کشور کمار: ایک دلنشیں آواز، ایک مدھر سرگوشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

4 اگست 2019 ء برصغیر کے عظیم فنکار، کشور کمار کا 91 واں یوم پیدائش ہے، اور جب لفظ ’فنکار‘ استعمال کیا جا رہا ہے، تو اس سے مراد صحیح معنوں میں وہ فنکار ہے، جو بہ یک وقت گلوکار بھی تھے، تو اداکار بھی! گیت نگار بھی تھے، توموسیقار بھی! فلموں کے پروڈیوسر بھی تھے، تو مکالمہ نگار بھی! جن کا تقریباً 41 سالہ فنی کیریئر اتنے تنوع سے بھرپور ہے، جس کی نظیر ہمارے خطے ہی نہیں، بلکہ دنیا کے بہت سے خطوں میں نہیں ملتی۔

کشور کمار کا فن کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہونا نہ صرف ان کو عطا ہوئی خداداد صلاحیتوں کا نتیجہ تھا، بلکہ اس میں ان کی اپنی ریاضت کا بھی بڑا عمل دخل تھا۔ آج سے ٹھیک 90 برس قبل، 4 اگست 1929 ء کو برطانوی ہندوستان کے مغربی بنگال کے مدھیا پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے ”کھنڈوے“ میں پیدا ہونے والے آبھاس کمار گنگولی، جو آگے چل کر کشور کمار بنے، نے گوکہ ایک فنکار گھرانے میں پرورش پائی اور اپنے بڑے بھائی اشوک کمار کے فلمی دنیا میں پہلے سے موجود ہونے کی وجہ سے اس فنی دنیا میں آنے کے لئے تو اتنی جدوجہد تو نہیں کرنی پڑی، جتنی کسی اور کو کرنی پڑتی، مگر ان کو اداکاری خواہ گلوکاری کے میدان میں اپنے آپ کو منوانے کے لیے اور اپنی جگہ بنانے کے لئے جو تگ و دؤ کرنی پڑی، اس کا اندازہ یا تو خود کشور کمار کو ہوگا، یا پھر اس دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکنے والے فن کے ناقدین کو۔

آج کی اس نوشت میں کشور کمار کا ذکر کرنے کا مقصد ان کے حوالے سے عمومی باتیں کرنا نہیں ہے، بلکہ کشور دا کے حوالے سے ایک آدھ ایسے واقعات کو آپ کے ساتھ بانٹنا ہے، جن کا ذکر عمومی طور پر آپ کو ان کے احوال زیست میں نہیں ملتا۔ آپ کو ان کے احوال زندگی تو ”ویکیپیڈیا“ سے لے کر ان کے مداحوں کی جانب سے بنائی ہوئی متعدد ویب سائٹس پر مل جائے گا، مگر ان کے حوالے سے واقعات فقط ان لوگوں کی زبانی ہی سننے کو ملیں گے، جن کو ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

کشور کمار نے لگ بھگ 113 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وہ تقریباً 40 پکچرز میں بحیثیت ہیرو نظر آئے۔ ان فلموں میں سے اکثریت ان کی اپنی فلم کمپنی ”بمبئی ٹاکیز“ کی جانب سے بننے والی فلموں کی تھی، مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ کشور دا نے دیگر پروڈیوسرز کے ساتھ کام نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے دور کے کم و بیش ہر پروڈیوسر کے ساتھ کام کیا۔ ان فلموں میں اکثریت کامیڈی موویز کی تھی۔ اگر پکچرز مزاحیہ نہیں بھی تھیں، تو بھی کشور دا ان میں سے بیشتر میں مزاحیہ کردار ادا کرتے ہوئے ہی نظر آئے، جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی وضع میں بھی انتہائی لطیف اور شوخی مائل، خوش مزاج طبیعت کے مالک تھے، جو اپنی عام زندگی میں بھی لوگوں کو ہنستے ہنساتے رہتے تھے۔

معروف گلوکارہ اور کشوردا کی ساتھی، آشا بھوسلے کا کہنا ہے کہ وہ عام ریکارڈنگس میں بھی اتنا ہنساتے رہتے تھے کہ گلے میں خراش آجاتی تھی اور میں ان کو ہاتھ جوڑ جوڑ کر کہا کرتی تھی کہ: ”کشوردا! اتنا نہ ہنسائیں! گلہ بیٹھ جائے گا! مگر وہ بس نہیں ہوتے تھے۔“ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہ لیا جائے کہ وہ غم سے آشنا نہیں تھے۔ انہوں نے ”مسٹر ایکس ان بمبئی“ جیسی فلموں میں ٹریجڈی کردار ادا کر کے اپنے آپ کو المیہ اداکاری کے میدان میں بھی خوب منوایا۔

بحیثیت پلے بیک گلوکار، کشور کمار کے فنی سفر کا آغاز تو 1948 ء میں بمبئی ٹاکیز کے بینر تحت بننے والی فلم ”ضدی“ میں دیو آنند پر پکچرائز ہونے والے گانے ”مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں، جینے کی تمنا کون کرے!“ گانے سے ہوا، جو انہوں نے کھیم چند پرکاش کی موسیقی میں بالکل کندن لال سہگل کے انداز میں گایا، جو اس دور کا بہت مقبول اور چلتا ہوا انداز تھا۔ گو کہ کشور دا کے فنی سفر کا پہلا گانا ہی المیہ تھا، مگر اس کے بعد کشور دا کو شہرت ’منیم جی‘ ، ’ٹیکسی ڈرائیور‘ ، ’فنڻوش‘ ، ’نو دو گیارہ‘ ، ’جھمرو‘ ، ’ہاف ٹکٹ‘ ، ’چلتی کا نام گاڑی‘ ، ’آشا‘ اور ’نیو دہلی‘ جیسی فلموں میں وہ مزاحیہ گیت گانے سے ملی، جن گیتوں نے لاکھوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں۔

کہتے ہیں کہ کشور کمار کو سہگل کے رنگ سے نکال کر اپنا رنگ اور ڈھنگ دینے والے موسیقار، سچن دیو برمن (المعروف: ایس۔ ڈی۔ برمن) تھے، جنہوں نے کشور دا سے ہر رنگ کے گانے گوا کر نہ صرف ان کو متنوع (ورسٹائل) گلوکار ثابت کیا، بلکہ ان کو ان کا اپنا اصل رنگ بھی دیا، جس رنگ کو آج اس خطے کا ہر دوسرا گلوکار اپنانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ کشور دا کو جہاں باپ (ایس۔ ڈی۔ برمن صاحب) نے جوہری کی طرح تراشا، وہیں ان کے بیٹے، آر۔ ڈی۔ برمن (پنچم دا) نے ان سے ایسی ایسی میلوڈیز (دھنیں ) گوائیں، جو صدیوں تک یاد رکھی جائیں گی اور دنیا کشور دا، آر۔ ڈی۔ برمن اور آشا بھوسلے کے حسین سنگم کو کئی نسلوں تک بھلا نہیں پائے گی۔

بات چل رہی تھی کشور کمار کے مزاحیہ گیتوں کی، جو آج بھی سن کر گدگداتی صدا کو کوئی ہنسانے سے روک نہیں سکتا، مگر کشور کو ورسٹائلٹی دینے والے ایس۔ ڈی۔ برمن نے کشوردا سے وہ المیہ گیت بھی گوائے، جو درد کاعنوان بن گئے۔ گوکہ آر۔ ڈی۔ برمن نے کشوردا سے زیادہ تر رومانوی گیت گوائے، مگر کئی المیہ، طربیہ اور مزاحیہ گیت بھی ان سے گوانے کا اعزاز پنچم دا کو حاصل رہا۔ ”خوشبو“ فلم کے مشہور زمانہ دکھ بھرے گیت ”اؤ مانجھی رے! اپنا کنارہ ندیا کی دھارا ہے۔“ کی فائنل ریکارڈنگ کے دوران اس وقت اسٹوڈیو میں موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ جب اس گانے کے انتہائی دکھ میں ڈوبے ہوئے بول کشور دا گا رہے تھے، تو آر۔ ڈی۔ برمن آنکھوں میں آنسو لئے اسٹوڈیو بوتھ کی دیوار کو مسلسل مکے مارے جا رہے تھے اور اپنے آپ سے کلام کرتے ہوئے یہ کہے جا رہے تھے کہ: ”یار! کہاں سے لایا ہے اتنا درد یہ بندہ! کس گلے سے نکل رہی ہے یہ آواز!“

فلم ”محبوبہ“ کے مشہور زمانہ گیت ”میرے نیناں ساون بھادوں“ کی ریکارڈنگ کا مشہور قصہ تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا کہ پنچم دا کی طرف سے اس گیت کی دھن تیار ہو جانے کے بعد جب کشور دا نے یہ دھن سنی تو ان کو مشکل لگی، کیونکہ کشور دا باقاعدہ طور پر موسیقی کی فنی رموز سے آشنا نہیں تھے، لہذا انہوں نے پنچم دا سے کہا کہ چونکہ یہی گیت فلم میں ہیروئن پر فلمائے جانے کے لئے لتا منگیشکر نے بھی گانا ہے، تو گویا وہ پہلے لتا جی کی آواز میں یہ گیت ریکارڈ کر لیں۔

پنچم دا نے ایسا ہی کیا اور یہی گیت پہلے لتا جی کی آواز میں ریکارڈ ہوا۔ کشوردا نے اس گیت کی ریکارڈنگ لی اور اسے مسلسل ایک ہفتے تک سننے کے بعد اس کی دھن کو ازبر کر کے گایا۔ یہ بھی کمال ہے کہ ایک موسیقی ناں سیکھا ہوا گلوکار بھی اپنے ڈھائی ہزار سے زائد گائے ہوئے گیتوں میں سے کسی ایک میں بھی بے سرا نہیں ہوا اور کہیں سے نہیں لگتا، کہ وہ موسیقی کی فنی رموز سے نا آشنا ہیں۔ کشور کمار نے اپنے 42 سالہ فنی کیریئر میں بحیثیت گلوکار 2 ہزار 905 گانے گائے، جن میں سے 2648 ہندی اردو، 154 بنگالی، 8 گجراتی، 4 بھوجپوری، 3 مراٹھی، 3 اوڑیا، جبکہ آسامی، انگریزی، پنجابی، کنڑا اور ملیالم زبانوں میں گایا ہوا ایک ایک گانا شامل ہے۔

ان فلمی گیتوں کے علاوہ کشور دا نے 80 غیر فلمی (پرائیویٹ) گانے بھی گائے، جن میں سے 13 ہندی اردو، جبکہ 67 بنگالی گیت شامل ہیں۔ کشور کمار 27 بار بھارتی فلمی صنعت کے سب سے بڑے ایوارڈ ”فلم فیئر“ کے لئے نامزد ہوئے، اور ان کو 8 مرتبہ یہ اعزاز حاصل کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے 12 فلموں کو ڈائریکٹ کیا۔ 14 فلمیں پروڈیوس کیں۔ 24 گیت لکھے۔ 15 فلموں کی کہانیاں لکھیں۔ اور 5 فلموں کا اسکرین پلے بھی تحریر کیا۔ ساتھ ساتھ انہوں نے کئی گیتوں کی خود دھنیں بھی تخلیق کیں۔ فلمی دنیا کے اتنے سارے شعبوں میں بہ یک وقت کامیابی سے اپنا لوہا منوانے والا ایسا یکتا فنکار کسی اور ملک کی فلم صنعت میں نہیں ملتا، جو اپنے ہر رنگ میں کامیاب بھی رہا ہو۔

سچا فنکار صدیوں کی عمر پاکر آتا ہے اور لوگوں کے دلوں پر حکمرانی اس پر انعام الاہی ہوتا ہے۔ آج کشور دا کے دنیا بھر میں پھیلے کروڑوں مداح ان کی سالگرہ منا رہے ہیں، جن کو اس منفرد فنکار اور ٹیلنٹ کے اس ”پاور ہاؤس“ کی سالگرہ مبارک ہو!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply