سوشل میڈیا کا ارتقائی سفراور آنے والے چند سال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر ہم سوشل میڈیا کی مقبولیت کا جائزہ لیں تو پچھلے چند سالوں میں اس کی مقبولیت میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہر شعبے سے وابستہ افراد اس سے منسلک ہیں سیاستدان، کھلاڑی، شوبز سے وابستہ افراد، سائنسدان، ڈاکٹر، وکیل، اسٹوڈنٹس، ٹیچرز، الغرض معاشرے کا ہر طبقہ یہاں تک کہ ایک چھوٹا ٹھیلا چلانے والا بھی آپ کو سوشل میڈیا میں نظر آئے گا۔ میں خود اگر اپنی بات کروں تو میں نے آج سے 7، 8 سال پہلے سوشل میڈیاکے مختلف پلیٹ فورم سے خود کو منسلک کیا۔

یعنی پہلی مرتبہ فیس بک، انسٹا گرام پر پروفائل بنا کر ایک ورچوئل دنیا کا حصہ بن گیا۔ میں نے خود کو ان پلٹ فارم سے کیوں منسلک کیا، ایسی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی یہ بھی ایک دلچسپ سوال ہے۔ جب موبائل اور انٹرنٹ تک میری راسائی آسانی سے ہوگئی تو دوسروں کی دیکھا دیکھی میں بھی سوشل میڈیا کے کے مختلف پلیٹ فارمز کواستعمال کرنے لگا۔ یعنی اس سے ایک بات واضح ہوگئی کہ سوشل میڈیا کی مقبولیت کی سب بڑی وجہ اسمارٹ فونز، انٹرنیٹ اور دوسری گیجٹ تک ہر عام و خاص کی باآسانی سے رسائی ہے۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنے والے چند سالوں میں سوشل میڈیا کا کیا مستقبل ہے اور یہ ہماری زندگیوں پر کس طرح اثر انداز ہوگا؟ اس میں مزید کتنی شدد آئے گی؟ ان پہاڑ نما بلند وبالا سولوں کا جواب ہم تب ہی اچھے سے تراش سکتے ہیں جب ہم پچھلے چند سالوں یا دہایوں میں سوشل میڈیا کی ارتقا پر نظر ڈالیں۔ اگر ہم سوشل میڈیا کی سب مقبول سائٹس کی بات کریں تو فیس بک 2.4 بلین ایکٹیو صارفین (Users ) کے ساتھ پہلی نمبر پر ہے۔

جبکہ یوٹیوب دوسرے اور واٹس ایپ تیسرے پوزیشن پر براجمان ہیں۔ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی اربوں میں ہے۔ ایک محتاط اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں انٹرنٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد آج ساڑھے چار ارب سے زیادہ ہے یعنی یہ پوری دنیا کی آبادی کا % 59 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا یوزرزکی کل تعداد 3.8 ارب ہے یعنی دنیا کی کل آبادی کا % 49 فیصد۔ کیا سوشل میڈیا کی مشہور سائٹ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام اور ٹویٹر وغیرہ شروع سے ہی اتنے مقبول تھے اور ان کا کوئی مدمقابل نہیں تھا؟

تو اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ آج سے 10، 15 سال پہلے تک تقریباً لوگ ان سے پوری طرح نا آشنا تھے۔ اگر ہم 15 سے 20 سال پیچھے جا کر سوشل میڈیا کی دنیا پر نظر ڈالیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ ایک ملین ماہانہ ایکٹیو صارفین تک پہنچنے والی پہلی سوشل میڈیا سائٹ۔ ”مائی اسپیس“ (MYSPACE) تھی جس سے آج تقریباً پوری دنیا ناواقف ہیں۔ آ ج ”مائی اسپیس۔“ اسپیس میں کہاں کھو گئی کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ ۔ !

مشہور تاریخ دان ابن خلدون نے تہذیبوں کے زوال کے متعلق کہا تھا کہ ”ایک تہذیب پروان چھڑتی ہے، پیک پر پہنچتی ہے اور پھر اس کا زوال شروع ہوتا ہے اور وہ تاریخ کا میں گم ہوجاتی ہے اور کوئی دوسری تہذیب اس کی جگہ لے لیتی ہے۔“ شاید سوشل میڈیا سائٹس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔

مائی اسپیس 2005 میں سب سے مشہور سوشل میڈیا سائٹ تھی جس کی صارفین کی کل تعداد 19 ملین تھی اور دوسری بڑی سائٹ یوٹیوب جس کے تقریباً 2 ملین یوززر تھے۔ 2006 میں یہ تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہوگئی یعنی مائی اسپیس کے صارفین کی تعداد 54 ملین سے تجاوز کرگئی جب کہ یوٹیوب یوزرز کی تعدا د 19 ملین تک پہنچ گئی۔ 2007 صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی، مائی اسپیس استعمال کرنے والوں کی تعداد میں محض 15 ملین اضافہ ہوا یعنی کل صارفین کی 69 تعداد ملین تک پہنچ گئی، جب کہ یوٹیوب کی مقبولیت کا گراف غیر یقینی طور پر اوپر چلی گئی۔

یوٹیو ب صارفین کی تعدادمحض ایک سال میں 19 ملین سے 143.9 ملین تک پہنچ گئی۔ اب یہاں سے مائی اسپیس جو کہ ایک ملین کا ہندسہ عبور کرنے والا پہلا سوشل میڈیا سائٹ تھا کا زاوال شروع ہوگیا۔ 2008 بھی یوٹیوب کے لیے ایک اچھا سال رہا جس میں اس کی صارفین کی تعداد 294 ملین، جبکہ مائی اسپیس صرف 72 ملین صارفین تک محدودرہی۔ یہ سال فیس بک کے لیے بہت بہترین سال رہا جس سے پہلے محدود پیمانے پر لوگ اس سے واقف تھے، 2008 تک اس کے صارفین کی تعداد 100 ملین تک پہنچ گئی۔

2010 میں فیس بک نے یوٹیوب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب زیادہ صارفین کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا۔ 2010 میں فیس بک کی ایکٹیو ویوزرز کی تعداد 517 ملین اور یوٹیوب کے 380 ملین رہی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ 2010 تک مائی اسپیس یوزرز کی تعدادکم ہوکر 68 ملین رہ گئی۔ 2005 سے 2008 تک مائی اسپیس ٹاپ سوشل میڈیا سائٹس میں شمار کیا جاتا تھا۔ مائی اسپیس کی مقبولت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ 2006 میں مائی اسپیس کو گوگل اور یاہو سے زیادہ سرچ اور وزٹ کیا گیا۔

مگر فیس بک کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولت کا گراف تیزی سے نیچے آنے لگا۔ 2013 میں فیس بک اور یوٹیوب دونوں ایک بلین ایکٹیو یوزرز کی فہرست میں شال ہوگئے۔ فیس بک 1.17 بلین کے ساتھ پہلے، یوٹیوب 1.07 کے ساتھ دوسرے، واٹس اپ 300 ملین کے ساتھ تیسرے جبکہ ٹمبلر، ٹویٹر اور انسٹاگرام کا شمار بھی ٹاپ سوشل میڈیا سائٹس میں ہونے لگا۔ 2016 تک واٹس اپ بھی ایک بلین کے ممبر کلپ میں شامل ہوگیاجبکہ 2018 میں فیس بک یوزرز کی تعداد 2 بلین تک پہنچ گئی۔

اگر ہم ان تمام ڈیٹا کا تجزیہ کریں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ تمام سوشل میڈیا سائٹس جنھوں نے وقت کے ساتھ اپنے صارفین کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے خود کو اپڈیٹ رکھا اور نت نئے فیچرز متعارف کیے انھوں نے اپنی بقا ء کو قائم رکھا۔ اور جو ایسا کرنے سے قاصررہے وہ اپنی افادیت کھو بیٹھے۔ کچھ کو اپنا مقام بنانے میں کافی وقت لگا جبکہ کچھ نے کم وقت میں ہی مقبولیت حاصل کیا۔ ٹک ٹاک کی مثال ہمارے سامنے ہے جو ستمبر 2016 میں لانچ ہوا اور 2018 کے وسط تک اس کی صارفین کی تعداد نصف بلین تک پہنچ گئی، یعنی اگر آسان الفاظ میں سمجھیں تو ہر ماہ 20 ملین یوزرز کا اضافہ ہوا۔

ان اعداد وشمار سے پتا یہ چلا کہ دنیا میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعدا د اپنا کافی وقت سوشل میڈیا کے مختلف پلٹ فارمز پر صرف کرتے ہیں۔ اب یہ لوگوں کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے جس سے پیچھا چھڑانا اب کافی مشکل ہے۔ مستقبل میں سوشل میڈیا کا ہماری زندگیوں میں کیا کردار رہے گا اس پر کچھ بات کرتے ہیں۔

1۔ آج تقریباً ہر کروبار اور سروز آن لائن دنیا میں منتقل ہوچکی ہے۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج سے چند سالوں پہلے کراچی میں ٹیکسیوں کی بھرمار ہوا کرتا تھا، تاہم کریم اور اوبر سروس کے آنے کے بعد ٹیکسی شہر کی سڑکوں میں نا ہونے کے برابر ہے۔ تاہم یہاں اہم بات یہ ہے کہ کریم اور اوبر اتنی جلدی عام پبلک تک رسائی کیسے حاصل کرلی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انھوں نے اپنی سروس کی سوشل میڈیا پلٹ فارمز کے ذریعے بھرپور طریقے سے نمائش کی اور لوگوں کو یہ باور کرایا کہ ان کی سروس ٹیکسی سے بہتر ہے۔ مجھے بھی کریم اور اوبر سروس کے بارے میں سے سے پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے سے ہی پتا چلا۔ اسی طرح فوڈ پانڈا کی سروس نے بھی کسی حد تک باہر کے کھونوں اور رستورن کے کروبار کو بھی متاثر کیا۔ اور آنے والے سالوں میں یہ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

2۔ آنے والے چند سالوں میں سوشل میڈیا لوگوں کے لیے مزید سورس آف انکم کا باعث بنے گا۔ آج لاکھوں کروڑں کی تعداد میں لوگ انٹرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔ آپ اپنی سکل اور اپناسروس کو فری لانس مارکیٹ میں پیش کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ آپ سے کام لیتے ہیں اور بدلے میں آپ کو معاوضہ دیتے ہیں۔ آ ج فری لانس دنیا میں بے تحاشا جابز دستیاب ہے مگر شرط ہے کہ آپ کے اندر کوئی اسکل اور پوٹینشل موجود ہو۔ گرافیک ڈیزائینگ، ویب ڈیولپمنٹ، کانٹنٹ رائٹینگ، ڈیجٹل مارکیٹنگ اور ان جیسی بے شمار قسم کی جابز موجودہیں۔ تو آنے والے سالوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا اور مزید روزگار کے مواقعے پیدا ہو نگے۔

3۔ جب سے سوشل کے پلٹ فارمزنے نت نئے فیچرز متعارف کرائے ہیں تب سے ٹی وی چینلزکی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آ گیا ہے۔ اب پور ا ٹی وی موبائل اور دوسرے گیجٹس میں سماں گیا ہے۔ فیس بک لائف فیچرز اور اپنے یوٹیوب چینلز کے ذریعے ٹی وی چینلز پورے 24 گھنٹے برا حراست ٹیلی کاسٹ ہوتے ہیں تو عام سوشل میڈیا صارف ان پلٹ فارمز کے نسبت کبھی بھی ٹی وی کو رجوع نہیں کرے گا۔ آنے والے چند سال ٹی وی چینلز کے لیے مزیدمشکل والے سال ثابت ہوسکتے ہیں۔

کیونکہ آج ایک فرد واحد خود ایک ٹی وی چینل ہے۔ آج سے کچھ سال پہلے اگر مبشر لقمان، طلعت حسین اور حسن نثار و غیر ہ ڈی چینل پر بیٹھ کر شو کرتے تھے تو آج ان سب نے سوشل میڈیا پر اپنا اپنا چینل کھول کر وہی شو کر رہے ہیں بلا کسی روک ٹوک اور دباؤ کے۔ اور بڑی تعداد میں لوگ ان کو دیکھ بھی رہے ہیں اور سن بھی رہے ہیں۔

4۔ سوشل میڈیا ایک آزاد گھوڑے کی طرح ہے، جس کا جب جو دل کرے وہ کر سکتا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی ٹوکنے والا نہیں۔ لوگوں کی ذاتی زندگی کو سوشل میڈیا کے ذریعے بڑی آسانی اور تیزی سے ہر خاص و عام کے سامنے عیاں کیا جاتا ہے۔ اگر یہ ایسا ہی چلتارہا تو آنے والے چند میں معاشرے میں انتشار اور بددلی بڑھ جائے گی۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ آنے والے چند سالوں میں اس کے روک تھا م کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام کیے جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *