شعور کی نگرانی اور مفروضے کو حقیقت بنانے کا عمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست پر گرفت مضبوط رکھنے لییٔے جھوٹ کا استعمال فاشسٹ حکومتوں کا اہم ترین ہتھیار رہا ہے، ہٹلر کے نازی جرمنی میں ”جھوٹ بار بار اتنا دہراؤ کہ سچ لگنے لگے“ کے خطرناک حربے کو اتنی کامیابی سے استعمال کیا گیا کہ جرمن قوم میں دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں اپنے برتر ہونے کا احساس خوب راسخ ہو گیا۔

اس جھوٹ کا سہارا لے کر ہٹلر نے جرمنی کو دوسری جنگ عظیم کے جہنم میں جھونکا جو بالآخر نازی جرمنی کی شرمناک شکست، جرمنی کی دو ٹکڑوں میں تقسیم اور ہٹلر کی خودکشی پر منتج ہوا۔

لوگوں کو خود فریبی میں مبتلا کرنے کا یہ حربہ دور حاضر میں پرسیپشن مینیجمنٹ کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس انگریزی اصطلاح کی تشریح ”مفروضے کو حقیقت ثابت کرنے کا عمل“ کے طور پر بھی کی جا سکتی ہے۔ خصوصاً کٹھ پتلی تیار کرنے میں اقتدار پر حاوی گروہ اس حکمت عملی کا ہر ممکن استعمال کرتا ملے گا۔

شہریوں کے شعور کو ایک خاص سطح سے آگے سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر کے منجمد کر دینا مفروضے کو حقیقت ثابت کرنے کے عمل کا اہم ترین مقصد ہے کیونکہ فاشسٹ قوتوں کے لییٔے سب سے بڑا خطرہ سیاسی شعور ہے۔

سوال کرنے کا شعور، حق مانگنے کا شعور، وسایٔل کی غیرمنصفانہ تقسیم پر عدم اطمینان کا شعور، نا انصافی پر احتجاج کا شعور، غرض ہر اس بات کا شعور جو فاشسٹ اقتدار کے لییٔے معمولی سا خطرہ ہو سے نمٹنے کیلییٔے اغوا، تشدد، ماورایٔے عدالت قتل سے لے کر خاموش نگرانی کے دوران حاصل کییٔے گیٔے مواد کو بلیک میلنگ کیلییٔے استعمال کرنا اس مخصوص طرز حکمرانی کا ایک اہم ہتھیار ہے۔

جبر کی حکومت میں آہنی ہاتھ کی حکمت عملی ”پرسیپشن مینجمنٹ“ یعنی ”مفروضے کو حقیقت ثابت کرنے کے عمل“ میں استعمال کی جاتی ہے، کمزور یا اخلاقی جرعت سے عاری صحافی اس حکمت عملی پر عملدرامد میں معاون بن جاتے ہیں، جبکہ نڈر، بیباک اور اعلی ’اخلاقی اقدار سے حامل صحافیوں کو حرف حق کے اظہار پر روزگار سے فارغ کردییٔے جانے کے معاشی دباؤ سے لے کر تشدد اور اکثر جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کی قیمت ادا کرتے تک دیکھا جا سکتا ہے۔

عوامی شعور کو اپنی مرضی مطابق ڈھالنے کے لییٔے الیکٹرانک میڈیا اور اس سے وابسطہ ایسے صحافی جو بیباک تبصرہ کرتے ہوں کو نا صرف دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان پر معاشی دباؤ کا بے دریغ استعمال عام ہوتا ہے، متعدد صحافی جو اپنے کھرے اور ایماندار تبصروں کے لییٔے مشہور ہوں کے میڈیا ہاؤسز پر دباؤ ڈال کر ان کے روزگار کا خاتمہ یقینی بنایا جاتا ہے، میڈیا ہاؤس کے مالکان احکامات کی حکم عدولی کے نتیجے میں کیٔی دہایٔیوں پرانے معاملات کی بنیاد پر جیل بھیجے جا سکتے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز کی محکماتی احکامات پر بجا آوری سے فارغ ہو جانے والے صحافی گھٹن کے ماحول میں مہذب دنیا کے یو ٹیوب جیسے تحفے کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے لگیں تو اس پر بھی پابندی لگانے کے واضح اشارے ملنے لگتے ہیں، گویا شعور میں اضافے کی کویٔی بھی کوشش ناقابل قبول ہوتی ہے۔

بلا تحقیق، بلا ثبوت، ملکی پارلیمنٹ میں ڈھٹایٔی اور اعتماد سے گلا پھاڑ پھاڑ کر اور الزام کو بغیر کسی ثبوت بار بار دہرا کر عوام کے ذہنوں میں جھوٹ کو سچ بنا کر بٹھانا اس حکمت عملی کا اہم ترین حصہ ہے، اس مقصد کے حصول کیلیٔے سرکاری محکموں اور وسائل کا بے دریغ استعمال عام نظر آتا ہے، نتیجتاً پانامہ سے شروع کیا جانے والا جھوٹ بالآخر اقامہ کی خاک چاٹتا نظر آتا ہے۔ احتساب کے نام پر جھوٹے مقدموں میں مہینوں کچھ ثابت کییٔے بغیر ناجایٔز طور پر اہم اور ناقابل فروخت سیاسی رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر جبرا ”وفاداری تبدیل کروانے کی کوش عام حربہ ہے۔

فاشسٹ طرز حکومت کیونکہ اپنی فطرت کے مطابق کلی اختیار کا محتاج ہوتا اس لییٔے اپنی بھیانک غلطیوں اور اقدامات پر قوم سے معافی مانگنے اور کسی شفاف جج کے لکھے فیصلے کو اپنی اصلاح کے لییٔے ہدایت سمجھنے کے بجائے جھوٹ کو سچ بنانے کے ماہر معروف آلہ کاروں کے ذریعے کسی بھی بے داغ جج کو جھوٹے مقدمہ میں گھسیٹنے کی جرعت اور ہرممکن طرح سے ذہنی اذیت پہچانے کے مشن میں مشغول ہو جاتے ہیں، اس مقصد کے حصول کے لییٔے راتوں رات ”اسیٹ ریکوری یونٹ“ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے، ہر لاحاصل کوشش کے باوجود پروپیگنڈا مشینری ”مفروضے کو حقیقت ثابت کرنے کے عمل“ کی خاطر جج پر بس نہ چل پائے تو جج کی اہلیہ کو ہدف بنانا شروع کردیتے ہیں، ان کے پیچ و تاب دیکھنے والے با آسانی جان سکتے ہیں کہ عدلیہ میں شفاف کردار جج کی موجودگی اس گروہ پر کتنی گراں گزرہی ہے، نا انصافی اور لاقانونیت کے حقیقی سبب کو جاننے میں کھلے عام نظر آنے والے یہ اقدامات بہت کافی ہیں۔

صحافت، سیاست اور انصاف سب کو بیدخل کرتے وقت فاشسٹ قوتیں ہٹلر کی آمریت کا شرمناک اختتام، شکست اور خودکشی بھول جاتی ہیں، جھوٹ اور فریب سے شعور پر گرفت کی کوششوں میں مصروف عناصر خود کو دنیا کے فرضی نمبر ون ہونے کی تشہیر میں ایڑی چوٹی کا چاہے کتنا ہی زور لگادیں در حقیقت ہٹلر کی طرح شکست ان کی منتظر ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply