چینی عوام ۔ بلا کے تمباکونوش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چینی عوام بلا کے سگریٹ نوش واقع ہوئے ہیں۔ کرونا وائرس کے نزول کے ابتدائی دنوں میں چین میں ایک کارٹون بہت مقبول ہوا۔ ایک آدمی نے نیلے رنگ کا سرجیکل ماسک پہنا ہوا ہے اور اس میں سگریٹ پینے کے لئے ایک سوراخ بنا ہوا ہے۔ یعنی آپ اپنی صحت کا خیال رکھ بھی رہے ہیں اور نہیں بھی رکھ رہے۔ واضح رہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی سگریٹ مارکیٹ ہے۔ شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق تین سو ملین سے زیادہ چینی سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

صحتمند چین 2030 ء پروگرام کے حصے کے طور پر چینی حکومت سگریٹ نوشی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ویسے یہ کوشش نئی نہیں ہے۔ 1986 ء میں وہاں ہمارے قیام کے دوران بھی سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلائی جا رہی تھی۔ چین کی مرکزی محب وطن طبی ایسوسی ایشن اور پبلک ہیلتھ منسٹری نے پانچ لاکھ دس ہزار افراد کا سروے کیاتو پتہ چلا کہ ملک کی مردانہ آبادی کا ساٹھ فی صد سے زائد حصہ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہے۔ شنگھائی میں رسولیوں پر تحقیق کرنے والے ادارے نے 1982 ء میں ایک لاکھ دس ہزار افراد کا سروے کیا تو پتہ چلا کہ سینتالیس فی صد مرد اور چھ فی صد عورتیں سگریٹ نوشی کرتی تھیں۔ 2019ء میں مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 50.5 %اور عورتوں میں 2.1 %تھی۔

کرونا کی وبا کے ابتدائی دنوں میں جب چینی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر سگریٹ نوشی ترک کرنے کی تلقین کی جا رہی تھی تو بعض سموکر حضرات کی طرف سے یہ تاثر پھیلایا جا رہا تھا کہ سگریٹ نوشی کرونا وائرس سے بچاتی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جب 2003 ء میں چین میں SARSکی وبا پھیلی تھی تب بھی سگریٹ کے عادی افراد میں سے کچھ کا کہنا تھا کہ سگریٹ اس وائرس سے بچاتی ہے۔ جب کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسموکنگ قوت مدافعت کو کمزور کرتی ہے۔ تنفس کی بیماری پیدا کرنے والا وائرس کووڈ 19 چین میں پیدا ہوا۔ اس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ ویسے تو دیگر عوامل کے علاوہ یہاں کی گنجان آبادی تھی لیکن کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انتہا درجے کی اسموکنگ بھی اموات کی وجہ تھی۔

اکثر چینی مرد پندرہ سے چوبیس سال کی عمر کے دوران سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں جب کہ عورتیں عام طور پر تیس سال کی عمر کے بعد سگریٹ پینا شروع کرتی ہیں۔ پہلے اعلیٰ تعلیم یافتہ افرد میں سگریٹ نوشی کا رحجان کم تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نوجوان افراد اس لئے سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کے مضر اثرات سے پورے طور پر آگاہ نہیں ہوتے۔ اکثر لڑکے اپنے باپوں کے سگریٹ چرا کر پیتے ہیں اور یوں انہیں احساس ہوتا ہے کہ اب وہ مرد بن گئے ہیں، بچے نہیں رہے۔

دوسرے ٹی وی اور اخبارات میں وہ سگریٹ نوشی کے ترغیب آمیز اشتہارات دیکھتے رہتے ہیں۔ اکثر فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں ہیرو کو چین اسموکر دکھایا جاتا ہے۔ اس کا بھی نوجوانوں پر بہت اثر پڑتا ہے۔ تیسرے، جب یہ نوجوان عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو ہر لمحہ انہیں سگریٹ کے عادی افراد سے واسطہ پڑتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ بھی ان ہی کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔

ایک دن میں دو ڈبیا سگریٹ پینے والے افراد کے سرطان میں مبتلا ہونے کا عام افراد کے مقابلے میں تیس فی صدزیادہ امکان ہوتا ہے۔ عادی افراد کو سگریٹ نوشی ترک کرنے پر آمادہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ صرف معمر، تعلیم یافتہ اور کینسر کے مرض میں مبتلا لوگوں سے ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ آپ کی بات پر کان دھریں گے۔ اور پھر تمباکو انڈسٹری کی مزاحمت کا بھی سامنا ہو گاجو خوب پھل پھول رہی ہے۔

چین میں آکو پنکچر کو بھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ آکو پنکچر چین کا ایک ایسا طریقۂ علاج ہے جو پاکستان میں بھی مقبول ہے۔ جہاں تک مغربی مکتب طب کا تعلق ہے، اس بارے میں دو متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض ایلوپیتھک ڈاکٹر اس طریقۂ علاج کی افادیت سے سرے سے منکر ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ اگر ایلوپیتھک علاج کے ساتھ ساتھ آکو پنکچر کا بھی استعمال کیا جائے تو جلدی شفا ہوتی ہے۔ چین میں اس طریقہ ء علاج کو بے حد اہمیت حاصل ہے۔

اور اسے موئثر سے موئثر بنانے کے لئے تحقیق ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر پہلے صرف مخصوص مقامات پر سوئیاں لگائی جاتی تھیں۔ اب ان میں بیٹری کی مدد سے ہلکا سا کرنٹ بھی دوڑایا جاتا ہے۔ اور ایک اور پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب ان سوئیوں کے ذریعے وٹامنز بھی متاثرہ مقام میں داخل کیے جاتے ہیں۔ اور اب سگریٹ نوشی کو ترک کرنے میں بھی اس سے مدد لی جا رہی ہے۔

آج کل دنیا بھر میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لئے مختلف طریقے آزمائے جا رہے ہیں۔ سگریٹ نوشی کو خیر باد کہنے کے متمنی لوگوں کے لئے خاص طرح کی مٹھائی اور چائے تیار کی گئی ہے لیکن چینیوں کا کہنا ہے کہ ان کا طریقہ یعنی آکو پنکچرزیادہ موثر ہے۔ آکو پنکچر کی بدولت سگریٹ نوشی پر متلی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اور ایک اور صورت میں سگریٹ کا ذائقہ برا لگنے لگتا ہے۔ ان طریقوں کی بدولت پچاس سال سے سگریٹ پینے والے بھی سگریٹ چھوڑ دیتے ہیں۔

دی لینسٹ میڈیکل جرنل کی 2015 ء کی تحقیق کے مطابق اگر چینی اسی رفتار سے سگریٹ پیتے رہے تو 2030 ء تک بیس لاکھ چینی اس وجہ سے مر جائیں گے۔ چینیوں پر اس انکشاف کا کوئی اثر نہیں ہوا کیونکہ اب سگریٹ نوشی ان کی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ چینی صرف خود کو ڈی سٹریس کرنے کے لئے سگریٹ نہیں پیتے بلکہ نجی اور پرو فیشنل ملاقاتوں میں سگریٹ تحفے کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ ایک چینی افسر کے بقول اگر آپ کے ارد گرد ہر کوئی سگریٹ پی رہا ہو اور آپ نہ پئیں تو پھر آپ کو لوگوں میں گھلنے ملنے میں مشکل پیش آتی ہے اور آپ کے کام میں پیچیدگی پیدا ہوتی ہے، لوگ آپ کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔

ایک عام تاثر یہی ہے کہ چینیوں کی اکثریت سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے پورے طور پر آگاہ نہیں ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ڈبلیو ایچ او

کے مطابق صرف پچیس فی صد بالغ چینی افراد سگریٹ نوشی کے نقصان دہ اثرات سے آگاہ ہیں اور ایک تہائی سے بھی کم اکثریت سیکنڈ ہینڈ یا Passive اسموکنگ کے نقصانات سے آگاہ ہے۔ اس لئے یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ صرف دس فی صد چینی اپنی مرضی سے سگریٹ نوشی ترک کرتے ہیں جب کہ زیادہ تر چینی حضرات بچپن میں ہی سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے 2013 ء کے ایک سروے کے مطابق پانچ چھ سال کی عمر کے بچوں میں سے نوے فی صد سگریٹ کی کسی ایک برانڈ کو پہچانتے ہیں اور بیس فی صد کو توقع تھی کہ وہ بڑے ہو کر سگریٹ نوشی کریں گے۔

تمباکو نوشی کے حوالے سے صحت عامہ کے لئے کی جانے والی کوششوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ تمباکو کی پیداوار، مینو فیکچرنگ اور استعمال کے حوالے سے چین دنیا میں پہلے نمبرپر ہے۔ تمباکو کی صنعت چین کی آمدنی اور محصولات کا بڑا حصہ فراہم کرتی ہے۔ آٹھ ملین لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ یوں چینی حکومت مشکل میں پڑ جاتی ہے۔ ایک طرف وزارت صحت ہے جو تمباکو کے استعمال کو محدود کرنا چاہتی ہے جب کہ دیگر محکمے تمباکو کی فروخت سے ہونے والے منافع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

بہر حال چینی حکومت دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے بارے میں ہونے والی تحقیق سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی اور تمباکو کے استعمال پر سخت قسم کی پابندیاں لگاتی رہتی ہے۔ چین نے 2005 ء میں ڈبلیو ایچ او کے تمباکو کنٹرول کنونشن کی توثیق کی۔ اس میں تمباکو کی تشہیراور فروغ کے حوالے سے اقدامات اور آگاہی پھیلانے کے اقدامات شامل ہیں۔ دسمبر 2013 ء میں چینی حکومت نے پارٹی اور سرکاری عہدیداروں کو پبلک میں تمباکو نوشی سے منع کر دیا۔

حال ہی میں چینی حکومت نے ماس میڈیا، عوامی جگہوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ کے اشتہارات پر پابندی لگا دی ہے۔ مختلف شہروں نے بھی اس حوالے سے اقدامات کیے ہیں۔ بیجنگ نے ان ڈور اسموکرز پر بھی سخت قسم کی پابندیاں لگا دی ہیں۔ یہ کوششیں کاغذ پر تو اچھی لگتی ہیں لیکن عملی طور پر چین میں تمباکو نوشی میں کمی کے آثار نہیں دکھائی دیتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply