ٹرمپ صاحب تو مذاق کر رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ سال قبل عالمی اسٹیج پر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ہوا کچھ یوں کہ ٹرمپ بہادر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ سعودی ان کو مہنگا پٹرول کیوں فروخت کرتے ہیں؟ حالانکہ ان کی افواج جانفشانی سے سعودی شاہی کی حفاظت کر رہی ہے۔ اگر امریکی افواج وہاں سے چلی جائیں تو سعودیہ دو ہفتے نہ قائم نہ رہ سکے۔ محمد بن سلمان صاحب (المعروف بہ MBS) نے تھوڑے توقف کے بعد برا مناتے ہوئے ٹرمپ بہادر سے اختلاف فرمایا۔ یادش بخیر یہ وہی MBS صاحب ہیں کہ جنہوں نے کینیڈا کے ایک بیان پر اس سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ صاحب سعودی خاندان کے دوست ہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر دوست ایسے ہوا کرتے ہیں تو دشمن کسے کہتے ہیں؟ یادش بخیر امریکی افواج جزیرہ نما عرب میں نوے کی دہائی کے اوائل میں داخل ہوئی تھیں۔ تب یہ کہا گیا تھا کہ امریکا کی فوج سعودیہ اور دیگر عرب ریاستوں کو صدام سے بچانے کے لئے آئی ہے۔ وہی صدام جس کو عراق میں طاقت خود امریکا بہادر نے دی تھی۔ وہی صدام جس کو ایران پر چڑھائی کرنے کی سبز جھنڈی بھی امریکا بہادر نے دکھائی اور جنگ کا خرچ عرب ریاستوں نے اٹھایا۔

کویت پر چڑھائی کرنے سے قبل بھی صدام نے چپکے سے امریکا بہادر سے اجازت طلب کر لی تھی مگر معاملہ تب حیران کن ہوا جب صدام صاحب کی افواج کویت کو اپنی مملکت میں شامل کر چکی تو امریکا بہادر نے سلامتی کونسل میں عراق کے خلاف باتیں کیں اور پھر کویت پر حملہ کر کے اسے عراق سے آزاد کروا لیا۔ اسی اثنا میں امریکی افواج سعودیہ اور دیگر عرب ریاستوں میں (مثلاً کویت، بحرین وغیرہ) بھی وارد ہوئیں۔ بعد میں عراق بھی مکمل طور پر امریکی تسلط میں چلا گیا اور صدام اور بعث پارٹی قصہ پارینہ ہوئے۔

مگر اب بھی عرب ریاستوں میں امریکا بہادر موجود ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ اب کس سے حفاظت مقصود ہے؟ اپنے ہونے کی تاویل کے طور پر نت نئے دشمن اہل عرب کے سامنے ہر کچھ عرصے پر لاموجود کیے جاتے ہیں۔ عرب ایران تنازع بھی اسی نوع کی ایک چیز ہے۔ مزاحیہ بات یہ کہ اہل عرب کو اگر ایران کے اثرات سے محفوظ رہنا تھا تو ان کو امریکا کی جگہ عراق پر بھروسا کرنا چاہیے تھا۔ اگر وہ صدام کا ساتھ دیتے تو ایران ہمیشہ اپنی حدود میں رہتا مگر معصوم عرب اس بات سے بے بہرہ ہیں کہ ایران بھی عالمی سیاست میں ہر کام عرصہ دراز سے امریکی خفیہ پیغامات پر ہی کرتا ہے۔ ایران پر مکمل قابو پانے کا آسان طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ سعودیہ روس سے چند معاشی معاہدے کر لے۔ اس لیے کہ ایران کے گلے میں پڑی رسی کا زیادہ مضبوط سرا تو ولادی میر پوٹن صاحب کے ہی ہاتھ میں ہے۔

مگر کچھ بھی کہیے امریکا بہادر سعودیہ میں بڑے زور و شور سے موجود بھی ہے اور سخت گیر سعودی شاہوں سے بڑی توہین آمیز انداز میں کہہ سکتا ہے کہ ’ہم چلے گئے تو تم دو ہفتے نہیں ٹک سکو گے‘ واہ ری قسمت واہ! اگر یوں ہی ذلت و رسوائی سہنا تھی تو کچھ چاپلوسی صدام کی کر لیتے۔ وہ لازمی طور پر سعودی عرب پر قبضہ نہ کرتا، اور اگر وہ سعودیہ پر قبضہ کر بھی لیتا تو سوال یہ ہے کہ ابھی کیا سعودیہ آزاد ہے؟

بدقسمتی سے انسان نے تاریخ سے کچھ سیکھا ہی نہیں۔ خواجہ حسن نظامی صاحب کے مجموعہ 1857 ء میں تحریر ہے کہ اولاً انگریز عملدار جب شاہ بہادر شاہ کے دربار میں حاضر ہوا کرتے تھے تو بے حد مودب انداز ہوتا۔ بڑی بڑی نذریں شاہ کو گزرانی جاتیں۔ ’بادشاہ ہند کا اقبال بلند ہو‘ کے نعرے بلند ہوا کرتے۔ مگر بعد میں یوں بھی ہوا کہ شاہ نے ایک انگریزی عملدار کو اپنے مکتوب میں عزت دینے کی غرض سے ’میرے عزیز فرزند‘ لکھا تو عملدار نے بڑی نخوت سے جواب دیا کہ ’آئندہ مجھے اپنا فرزند کہہ کر نہ مخاطب کرنا، مجھے یہ منظور نہیں کہ تمہارا بیٹا بنوں۔

’ جب بادشاہت ایک کھلونا ہو صاحب تو پھر عزت روز جاتی ہے اور کمزور کی عزت ویسے بھی کوئی کب کرتا ہے؟ دکھ کا مقام یہ ہے کہ سعودیہ کی بنیاد ہی غیروں کے بجائے عربوں کے عرب پر حکومت کا نعرہ تھا۔ عثمانی ترکوں کو نکال کر اور سلطنت عثمانیہ کو توڑ کر یہ اتنی بہت سی عرب ریاستیں بنیں مگر افسوس صد افسوس عزت و آزادی کا نعرہ صریح جھوٹ ہی ثابت ہوا۔ عرب دنیا ہے یا پتلی تماشا؟ اسلامی طاقت توسلطنت عثمانیہ کے خاتمے سے پارہ پارہ ہوئی ہی مگر عربوں کو بھی سوائے ذلت و خوف کے کیا مل گیا؟

کیا ہی غم کا مقام ہے کہ ریاض میں بیٹھے ’صاحب جلالہ‘ کو ایک دو ٹکے کا امریکی (جسے ویتنام سے لے کر افغانستان جیسے کمزور ملکوں نے تگنی کا ناچ نچایا اور خاک چٹائی) وہ تکبر سے کہتا ہے کہ تم ہمارے بغیر دو ہفتے بھی نہیں ٹک سکتے اور یہ ہمارے کاغذی شیر کانپتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ٹرمپ بھائی تو مذاق کر رہے ہیں‘ ۔ اف یہ کاغذ کے شیر بادشاہ، یہ ’شاہ عالم‘ ، ’اکبر ثانی‘ اور ’فرخ سیر‘ ، یہ انگریز اور فرانسیسی سے ساز باز کر کے اپنے ہی بھائی بندوں، اپنے ہی ہم مذہبوں، ہم وطنوں اور ہم زبانوں سے جنگیں کرنے والے، یہ سونے چاندی کے تخت بنا کر ان پر بیٹھ کر، ہیرے موتیوں کے کشتے کھا کر اپنی قوت باہ بڑھانے میں سرگرداں اور تلوار والے دشمنوں کو دیکھ کر مقبروں میں پناہ لینے اور ہتھیار ڈالنے والے ’شہنشاہ‘ ۔

اف کیا بدقسمتی ہے عالم اسلام کی! ہم ماضی میں اتنے قوی تھے کہ یورپ اور ایشیاء کے ایوان ہمارے نام سے کانپتا کرتے تھے۔ ہم ’ویانا‘ کا محاصرہ کرتے تھے اور روم کے پوپ سے خراج لیتے تھے اور اب یہ حال ہوا کہ دو دو ٹکے کے بنیے بقال ہم سے آنکھ نکال کر بات کرتے ہیں اور ہم کھسیانے انداز میں کہتے ہیں، ’یہ تو ہمارے دوست ہیں۔ مذاق کر رہے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply