جنرل راحیل شریف 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے,الوداعی ملاقاتیں شروع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"raheel-sharif-gilgit\"

لاہور+ اسلام آباد (خبر نگار+ سٹاف رپورٹر، نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں) چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف مدت ملازمت پوری کر کے 29 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے روایتی الوداعی ملاقاتوںکا سلسلہ شروع کر دیا۔ وزیراعظم کی طرف سے 28 نومبر کو عشائیہ ان ملاقاتوں کا نقطہ عروج ہوگا۔ ان الوداعی ملاقاتوں کے اعلان کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے کہ جنرل راحیل کو توسیع مل رہی ہے یا نہیں۔ اب یہ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ نیا آرمی چیف کون ہوگا۔ حکومت نے نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان نہ بھی کیا تو وزیراعظم کی میزبانی میں الوداعی عشائیہ کے دوران اسکا علم ہوجائیگا کیونکہ نامزد آرمی چیف بھی اس موقع پر موجود ہوتے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم، جنرل راشد محمود اور جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں مشترکہ الوداعی عشائیہ دیں گے کیونکہ جنرل راشد بھی اسی تاریخ کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے منصب سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ آرمی چیف نے لاہور گیریژن میں فوج اور رینجرز کے افسروں سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر خطاب میں آرمی چیف نے کہاکہ امن و استحکام کے قیام میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں تھا، قربانیوں اور مشترکہ عزم سے کامیابیاں ملیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال کے اوائل میںجب آرمی چیف کو ملازمت میں توسیع دئیے جانے کی خبریں پھیلیں تو انہوں نے واشگاف اعلان کیا تھا کہ وہ ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے۔ انہوں نے اپنی زیر کمان فوج اور رینجرز کی خدمات پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کیلئے بڑے فخر کی بات ہے کہ انہوں نے دنیا کی بہترین فوج کی کمان کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کیلئے پوری طرح سے تیار ہیں اور کوئی بھی ملک پر میلی نظر نہیں ڈال سکتا‘کسی بھی چیلنج کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے مکمل تیار ہیں دشمن بھول کر بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھے۔ آپریشن ضرب عضب نے ملک کو مزید محفوظ اور مستحکم بنا دیا ہے۔ اس نے بڑی امید اور سمت دی ہے۔ پاکستانی دنیا میں بہت بہادر قوم ہیں جو ہر حالات میں ثابت قدم رہے ہیں۔ انہوں نے فوجیوں پر زور دیا کہ وہ ایک بہترین فوج کی اقدار پر قائم رہیں اور عوام کی خدمت کیلئے قربانی کے جذبہ کے تحت پوری طرح کمربستہ رہیں۔ اس سے قبل لاہور گیریژن پہنچنے پر کمانڈر 4 کور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے جنرل راحیل شریف کا خیرمقدم کیا۔ جنرل راحیل شریف کی جگہ 29 نومبر کو نئے آرمی چیف پاکستان آرمی کی کمان سنبھالیں گے۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ہو گی۔ جنرل راحیل ملک بھر میں مختلف گیریژنز کا دورہ کریں گے، افسروں اور جوانوں سے خطاب کریں گے۔ آرمی چیف ایئرہیڈکوارٹرز، نیول ہیڈکوارٹرز کا دورہ کریں گے اور ائرچیف اور نیول چیف سے ملاقاتیں کریں گے۔ آرمی چیف صدر اور وزیراعظم سے بھی الوداعی ملاقاتیں کریںگے وہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف ہیڈکوارٹرز کا دورہ کریں گے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود سے ملاقات کریںگے۔ 27نومبر 2013کو وزیر اعظم نوازشریف نے جنرل راحیل کو پاکستانی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا جبکہ 20دسمبر 2013ء کو انہیں نشان امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔ ان کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں شہید ہوئے، انہیں نشان حیدر ملا۔ جنرل راحیل شریف کے ماموں میجر عزیز بھٹی شہید کو 1965ء کی جنگ میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے پر نشانِ حیدر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گوجرانوالہ گیریژن کا بھی الوداعی دورہ کیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے منگلا اور گوجرانوالہ کور کے افسروں و جوانوں سے خطاب کیا اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو سراہا ۔ آرمی چیف نے انسداد دہشت گردی ٹریننگ کی کامیابی پر منگلا کور کی خدمات کو بھی سراہا۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ وطن کیلئے جوانوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ دریں اثناء چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ سے نیول ہیڈ کوارٹرز میں الوداعی ملاقاتیں کی۔ نیول چیف نے پاکستان کی مسلح افواج کی آپریشنل صلاحیتوں اور تینوں مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے اور تینوں فورسز کو خطے کی باصلاحیت اور مضبوط باہمی مربوط فورسز میں منتقل کرنے کے ضمن میں دورانِ سروس آپ کے قوی کردار کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا۔ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی نے پاک بحریہ کی طرف سے بھر پور تعاون پر چیف آف دی نیول سٹاف کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان نیوی اور چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ کے لئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ جنرل راشد محمود نے ائرہیڈ کوارٹر میں فضائیہ کے چیف ائرمارشل سہیل امان سے الوداعی ملاقات کی۔ اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری وزیراعظم کی صوابدید ہے، جنرل راحیل کی قیادت میں فوج نے وہ کامیابیاں حاصل کی جو دنیا کی کسی فوج کو نہیں ملیں۔ آرمی چیف سینئر موسٹ جنرلز کی فہرست بھجوائیں گے، فہرست سے نئے آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا تقرر کیا جائیگا، وزیراعظم فیصلہ جنرل راحیل شریف اور دیگر کی مشاورت سے کریں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل راحیل شریف جس طرح ادارے کو مضبوط کر کے جا رہے ہیں یہ بہت بڑا کردار ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جنرل راحیل شریف کا تجربہ قیمتی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد انکی خدمات جاری رکھنے سے متعلق کسی تجویز کا علم نہیں۔ جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وزیراعظم نے 2 روز بعد اعلان کیا تھا، نئے آرمی چیف کا فیصلہ رواں ہفتے ہو جائیگا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد سنیارٹی لسٹ میں لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات کا نام سرفہرست ہے۔ بری فوج کی سنیارٹی لسٹ میں اس وقت سب سے اوپر 4 لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات پہلے، کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم دوسرے نمبر پر ہیں، کور کمانڈر بہاولپور جاوید اقبال رمدے سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں جبکہ انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیو ایشن لیفٹیننٹ جنرل قمر باجوہ کا سنیارٹی لسٹ میں چوتھا نمبر ہے۔ اسکے علاوہ وزیراعظم کسی بھی تھری سٹار جنرل کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے سکتے ہیں۔ چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات سینئر ترین افسر ہیں اور انکے بعد کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، کورکمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے اور انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیو ایشن لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں۔ جنرل زبیر اور جنرل اشفاق کے درمیان دو اور جنرلز بھی ہیں، ایک ہیوی انڈسٹریل کمپلیکس ٹیکسلا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین اور دوسرے ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان، تاہم یہ دونوں افسران آرمی چیف کے عہدے کیلئے تکنیکی طور پر اہل نہیں کیونکہ انہوں نے کسی کور کی کمانڈ نہیں کی ہے۔ اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد جو اس وقت اقوام متحدہ میں ملٹری ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں وہ پہلے ہی توسیع پر ہیں اور وہ بھی مزید پروموشن کے اہل نہیں۔ جو چار جنرلز آرمی چیف کے عہدے پر ترقی پانے کے اہل ہیں ان تمام کا تعلق پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 62ویں لانگ کورس سے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *