دو جمع دو، پانچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تھیٹر اور سٹیج ڈرامے کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس کا آغاز چھ سو قبل مسیح میں یونان میں ہوا تھا جبکہ سوشیالوجی کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ انسان ہمیشہ سے موسیقی، اچھے لباس، مزاح اور تفریح کا دلدادہ ہونے کے ساتھ خود بھی عملی زندگی میں ڈرامہ بازی کا خوگر ہے۔ وہ نہ صرف خود ڈرامہ بازی کرتا ہے بلکہ دوسروں کی ڈرامہ بازیوں کو شوق سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وہیں جگمھٹا باندھتا ہے جہاں کوئی دعویٰ کرتاہے کہ دو جمع دو پانچ ہوتے ہیں۔

سیاسی پارٹیاں اور شاطر سیاست دان عوام کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں جب وہ ان سے ایسے وعدے کرتے ہیں جن کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔ اس نکتے پر بحث لاحاصل ہے اس لیے آئیے کہ تھوڑی دیر کے لئے راتوں کو تاروں بھرے آسمان تلے نیلگوں سمندروں اور شفاف دریاؤں کے بہتے پانیوں میں شو بوٹ (show boat ) یا تیرتی کشتیوں میں تھیٹر دیکھنے والوں تماشائیوں کا ذکر کریں۔

شو بوٹ وہ بڑی کشتیاں تھیں جنہیں انیسویں صدی کے آغاز میں امریکی تھیٹر کمپنیوں کے لیے بنایا گیا تھا جنہیں وہ بڑے دریاؤں کے کنارے اور ساحل سمندر پر آباد بستیوں کے مکینوں کے لیے سٹیج ڈرامے اور تھیٹر دکھانے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ ابتداء میں ان کشتیوں میں تیس سے چالیس تک تماشائی بیٹھ سکتے تھے لیکن قصبات اور آبادی کے پھیلاؤ اور تماشائیوں کی بڑھتی دلچسپی کی وجہ سے رفتہ رفتہ ان کشتیوں کا سائز بڑا ہوتا گیا اور ان کو مزید جدید بنا کر انہیں ”سٹیم بوٹ تھیٹر“ کا نام دیا گیا۔

ان تیرتی کشتیوں میں 1851 تک اتنی جدت آ گئی تھی کہ ان میں بیک وقت دو ہزار تک تماشائی تھیٹر، ڈراموں اور موسیقی کی محافل سے لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ حتیٰ کہ امریکی خانہ جنگی ( 1861۔ 1865 ) کے دوران بھی تماشائی اس تفریح سے استفادہ کرتے تھے۔ موسیقی اور تھیٹر کے لوازمات سے لیس ان کشتیوں میں سٹیج کیے گئے شو سر شام شروع ہوتے اور گھنٹوں گھنٹوں جاری رہتے۔ اجتماعی تفریح کی نفسیات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انسان مشترکہ خوشی اور غم کے لمحات گزار کر سکون، اطمینان اور طاقت محسوس کرتا ہے۔

تھیٹر اور ڈراموں کے موضوعات میں کامیڈی اور ٹریجڈی دونوں مقبول رہے ہیں۔ اس طرح تفریح اور واقفیت کے ساتھ ناظرین مشترکہ طور پر غم اور خوشی کے چند یکساں لمحات اور کیفیات سے گزر کر کبھی آنسو بہاتے اور کبھی قہقہے سمیٹتے۔ تفریح کا یہ ذریعہ بیسویں صدی کے اوائل تک خوب مقبول رہا لیکن 1927 میں بولتی فلموں کے آغاز سے ان کی مقبولیت کم ہونا شروع ہوئی۔

تھیٹر اور فلموں کے معاملے میں ہمارا اپنا ذوق کبھی قابل تحسین یا معیاری نہیں رہا لیکن ہم ایسے گئے گزرے بھی نہیں تھے جیسا کہ آج ہمارا حال ہوا ہے۔ ہم اس حال تک کیسے پہنچے؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اب ہم ایک دوسرے سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ اکٹھے بیٹھ کر نہ آبدیدہ ہو سکتے ہیں اور نہ ہی قہقہے سمیٹ سکتے ہیں۔ اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ والدین، مقامی انتظامیہ اور حکومت مذہبی تہوار اور اجتماعی طور پر منائے جانے والے ایام کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کے بغیر گزرنے پر ایک دوسرے کو باقاعدہ مبارکباد دیتے ہیں اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔

میں بلاناغہ قریبی قصبے میں لگنے والے ہفتہ وار بازار میں خریداری کے لیے جاتا ہوں جہاں ایک کونے میں کچھ لوگ دائرے میں کھڑے یا بیٹھے کسی مداری یا حکیم صاحب کی پرمغز باتوں کے بعد ممکنہ تماشے کے منتظر ہوتے ہیں۔ میں بھی کچھ دیر کے لیے ضرور اس دائرے کا حصہ بنتا ہوں۔ تاہم میری زیادہ توجہ تماشائیوں کے چہرے پر چڑھتے، اترتے تاثرات پر ہوتی ہیں۔ لیکن میری بدقسمتی کہ میں چہرے کے تاثرات پڑھنے میں بالکل کورا ہوں۔

ہاں مجھے افسوس ضرور ہوتا ہے کہ یہ نسل اب خراب اور گندی کرسیوں پر بیٹھ کر تھیٹر اور فلمیں دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہی بلکہ ان کی قسمت میں زمین پر بیٹھ کر یا کھڑے کھڑے کسی حکیم یا مداری کی غیر سنسر شدہ باتوں سے لطف اندوز ہونا لکھا ہے۔ جب عام آدمی خصوصاً نوجوانوں کے لئے کھیلوں اور تفریح کے خاطر خواہ مواقع ختم ہو جائیں تو پھر یہی ہوتا ہے۔ میرے ایک دوست کا تکیہ کلام ہے کہ ”یوں نہ سہی، یوں سہی“ ۔ لیکن مجھے یہ منظر دیکھ کر ہر مرتبہ شاعر کا وہ برجستہ شعر یاد آ جاتا ہے جس نے کہا تھا ”سنتا ہی نہ تھا قصہ مجھ درد کے مارے کا/ اس شوخ ستمگر کے چچا کو سنا ڈالا“ ۔ مت بھولیں کہ انسان ہمیشہ متبادل راستے ڈھونڈتا ہے۔

بات اگر مداری کے دو جمع دو پانچ پر ختم ہوتی تو بھی کچھ برا نہ تھا اور ہم سمجھتے کہ گوڈوں گٹوں کے مسائل سے دو چار ہماری نسل جو اب بھی ٹوٹے دانتوں کے ساتھ زندہ ہے کا یہ موقف درست تھا کہ فلموں اور سینما حالوں کے خاتمے سے ہی فحاشی کے خلاف بند باندھا جا سکتا ہے۔ اس سوچ کے منفی نتائج کا مکمل احاطہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے لازمی ہے کہ دیکھا جائے کہ ہم جیسے دیگر ممالک مثلاً ترکی، ایران اور بنگلہ دیش نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا کچھ کیا اور وہ اس مسئلے سے نمٹنے میں کس حد تک کامیاب رہے۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ ہم خود کو وطن عزیر تک محدود رکھیں۔

سینما حالوں کی جگہ پہلے وی سی آر نے لی۔ پھر سی ڈیز کا زمانہ آیا۔ اس کے فوراً بعد کیبل نے اپنے پاؤں پھیلا دیے۔ یہاں تک تو والدین کا کچھ عمل دخل رہا جب وہ گھر میں آنے والی موٹی موٹی کیسٹوں کو چیک کرتے، سی ڈیز کے لیے بچوں کی جیبیں ٹٹولتے یا پھر بچوں کی فرمائش کے باوجود کیبل کی سہولت استعمال کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔ لیکن پھر پلک جھپکتے ہی انٹرنیٹ نے سارا منظر تبدیل کر دیا کیونکہ اب ہر قسم کا مواد عوام کی دسترس میں تھا۔

آخر میں لیپ ٹاپ کے بطن سے جنم لینے والے سمارٹ فون نے وہ اودہم مچایا کہ ہم نے ہاتھ ہی کھڑے کر دیے کیونکہ پانی سر سے اوپر ہو چکا تھا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وقت پر فلم اور آرٹ کی نگرانی کا کوئی معقول، حقیقت پسندانہ اور قابل عمل بندوست کیا جاتا تاکہ آنے والی نسلوں کے ذوق اور معیار کو اپنی اقدار کے مطابق ڈھالا جا سکتا لیکن ہم یہاں بھی دیوار پر لکھے کو نہ پڑھ سکے۔ ہماری نسل کے پاس اپنی صفائی میں کچھ پیش کرنے کے لئے صرف ایک ممکنہ تاویل ہو سکتی ہے کہ یہ تو ہر حال میں ہونا تھا کیونکہ آئی۔ ٹی کے چڑھتے طوفان کے سامنے بند باندھنا ممکن ہی نہ تھا۔

کیا یہ موضوع یہاں ختم ہو جاتا ہے ؟ ہرگز نہیں کیونکہ ان سطور میں کی گئی صحیح یا غلط منظر کشی کل تک کی ہے جس سے گزر کر دو نسلیں جوان ہو کر اب اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہیں۔ جہاں تک ماؤں کی گود میں پروان چڑھتی نسل کا تعلق ہے، وقت نے ان کے متعلق بھی اپنا فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ اب آن لائن کلاسز کے آغاز کے بعد کی دنیا گود میں پلتے بچوں کی منتظر ہے۔

کرونا کی وبا کے خاتمے کے بعد امید ہے کہ قصبے کے ہفتہ وار بازار میں جلد مداری کا تماشا دوبارہ شروع ہو جائے گا جہاں آپ مجھے بھی موجود پائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ اس مرتبہ وہ تسلیم کر لے کہ دو جمع دو چار ہی ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply