عدم اطمینان شرط انقلاب ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو سرمایہ دارانہ نظام کے بہت سے گران بہا تحفے ہمیں ملے ہیں لیکن سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اس نظام نے ہمارے معاشرے میں پڑھنے لکھنے کا سب سے بڑا محرک فکر معاش کو بنا دیا ہے۔ طالب علموں کو بچپن سے پڑھائی کا مقصد اچھی نوکری بتایا جاتا ہے اس لیے انہی شعبہ جات میں داخلے زیادہ ہوتے ہیں جن سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جوان کو ایک اچھی نوکری مل سکے اور یہ اپنی باقی عمر سرمایہ دارانہ نظام کے زیر سایہ معیشت کا پہیہ چلانے میں گزار دے۔

اجتماعی علوم پڑھنے والے کو اچھی نوکری تو کوئی کیا دے گا، اس بیچارے کو تو معاشرے میں پڑھا لکھا ہی نہیں سمجھتا جاتا۔ لہذا مٹھی بھر جوان جو اجتماعی علوم میں دلچسپی رکھتے بھی ہیں ان کو بھی ایسا ڈرایا جاتا ہے کہ خواہ نخواہ یہ بھی رائج بھیڑ چال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تہتر سال اس ڈگر پر چلنے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم معیشت بھی نہ بنا پائے اور اپنی تہذیب و تمدن کا بھی اپنے ہی ہاتھوں سے گلا گھونٹ دیا۔ ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار، شہرت اور سیاسی برتری کی خاطر اس مردہ معاشرے میں انقلاب کے نام پر کئی بار عوام کو چونا لگانے والوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن جتنا قصور دھوکہ دینے والوں کا ہے اتنا ہی ہر بار فریب کھا جانے والی عوام کا بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جوانوں کے سامنے انقلاب کی نمایاں خصوصیات کو بیان کیا جائے تاکہ اجتماعی علوم کی افادیت بھی اجاگر ہو اور مردہ تہذیب کے اندر حقیقی روح انقلاب پھونکی جا سکے۔

آغاز میں کسی بھی معاشرے کے اندر لائی جانے والی کسی بھی تبدیلی کو انقلاب کہا جاتا تھا۔ تدریجاً لفظ انقلاب نے اپنا درست مطلب ڈھونڈ لیا اور اپنے اندر ایک مخصوص معنی کو شامل کر لیا۔ لہذا اب ہر تبدیلی یا اصلاح کو انقلاب سمجھنا غلط ہوگا۔ جیسا کہ ہمارے ہاں پہلے سے موجود فاسد نظام کی ملمع کاری کو بھی انقلاب کہہ دیا جاتا ہے، یا ایک ایک کر کہ مختلف شعبہ جات کی اصلاح کا نام بھی انقلاب رکھ دیا جاتا ہے جبکہ انقلاب اس معاشرتی تبدیلی کو کہتے ہیں جو ناگہان ہو، ہمہ جہت ہو، اور یہ تبدیلی کسی آئیڈیالوجی کے نتیجے میں رونما ہوئی ہو۔

انقلاب کی پہلی خصوصیت عدم اطمینان ہے۔ حالات کسی بھی طرح کے ہوں، ایک طبقہ تھوڑی بہت اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے لیکن مجموعی طور پر موجودہ حالات سے راضی ہوتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ موجودہ حالت کو قطعاً قبول نہیں کرتا اور چاہتا ہے کہ اس حالت کو اصلاحات نہیں بلکہ مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہر عدم اطمینان بھی انقلاب کا پیش خیمہ نہیں بن سکتالہذا یہ جاننا لازمی ہے کہ عدم اطمینان کی نوعیت کیا ہے؟ مثال کے طور پر ہمارا میڈیا عدم اطمینان تو بھرپور پیدا کرتا ہے مگر کبھی بھی عوام کے اندر سچے احساسات پیدا ہونے ہی نہیں دیتا اور ان کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر ہمیشہ سیاسی سراب کے پیچھے لگائے رکھتا ہے۔ مذہبی رہنما بھی ذاتی مفادات کی خاطر ایسا مذہبی سراب بناتے ہیں کہ اپنی آنکھوں میں عقل رکھنے والے سادہ لوح عوام تمام عمر اس سراب کے دھوکے میں گزار دیتے ہیں اور کبھی بھی یہ راز ان پر افشا نہیں ہوتا کہ جو دکھائی دے رہا ہے وہ حقیقت نہیں ہے بلکہ محض دھوکہ ہے۔

احساس عدم اطمینان شرط انقلاب ہے، لیکن وہ سرابی نہیں حقیقی احساس ہونا چاہیے۔ وہ احساس زیاں جوعلامہ اقبال جیسے دور اندیش اور دانا انسان نے قوم کے اندر بیدار کرنے کی کوشش کی، قوم کی غیرت جگانے کے لیے اس کے سامنے حقیقت بیان کی تا کہ اغیار کی غلامی قبول نہ کرے اور وہ دیکھے جو حقیقت ہے نہ کہ سراب، جیسا کہ علامہ اقبال نے خود فرمایا:

محروم تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے

کیونکہ علامہ اقبال کی عقل آنکھوں میں نہیں تھی بلکہ ان کی آنکھیں ان کی عقل میں تھیں۔ ہر زمانے میں علامہ اقبال جیسے بیدار گر افراد کی انتہائی قلیل تعداد احساس زیاں کو اکثریت کے اندر منتقل کرتے ہیں، جب کہ سرابی اور جھوٹے احساسات اکثریت سے اقلیت میں منتقل ہوتے ہیں۔ اگر صادقانہ احساس معاشرے کے ہر طبقے کے اندر پھیل جائے اور تعلیم یافتہ، سرمایہ دار، مزدور، عالم، طالب علم، حتی معاشرے کا ہرفرد سرابی کیفیت سے نکل کر حقیقی احساس عدم اطمینان کو پالے اور موجودہ حالت کو کسی صورت قبول نہ کرے تو انقلاب کی پہلی شرط مکمل ہوجاتی ہے۔

ہمارے ہاں کسی بھی حزب یا تنظیم کے دو تین سو افراد جو انقلابی فکر رکھتے ہیں (ہو سکتا ہے وہ بھی سرابی کیفیت ہو) اور عموماً پریشان رہتے ہیں کہ انقلاب کیوں نہیں آرہا؟ انقلاب نہیں آئے گا جب تک حقیقی احساس زیاں و عدم اطمینان معاشرے کی نچلی ترین سطح تک نہ پہنچ جائے۔ پاکستان اس وقت بد ترین حالات سے دو چار ہے لیکن عوام ہے کہ ہمیشہ سے شدید سرابی حالت میں گرفتار ہے اوراس چیزپر یقین کامل رکھے ہوئے ہے جو موجود ہی نہیں۔

چند افراد جو اس ہرج و مرج اور افرا تفریح پر راضی نہیں ہیں ان کی عدم رضا بھی ان سے کوئی عملی اقدام نہیں کرواپاتی۔ لازم ہے کہ ایک منظم تفکر کے تحت عدم اطمینان کا احساس خواص میں پیدا ہو اور یہ احساس بڑھ کر اس سطح پر پہنچ جائے کہ انقلابی حرکت کا محرک بن سکے ورنہ مہنگائی کی طرف متوجہ کرنے یا بے روزگاری کے خلاف ہڑتالیں کرنے سے انقلاب نہیں آتا۔ قوم کے اندر شرف و عزت، غیرت، مقام و منذلت کے پہلو اجاگر کر کے احساس عدم اطمینان پیدا کیا جائے، قوم کا حقیقی تشخص اسے واپس لوٹایا جائے تا کہ یہ قوم کسی انقلابی حرکت کے قابل ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply