انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال: ’گھر کا واحد کمانے والا ایک سال سے جیل میں بند ہے‘

ریاض مسرور - بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرینگر سے مشرق کی جانب 42 کلومیٹر دُور گاندربل ضلع کے بارسُو گاؤں میں ایک منزلہ مکان کے اندر جواں سال سلیمہ گنائی اپنے تین بیٹوں اور بوڑھے ساس سُسر کے ساتھ زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ سلیمہ کے خاوند محمد یوسف گنائی کو گذشتہ برس 9 اگست کی صبح مقامی پولیس تھانے میں طلب کیا گیا تھا جس کے ایک سال بعد تک وہ گھر نہیں لوٹے۔

انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پانچ اگست 2019 کی صبح کو پارلیمان میں جموں و کشمیر ریاست کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن جولائی کے اوائل سے ہی کشمیر میں افراتفری تھی، یاتریوں اور سیاحوں کو یہ کہہ کر وادی چھوڑنے کو کہا گیا تھا کہ فوج کو دہشت گردانہ حملوں کی خفیہ اطلاعات ملی ہیں۔

پھر 4 اگست کی رات کو پوری وادی کے چپے چپے پر پولیس، نیم فوجی اہلکار تعینات کر دیے گئے تھے، انٹرنیٹ اور فون رابطے مسدود تھے اور 70 لاکھ کشمیری اپنے ہی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے تھے۔

ایسے ہی حالات میں یوسف گنائی کو تھانے طلب کیا گیا تو اُن کی والدہ اُن کے ساتھ گئیں۔‘

’لیکن ایک سال ہوگیا ہے میں نے اُسے نہیں دیکھا، اب روز سڑک پر جاتی ہوں، گمان ہوتا ہے کہ وہ آئے گا، مگر مایوس ہوجاتی ہوں۔ اب کیا کروں؟‘

یوسف گنائی سوزن کاری کا کام کرکے مشکل سے اپنے تین بیٹوں کی پڑھائی اور روزمرہ اخراجات کا انتظام کر پاتے تھے۔ اُن کے بڑے بیٹے شاہد یوسف یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’حالات بہت خراب تھے، فون بھی بند تھے۔ میں روز تھانے پیدل جاتا تھا، لیکن وہاں پولیس والے ہر روز کہتے تھے کہ شام کو رہا کریں گے۔ یہاں تک کہ ایک دن پولیس والا گھر پہنچا اور کہنے لگا کہ میرے والد کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اُترپردیش جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔ دادی اور ماں رونے لگیں اور ہمیں لگا کہ سب ختم ہوگیا۔‘

انڈین پارلیمان میں گذشتہ برس ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیرداخلہ امت شاہ نے اعتراف کیا تھا کہ پانچ ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو احتیاطی طور گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ بیشتر کو رہا کیا جاچکا ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق سو سے زیادہ کشمیری اُترپردیش، مدھیہ پردیش، نئی دلی، راجھستان اور دوسرے مقامات پر آج بھی قید ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارے کہتے ہیں محبوس کشمیریوں کی تعداد سرکاری دعوے سے کئی گنا زیادہ ہے اور حکومت درست اعدادوشمار کو جاری نہیں کر رہی ہے۔

گذشتہ تیس برس کے دوران گرفتاریوں اور قید وبند کا سلسلہ جاری رہا، لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان وادی سے دُور شدید گرمی والے علاقوں کی جیلوں میں محبوس ہیں۔

پچھلے سال کے تاریخی واقعہ کے بعد تعلیم اور تجارت کا جو ہوا سو ہوا، لیکن سینکڑوں افراد کے والدین اور اہل خانہ کے لیے بیرون کشمیر جیلوں میں اپنے پیاروں کے ساتھ ملاقات کرنا سب سے زیادہ تکلیف دہ اور مہنگا ثابت ہوا۔

یوسف گنائی کی ماں، بیوی اور تین بیٹے ابھی تک اُن سے ملاقات نہیں کر پائے۔ یوسف کی بیوی سلیمہ زاروقطار روتے ہوئے کہتی ہیں: ’ہم کیسے سفر کرتے، پیسہ نہیں تھا، کون لے جاتا۔‘

تاہم یوسف کے ایک کزن نذیر احمد میر نے تھوڑا پیسہ اِکھٹا کرکے یوسف کے والد کو اُترپردیش پہنچایا۔ نذیر کہتے ہیں ’وہ بہت تکلیف دہ سفر تھا۔ ہم لکھنو پہنچے تو پولیس نے کہا پریاگ راج جاؤ، وہاں کی جیل میں ہے یوسف۔‘

’ہم نے راستے پر سب سے پوچھا کہ پریاگ راج کہاں ہے، کوئی نہیں جانتا تھا۔ پھر ایک شخص نے ہماری حالت دیکھی تو کہا بھائی پریاگ راج نیا نام ہے، تم لوگ اِلہ آباد معلوم کرو۔ پھر بہت جدوجہد کے بعد ہم پریاگ راج یعنی الہ اباد پہنچے۔‘

نذیر کہتے ہیں پولیس والوں کے حِصار میں چند منٹوں کی ملاقات کے لیے ایک ہفتے کا سفر کرنا پڑا تھا۔ نذیر کہتے ہیں ’یوسف کا خاندان نہایت پسماندہ ہوچکا ہے کیونکہ گھر کا واحد کمانے والا جیل میں بند ہے۔ ہم سب رشتہ دار باری باری اُن کے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ سننے میں آ رہا ہے تھا عیدالاضحیٰ کے موقع پر رہا کریں گے۔ لیکن ایسی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی۔‘

پولیس کے مطابق گذشتہ برس پانچ اگست سے ذرا قبل اور اُس کے بعد گرفتار ہونے والے بیشتر کشمیریوں کو امن و قانون میں رخنہ ڈالنے کا ارادہ رکھنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پبلک سیفٹی ایکٹ اُن گنے چُنے قوانین میں سے ایک ہے جسے خودمختاری ختم کرنے کے بعد قائم رکھا گیا۔ نئے سسٹم کے تحت اب بیشتر قوانین وفاقی نوعیت کے ہیں اور پولیس کو براہِ راست وفاقی وزارت داخلہ کے تابع رکھا گیا ہے۔

ماضی میں گرفتاریوں کے بارے میں رہائی کا فیصلہ مقامی حکومت ایک جائزہ کمیٹی کی سفارش کے بعد لیتی تھی، لیکن اب گرفتاری اور رہائی براہ راست نئی دلی کے کنٹرول میں ہے۔ اس صورتحال پر ایمنسٹی انٹنیشل اور دوسرے عالمی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ برس پانچ اگست کے بعد پولیس پر کم سن بچوں کی گرفتاری کا بھی الزام عائد کیا گیا۔ سرینگر کے صورہ علاقے میں پچھلے سال دو بچوں نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں بتایا تھا کہ اُنھیں گرفتار کرکے جیپ میں بٹھایا گیا اور بندوق سینے پر رکھ کر پوچھا گیا کہ پتھراؤ کرنے والوں کا نام بتاؤ۔

حالانکہ حکومت ہند نے دعویٰ کیا تھا کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ امن، ترقی اور خوشحالی کی نوید لے کر آئے گا، لیکن ایک سال گزرنے کے بعد بھی کشمیر میں غیریقینی کی صورتحال ہے اور سلیمہ یوسف جیسی خواتین اور شاہد جیسے نوجوان اپنے پیاروں کے انتظار میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15478 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp