داستان – نصیر ترابی اور افتخار عارف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں ایک محترم کالم نگار نے ”ایک ان کہی ادھوری داستان“ کے عنوان سے کالم لکھا۔ جس پر ممتاز شاعر نصیر ترابی کے ایک انٹرویو کا حوالہ دے کر افتخار عارف پر تنقید کی گئی۔ اگر یہ تنقید ادبی و علمی حوالہ رکھتی جائز تھی، مگر یہاں شخصی حوالہ سے بات کی گئی۔ افتخار عارف صاحب، نصیر ترابی صاحب اور کالم نگار، تینوں شخصیات قابل احترام ہیں کہ تینوں کا تعلق قلم قبیلے سے ہے۔ مگر محترم کالم نگار اور نصیر ترابی صاحب نے اپنے انٹرویو میں جو باتیں افتخار عارف کی ذات کے حوالے سے کہیں، وہ مناسب معلوم نہیں پڑتیں۔

کالم نگار لکھتے ہیں ”حلقہ ارباب ذوق کی ایک محفل میں انہوں (افتخار عارف) نے تنقید کے لیے اپنی ایک نئی نویلی غزل پیش کی تھی۔ اتفاق سے اسی محفل میں اس خاکسار نے اپنا ایک افسانہ سنایا تھا۔ افسانہ چل گیا، غزل نہ چل سکی“ یہ شاید کچھ دہائیوں پہلے کی بات ہے۔ واقعی افسانہ چل گیا؟ اور غزل نہ چل سکی؟ جس کی غزل نہ چل سکی وہ آج غزل کا افتخار کیوں ہیں؟ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ”کتاب دل و دنیا“ (افتخار عارف کا مجموعہ) پر ممتاز نقاد مبین مرزا نے دیباچہ لکھا۔

اس دیباچے میں انہوں نے بلا تکلف لکھ دیا کہ یہ جو کچھ ہم لکھ رہے ہیں، اسے لکھنے کا ارادہ نہیں تھا۔ یہ شاعر کی فرمائش اور اصرار تھا کہ لکھنے پر مجبور ہوئے، اگر ایسا ہی ہے تو پھر مبین مرزا ایک نقاد کی حیثیت سے قصوروار ٹھہرتے ہیں کہ وہ ایسی کتاب کا دیباچہ لکھ رہے ہیں، جو ان کو پسند نہیں۔ محترم کالم نگار نے افتخار عارف کے حوالے سے کہا ”وہ ہر ایک کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں“ اس سے پہلے وہ لکھ چکے تھے کہ ”افتخار عارف کا دفتر عام ملاقاتیوں کے ہجوم سے بھرا رہتا تھا“ وہ کہتے ہیں ”یہ بات ہمیں اچھی نہیں لگتی تھی“

کسی کی زندگی کا کوئی ڈھب، کسی دوسرے کو اچھا نہ لگے تو وہ اپنا انداز زیست ہی بدل ڈالے؟ دوسروں کو خوش رکھنا اور میل جول رکھنا، منفی عمل ہے؟ پروفیسر فتح محمد ملک، اس عہد کے بڑے ادیب اور دانشور ہیں، مجھ ناچیز کو ، جس سے ان کو کوئی ذاتی فائدہ نہیں، میرا کوئی علمی و ادبی مقام بھی نہیں، عزیز رکھتے ہیں، فون کر کے خیریت پوچھتے ہیں، تو یہ غلط بات ہے؟ یہ عمل تو ان کی تہذیبی شخصیت ہونے کا پتا دیتا ہے۔

میں نے اس کالم کے بعد نصیر ترابی صاحب کا انٹرویو سنا۔ نصیر ترابی صاحب اپنے انٹرویو میں فرماتے ہیں، کہ میری کتابوں میں کوئی فلیپ اور دیباچہ نہیں ہوتا، میں کسی سے فلیپ یا دیباچہ نہیں لکھواتا، اگر میرے مصرعوں میں طاقت ہے تو ہے، مجھے کسی کی سفارش نہیں چاہیے۔ ادب میں سفارش نے کام خراب کیا۔ وہ ساتھ ہی 1971 ء کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ہمارے دوست افتخار عارف نے فیض صاحب کے خلاف ایک نظم لکھی، جو شفیع عقیل نے ایک اخبار میں ادبی صفحہ پر چھاپ دی۔

نظم میں فیض صاحب کو مخاطب کر کے کہا گیا تھا کہ آپ ویت نام پر لکھتے ہیں، لیکن آپ کشمیر پر نہیں لکھتے۔ نصیر ترابی صاحب فرماتے ہیں کہ فیض صاحب اس پر برہم ہوئے، مجھے، سحر انصاری اور دو دیگر لوگوں کو جو اب وفات پا چکے ہیں، بلایا اور غصے میں اس نظم کے جواب میں نظم سنائی۔ لیکن جب فیض صاحب لندن پہنچے تو افتخار عارف نے اپنا مجموعہ ان کے سامنے رکھا اور فیض صاحب نے اس کا دیباچہ لکھ دیا۔ نصیر ترابی صاحب کے اس بیان کردہ واقعہ سے ایک پہلو یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ فیض صاحب، افتخار عارف پر برہم تھے، اس کے باوجود انہوں نے دیباچہ لکھا، گویا افتخار عارف کی شاعری کی اہمیت کا فیض صاحب کو پورا احساس تھا۔

فیض صاحب بڑے آدمی تھے، وہ دیباچہ لکھنے سے انکار بھی کر سکتے تھے، علاوہ ازیں اگر افتخار عارف کے دل میں فیض صاحب کی محبت اور عظمت کے سوا کچھ اور تھا، تو پھر وہ دیباچہ لکھوانے ان کے پاس کیوں گئے؟ نیز افتخار عارف اور فیض صاحب کے درمیان جو تعلق تھا، اس کو ان خطوط کی روشنی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے، جو فیض صاحب نے افتخار عارف کو لکھے، یہ خطوط اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ شاید ہی فیض صاحب نے کسی اور کو لکھے ہوں۔

جہاں تک ادب میں سفارش کی بات ہے، یعنی اگر دیباچہ یا فلیپ لکھوانا، سفارش ہے، تو یہ نصیر ترابی صاحب کا نقطہ نظر ہو سکتا ہے، کہ افتخار عارف سے پہلے بڑے بڑے شعرا اور ادباء نے اپنی کتابوں کے دیباچے لکھوائے۔ سرسید احمد خان نے اپنی کتاب آثار الصنادید کی تقریظ مرزا غالب سے لکھوائی تھی اور جب اس کا اگلا ایڈیشن پرنٹ ہوا تو مرزا غالب کی تحریر شامل نہ تھی۔ علامہ اقبال کی بانگ درا کا دیباچہ سر عبدالقادر کا لکھا ہوا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ نصیر ترابی صاحب کی ایک کتاب پر سحر انصاری کی رائے موجود ہے، اس ضمن میں ترابی صاحب کہتے ہیں کہ میں سحر انصاری سے نہیں لکھوانا چاہتا تھا، مگر میرے پبلشر نے ان سے لکھوایا، اس میں میری مرضی شامل نہ تھی۔ سوال یہ ہے کہ ایک بڑے شاعر کی شعری تخلیقات کے سامنے پبلشر کی کیا حیثیت؟

نصیر ترابی صاحب نے افتخار عارف کے حوالے سے فرمایا کہ انہوں نے جتنے شعر کہے، وہ سارے صحافتی شعر ہیں۔ تماشا ختم ہوگا (افتخار عارف کی غزل) یہ ساری صحافتی غزل ہے۔ نصیر ترابی صاحب جوش ملیح آبادی کو چھٹا بڑا شاعر قرار دیتے ہیں، کیا ان کی انقلابی شاعری میں وہ وجدانی حوالے موجود ہیں، جو ان کے مطابق افتخار عارف کی غزل میں نہیں؟ ساتھ ہی وہ ایک واقعہ سناتے ہیں کہ 1990 ء میں مجھے الطاف حسین نے بلایا کہ میری صدارت میں مشاعرہ کروا دیں، میں نے پوچھا کہ مشاعرہ آپ کے منشور میں ہے۔

اس کے جواب میں الطاف حسین نے کہا کہ آپ نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اتنا بڑا شعر لکھ کر لگایا ہوا ہے۔ میں دیکھ چکا تھا کہ وہ افتخار عارف کا شعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے کہا کہ الطاف صاحب یہ شعر تو سندھی، بلوچوں اور پٹھانوں کا شعر ہے، یہ تو Son of soil کا شعر ہے۔ نصیر ترابی صاحب اس شعر کو سیٹلر کا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ الطاف حسین نے اس شعر کو جہاں لکھا تھا، وہاں سے مٹوا دیتے ہیں۔

یہ سارا مسئلہ یہ تھا کہ افتخار عارف کا یہ تھیسز ہے کہ گزشتہ ایک عرصہ سے پنجاب میں جو شعر و ادب تخلیق ہوا، وہ دلی، لکھنو اور کراچی میں نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر بڑے شعرا، جیسا کہ اقبال، مجید امجد، فیض اور دوسرے، ان سب کا تعلق پنجاب سے تھا، مگر ترابی صاحب اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کے بجائے، الزام تراشی پر اتر آئے۔ کیا نصیر ترابی جیسے بڑے شاعر کو ایسا ہی کرنا چاہیے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “داستان – نصیر ترابی اور افتخار عارف

  • 04/08/2020 at 7:31 pm
    Permalink

    بہت خوب
    آپ نے ترابی صاحب کی
    لن ترانی کا حساب برابر کر دیا۔
    افتخار صاحب کو بھی بیل آؤٹ نہیں کیا
    اور
    ٹھیک کیا
    🌷

Leave a Reply