دنیا کے لئے رحمت، کراچی کے لئے زحمت


بے شک بارش خدا کی رحمت ہے اور ہر عمر کے انسان کے لئے باعث سکون و تفریح ہے۔ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کو بارش خوشگوار احساس میں مبتلا کردیتی ہے۔ بارش جہاں پوری دنیا کے لئے باعث رحمت ہے اسی طرح اسی پاکستان اور بالخصوص کراچی کے لئے باعث زحمت بن جاتی ہے۔ یہ زحمت قدرت کی طرف سے نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ زحمتیں سالہا سال سے اسی دل جمعی کے ساتھ جاری ہے۔ ہر سال بارش ہوتی ہے اور اچھی خاصی ہوتی ہے مگر حکومت چند نالوں کو صاف کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی بس لمبے لمبے بارشوں کے لئے بوٹ اور نئی چھتریاں لے کر رکھ لیتی ہے تا کہ جب بارش ہو تو اچھے حلیے کے ساتھ تصویریں آسکیں اور ہائے ہائے کرتی عوام کو پھر لولی پوپ دیا جاسکے۔

پر ان سب معاملے میں سب سے اہم بات عوام کی مستقل مزاجی ہے، کیونکہ یہ سالہا سال سے ان مسائل سے دو چار ہے اور بس تکلیف آتی ہے شور شرابا کرتے ہیں اور پھر خاموش۔ پھر اگلی بے بسی کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن ان کو آج تک یہ بات سمجھ نہ آئی کہ جن کو ووٹ دے کر لاتے ہو جن کے لئے نعروں سے اپنے گلے کو بٹھاتے ہیں، یہ سب ذمہ داری انھی چودھریوں کی ہوتی ہے مگر کیا عوام بھی تو اندھی اور لنگڑی محبت میں گرفتار ہے۔

بارش کم ہو یا زیادہ کراچی والوں کے لئے تکلیف و بے چینی کا تحفہ ہی لاتی ہے۔ کراچی کے ہر علاقے میں بلا امتیاز، بلا رنگ و نسل ایک طرح کے مسائل کا سامنا بعد از باراں کیا جاتا ہے۔ بارش کا واحد ایسا موقع ہوتا ہے کہ جب ڈی ایچ اے کی گلیاں ہوں یا کورنگی کے کوچے، بہن بھائی کا منظر پیش کرتی ہیں۔ مہاجر نشین علاقہ ہو یا سندھی نشین دونوں جگہ مناظر تقریباً ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں۔ پر دونوں ہاتھوں سے سلام دونوں طرف کی عوام کو، کہ دونوں طرف کے قائدین کی کوتاہی کے بجائے اپنی طرف کے قائد کیےڈھکوسلا ٹائپ کامیابی پر تاویلات و تشریحات کے نئی نئی فکر قائم کرتے ہیں۔

ان دو طرفہ سیاسی گروہ میں یہ مقابلہ ہوتا کہ یہ کام کروانا کس کی ذمہ داری ہے۔ یہ نالہ کی صفائی، یہ ٹوٹی سڑکیں، یہ بجلی کے مسائل باقاعدہ تقسیم کیے جاتے ہیں کہ نالہ کی صفائی، فلاں حکومت کی ذمہ داری ہے تو یہ ٹوٹی سڑکیں فلاں حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مطلب سب لوگوں کو یہ ذمہ داری پتا ہے، مگر پوری کوئی نہیں کرتا۔ المیہ یہ ہے کہ ہم عوام اتنے فارغ ہیں کہ وفاقی، صوبائی، شہری، علاقائی حکومتوں کی تعریف کے ایسے پل باندھتے ہیں کہ تکلیف اس پل کے نیچے آکر دم توڑ جاتی ہے۔

بارش کی دعا اور اس میں نہانے کی خواہش، وہ بھی کرتا ہے جو دو ماہ تک نہاتا نہ ہو۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہے کراچی کے لاکھوں لوگ اس بارش کی دعا کرنے سے ہچکچاتے بھی ہیں، کیونکہ بارش ان کے لئے بہت سی پریشانیاں لاتی ہیں، بلکہ بارش نہیں ان پریشانیوں کے دولہا کا سہرا تو ہر اوپر تا نیچی حکومتوں کے سر پر سجا ہے۔ ویسے یہ مسائل تو تقریباً کراچی کے ہر علاقے کے ہیں۔ اگر جھونپڑ پٹی کے مکین ہیں تو انھیں چھت گرنے کا خوف ہو جاتا ہے اور اگر یہ کوئی پی ای سی ایچ ایس جیسا پوش علاقہ ہو، وہاں کے مکین اس خوف کا شکار ہوتے ہیں کہ پانی ان کے گھروں کے اندر ایک ایک دو دو فٹ تک کھڑا ہو جاتا ہے۔

دوران تحریر ایک روداد بھی سنئیے۔ ہمارا ایک دوست ہے جو ایک پوش علاقے میں رہتا ہے۔ اس کو ہر ایکٹیوٹی کی تصویر، سوشل میڈیا پر کرنے کا بخار ہے۔ لیکن بارش ہوتی ہے تو اس کی کوئی تصویر سامنے نہیں آتی۔ ہم نے اس سے پھرکی لینے واسطے پوچھ لیا کہ بارش سے ڈرتے ہو کیا کوئی تصویر وصویر نہیں لگاتے تم؟ کہتا ہے، بھائی بارش کے وقت مصروفیت بڑھ جاتی ہے، موقع نہیں ملتا کہ سیلفی ویلفی لے سکیں۔ ہم نے حیران ہو کر پوچھا کیا مطلب؟ ارے بارش جیسے ہی بڑھنے لگتی ہے، ہمیں اپنا سامان اوپر کی منزل پر شفٹ کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ تھوڑی سی بھی بارش ہو تو پانی اندر آ جاتا ہے اور گھریلو استعمال کی اشیا برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہم بس بوندا باندی ہی انجوائے کرتے ہیں۔

اسی طرح کے بہت سے مسائل کا سامنا کراچی کے شہریوں کو رہتا ہے۔ کچھ مسائل تو سامنے آ جاتے ہیں جیسے کرنٹ کا لگنا یا چھتوں کا گرنا مگر سب سے بڑا مسئلہ ٹوٹی سڑکوں پر پانی جمع ہونا اور پھر اس میں ہونے والے سیکڑوں حادثات جو خبروں میں نہیں آتے ہیں۔ بارش کے بعد بجلی کے چھپن چھپائی کھیل کاآغاز ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کراچی کی 50 سے 60 فیصد سڑکوں پر دریا چہل قدمی کرنا شروع کریتا ہے۔ بہت سے مقامات پر بلیک واٹر نامی ایجسنی، اوہ مطلب کالا گدلا پانی اپنی حکومت قائم کر لیتا ہے۔

حکومتی عہدیدار اس موقع کو سب سے زیادہ انجوائے کرتے اور چائے پراٹھا کھانے پٹھان بھائی کے ہوٹل میں پہنچ جاتے ہیں۔ بہرحال اگلوں دنوں، مہینوں میں بارش ہو گی، کچھ نہیں بدلے گا سوائے وقت اور دن کے۔ بلکہ اس کو یوں سمجھیے کے اگلے دنوں میں بھی بارشیں ہوں گی، پر اسی مستقل مزاجی کے ساتھ سڑک پر پانی اور حکومت کی ڈھٹائی قائم دائم رہے گی۔

Facebook Comments HS