گاڈ سیو دا کوین (God Save the Queen)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ 14 اگست 2020 کی گرم مرطوب شام تھی، ہوائی جہاز نے نیو اسلام آباد ائرپورٹ سے اڑان بھری تو طاہر نے اپنی سیٹ کی حفاظتی بیلٹ کھول دی، فضائی میزبان کی مترنم آواز گونجی جس نے ضروری سفری معلومات اور تفریح طبع کے مواد کے بارے میں بتایا۔ اس نے کھڑکی سے باہر اپنے دیس کے مدھم ہوتے مناظر پر حسرت بھری آخری نگاہ ڈالی اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔

اس کا دماغ سولہ سال پیچھے گھوم گیا جب وہ پہلی بار ہوائی سفر کر رہا تھا اوراسکی منزل ولائت تھی۔ ڈھیروں حسین خواب اور متعدد اندیشوں کے ملے جلے جذبات لئے وہ لندن ہیتھرو ائر پورٹ پر اترا تھا۔ یہ سن 2004 تھا جب پہلی بار اس نے اس حسین سر زمین پر قدم رکھا، یہاں پہنچتے ہی وہ اس کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ انجنئیرنگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ روز گار کی خاطر ہر قسم کے ادنیٰ سے ادنیٰ کام کرنے میں عار محسوس نہ کی۔

اپنا شباب اس نے اس ملک کو دے دیا، بدلے میں اس سرزمین نے اسے معاشی استحکام اور مضبوط مستقبل کا ایقان دیا۔ تعلیم مکمل کر کے اپنے شعبے کاپیشہ اختیار کیا اور پھر شادی ہوئی تو وہ بیوی کو لے کر مانچسٹر شفٹ ہو گیا اور ترقی کرتا ہوا اعلیٰ عہدے پہ پہنچا۔ خدا نے اولاد کی نعمت سے نوازا، اس نے یورپ اور امارات کی سیاحت کی اور زندگی کی تمام نعمتوں سے مالامال ہوا۔ اب اس کے پاس سب کچھ تھا، مگر پھر بھی دل میں ایک پھانس سی تھی، پاکستان میں بوڑھے ہوتے والدین سے دوری کا قلق اسے پریشان کیے رکھتا، اپنی ماں بولی اور مٹی کی خوشبو کی یاد اسے بے کل کیے رکھتی۔ ولائیت میں چکا چوند روشنیاں تھیں اور ابن آدم کا اژدھام بھی مگر نہیں تھیں تواپنائیت، چاہت اور بچپن کے ہم جولیوں کی محفلیں۔

اس کی بیوی ایک نیم خواندہ خالصتاً گھریلو خاتون تھی اور عامیانہ خیالات کی مالک تھی، اس نے کچھ سال تو شہریت حاصل کرنے کی خاطر پردیس میں جیسے تیسے گزارے مگرپھر یہاں کی دن رات کی مشقت بھری زندگی گزارنے کے بعد تنگ آ گئی۔ یہاں پردیس میں گمنامی بھری زندگی اور پھر گھر پہ بچوں کی دیکھ بھال، صفائیاں، برتن، راشن کی خریداری اور بچوں کے سکول کی ذمہ داری سب کچھ تو طاہر نے اس کے سر ڈال رکھا تھا اور خود رات گئے تک پاؤنڈ کمانے میں مصروف رہتا تاکہ یہاں کے گراں اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ وہ بھی رہ رہ کر پاکستان کو یاد کرتی تھی جہاں وہ اپنے شریکوں کو ولائیتی چیزوں کی چمک دمک سے حسد میں مبتلا کرتی، اور اپنا معیارزندگی اپنے اردگرد باقی لوگوں سے بہتر رکھ سکتی۔

آخر چودہ سال کی چکی کاٹنے کے بعد سن2018 میں طاہر نے اپنے دیس سدھارنے کا فیصلہ کر لیا اور سب کچھ سمیٹ کر پاکستان واپس شفٹ ہو گیا۔ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی معیت اور روزانہ کی ملاقاتیں، بہت خوش تھا وہ اپنے اس فیصلے پہ۔ کچھ عرصہ والدین کے ساتھ گزار کر اس نے اپنا گھر تعمیر کروایا اور بھائیوں اور سالوں کے ساتھ شراکت داری پہ کاروبار شروع کر لیا، اس نے اپنی ساری جمع پونجی اس کاروبار میں لگا دی۔ تب رفتہ رفتہ اس پہ اپنوں کے رنگ کھل کر سامنے آنے لگے۔

اس پر وا ہوا کہ اس کے لئے فرش راہ ہونے والی محبتوں کے پیچھے پیسے کی کشش کار فرما تھی۔ جب اپنے ہی دوستوں رشتے داروں نے اسے اپنے مفادات کی خاطر استعمال کیا اور ان کے اصل رویے بے نقاب ہوئے تو اس پر عقدہ کھلا کہ جن محبتوں کی کشش اسے پاکستان کھینچ لائی تھی وہ تو ایک سراب کے سوا کچھ نہ تھی۔ ادھر اس کی بیوی دن رات لوگوں پر اپنے برطانیہ پلٹ ہونے اور پیسوں کی دھاک بٹھانے میں مشغول رہتی، اس کا مطمعٴ نظر اپنے میکے والوں پہ داد عیش لٹانا، برانڈڈ پوشاکیں پہننا اور ضیافتیں اڑانا رہ گیا تھا۔

لوگوں کے دھوکے اور تیزی سے ختم ہوتی پونجی سے جلد ہی نوبت بچوں کی فیس کی مشکلات اور تنگئی حالات پر آنے لگی۔ ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں ہی ان عوامل نے اس کے جذبہٴ حب الوطنی کو شدید چوٹ پہنچائی۔ اس نے پھر سے انگلینڈ میں آن لائن نوکریوں کی تلاش شروع کر دی، جلد ہی سکائپ پر انٹر ویو ہوا اور جاب آفر ہو گئی۔ ڈیڑھ سال پہلے ولائت کو تین طلاقیں دینے والا طاہر آج اپنی پرانی محبوبہ سے ہی رجوع کر رہا تھا۔ اپنے گھونسلے میں سکون کی تلاش میں واپس ٓا کر پھر اڑان بھرنے پر مجبور ہونے والے پنچھی کی بھی کیا زندگی ہوتی ہے۔

آج وہ پھر سے اسی منزل کی طرف عازم سفر تھا جہاں کو وہ سولہ سال پہلے چلا تھا۔ پہلے اس کی نظر میں بیرون ملک مستقل سکونت اختیار کرنے والے پاکستانیوں کی حب الوطنی مشکوک ہوا کرتی اور وہ وہاں دوسرے درجے کے شہری بن کے زندگی گزارنے کو عزت پہ سمجھوتہ کرنے کے مترادف سمجھتا۔ مگر اب اسے خوب احساس ہو چلا تھا کہ اس کے اپنے ملک میں پہلے درجے کے شہریوں کی بھی آبرو سلامت نہیں، یہاں عزت تھی تو طاقت، اختیار اور دھن کی تھی۔

اپنے پرائے سب پیسے کے پجاری تھے اور لوٹ کھسوٹ ہی ہماری قوم کا شیوہ بن چکا تھا۔ غریب کا مقام شرف انسانیت سے بھی گر چکا تھا۔ یہ سب سوچ کر طاہر کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اپنے سہانے خواب ٹوٹنے پر وہ بہت رنجیدہ تھا۔ اس نے کافی کی چسکی لی جو ایئر ہوسٹس کب کی اس کے سامنے رکھ کر جا چکی تھی۔ اس اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ اب کبھی وہ واپس آنے کے بارے میں نہیں سوچے گا۔

بیشتر لوگ صرف انہی وجوہات کی بنا پر سات سمندر پار بسنے پر مجبور ہیں۔ گرچہ وہ وطن کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں اور اپنوں کی قربت کے خواہاں ہیں، لیکن حقیقت آشکار ہونے پر اپنوں کے رویے ہی مایوس کرنے لگتے ہیں۔

طاہر کا دل اس سب سے بہت خفاہو چکا تھا۔ اس نے تر آنکھوں سے کھڑکی سے باہر دیکھا تو ترتیب سے بنے ہوئے خوب صورت سرخ چھتوں والے گھروں کی قطاریں نظر آنے لگی تھیں، یہ ہونسلو (لندن) کا علاقہ تھا جس سے وہ خوب واقف تھا، ہیتھرو ائرپورٹ اب صرف چند منٹ کی دوری پر تھا، اس کی منزل، ملکہ کی سرزمین، آن پہنچی تھی۔ اس نے کانوں سے ہیڈفون لگائے جس پہ بر طانیہ کا قومی ترانہ گاڈ سیو دا کوین (God Save the Queen) کی دھن بج رہی تھی، اس نے زیرلب ترانے کے بول گنگنائے اور بے توجہی سے میگزین کے ورق الٹنے میں مصروف ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر کامران عبداللہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *