بن گئے لوگوں کو یاد ہوگا کہ اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی ہر روز بیان دیتے تھے کہ ہم جنرل مشرف کو وردی سمیت منتخب کریں گے یہی ق لیگ آئندہ بھی اہم مہرہ ثابت ہوگی اور 1973ء کے آئین کے خلاف سازشوں کا ہر اول دستہ ثابت ہوگی کیونکہ ایسی جماعتوں کا کوئی اصول نہیں ہوتا ان کا مقصد صرف اور صرف کرسی کا حصول ہے چاہے وہ جس طرح ملے صدارتی نظام کی باتیں تو کافی عرصہ سے چل رہی تھیں لیکن اب اس کیلئے کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے چند دنوں میں بجلی کے کھمبوں اور دیواروں پر اس کے حق میں پوسٹر لگنا شروع ہوجائیں گے۔

انتخاب میں منگل کو ایک ایک چھوٹا سا اشتہار شائع ہوا ہے جو ”چھوٹا منہ“ بڑی بات کے مترادف ہے۔ یہ اشتہار ہم عوام مکران ڈویژن کی طرف سے شائع کروایا گیا ہے اشتہار دینے والوں میں سے کسی کا تعلق بھی مکران ڈویژن سے نہیں ہے کیونکہ جو نام دیئے گئے ہیں وہ شمالی بلوچستان کے لگتے ہیں مثال کے طور پر سردار ناصر خان سلیمان خیل، طاہر عزیز خان سلیمان خیل، وقار احمد خان اور عبدالحئی ان کے اشتہار کا عنوان ہے۔ ” ہماری منزل اسلامی صدارتی نظام “۔

کون بھول سکتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے صدر منتخب ہونے کیلئے ریفرنڈم کا جو سوال دیا تھا وہ اسلامی نظام کے بارے میں تھا لہٰذا اقتدار کی غلام گردشوں میں یہ سوال تیزی کے ساتھ زیر بحث ہے کہ صدارتی نظام کیسے لایا جائے حالانکہ اس ملک میں ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف کے صدارتی نظام ناکامی سے دوچار ہوچکے ہیں اس کے باوجود یہ کہا جارہا ہے کہ پارلیمانی نظام کی موجودگی میں یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا آگے نہیں بڑھ سکتا یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے آزاد ریاستیں بن چکے ہیں یہ بات تو خود وزیراعظم صاحب نے کی تھی اور کہا تھا کہ وزرائے اعلیٰ کو آمرانہ اختیارات حاصل ہیں غالباً یہی وجہ ہے کہ عمران خان ابھی تک سردار عثمان بزدار کو ہٹانے میں کامیاب نہیں رہے اسی سبب وہ برسات کی راتوں میں پچھلے پہر لاہور کے مختلف علاقوں کا جاکر معائنہ کرتے ہیں کسی کو عثمان بزدار سے یہ توقع نہ تھی وہ تو واقعی میں وزیر اعلیٰ بنتے جا رہے ہیں۔

جہاں تک مولانا کا تعلق ہے تو وہ موجودہ دور کے نوبزادہ نصر اللہ خان بن چکے ہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے آزادی مارچ کے موقع پر انہیں دھوکہ دیا تھا اس کے باوجود وہ دلبرداشتہ نہیں اور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ان کی کوششوں کی وجہ سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی قریب آرہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے اندر یہ خوف موجود ہے کہ تمام تیاریوں کے باوجود اگر ن لیگ کے سپریم لیڈر نواز شریف نے نئی سیاسی تحریک کو ویٹو کردیا تو پھر کیا ہوگا کیونکہ نواز شریف سے درپردہ رابطے جاری ہیں اور ان کا واحد مطالبہ ہے کہ انہیں باعزت بری کیا جائے اس کے بدلے میں وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں نواز شریف کو معلوم ہے کہ پنجاب کے عوام ان کے ساتھ ہیں وہ جوبھی کریں جس روپ میں بھی آئیں پنجاب کے عوام ان کی حمایت نہیں چھوڑیں گے اگر نواز شریف نے ہمت دکھائی وہ 1973ء کے آئین میں تبدیلی کے سامنے دیوار بن گئے تو ان کی قدوقامت میں مزید اضافہ ہوگا اگر انہوں نے ذاتی مفادات کی خاطر سرنڈر کردیا تو وہ دوسرے خان عبدالقیوم ثابت ہوں گے۔ قیوم خان نے 1958 کے مارشل لا سے صرف چند پہلے جہلم سے گجرات تک 32 میل لمبا جلوس نکالا تھا جب حکومت وقت نے ان پر ہاتھ ڈالا تھا تو انہوں نے بقول مولانا غلام غوث ہزاروی 40 میل لمبا معافی نامہ لکھ کردیا تھا۔

12  صفحات پر مشتمل معافی نامہ تو خیر نواز شریف نے سعودی عرب جلاوطنی سے پہلے جنرل پرویز مشرف کو بھی لکھ کردیا تھا لیکن توقع ہے کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply