کپتان کی اننگز، زرداری کی چالیں اور اپوزیشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل ایک تحریر میں لکھا تھا جب تک سیٹی نہیں بجتی کچھ نہیں ہوگا اپوزیشن کسی ایڈونچر کا سوچے گی تو غش کہا کر گر پڑے گی اور حال صادق سنجرانی کی تحریک عدم اعتماد سے برا ہوگا تو پھر اب اپوزیشن کے اقدامات عجیب سے لگتے ہیں۔ ان چند دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ قربانی کی عید سے پہلے ملاقاتیں شروع ہوئیں اور عید کے بعد اے پی سی بلا کر موجودہ تبدیلی سرکار کی حکومت کی قربانی کی باتیں اپوزیشن کی جانب سے پھر سے شروع ہو گئی ہیں۔ کیا سیٹی بج گئی ہے؟

چلو جو بھی ہو آج خبری چرواہے سے دو کام ہیں۔ اس سے حال احوال اور خبر بھی لینی ہے۔ عید قربان کے لئے ہانی کی پسند کا سفید بکرا بھی لینا ہے اور اس دشت میں ایک مقام پر چرواہا مل ہی گیا تو میں نے اپنے شوانگ سے حال پوچھ ہی لیا کیا ہوا کیا سیٹی بج گئی ہے۔ کیا فیصلہ ہو گیا ہے۔

چرواہا اپنے ریوڑ کو ہانکتے ہوئے ارررررررررررررر کر کے بیٹھ گیا اور پھر چرواہا مسکرا دیا اور کہا تم بھی تو سادہ سے بلوچ ہو یہی تو فرق ہے تم میں اور نوابشاہ کے بلوچ آصف علی زرداری میں۔ وہ ایک پتہ دے کر گیم لوٹنا جانتا ہے پھر چرواہے نے یاد دلایا کہ چند ماہ قبل جب آصف علی زرداری گرفتاری سے کچھ دن قبل اندرون سندھ کے دورے پر کیا پیغام دے رہا تھا کہ وہ بوڑھا ہو گیا ہے۔ اب زمینداری کرنا چاہتا پوتے اور نواسوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہے۔

میں نے کہا بالکل درست یہ سب کہا تھا تو پھر کیا ہوا پھر بھی گرفتار تو ہو گیا۔

چرواہا بولا اڑے سادہ بلوچ جب آپ تحویل میں ہوں تو جو رابطے یا ملاقاتیں آسان نہیں ہوتی وہ آسان ہو جاتی ہیں۔ باقی تم اتنا بھی سادہ نہیں کہ کچھ نہیں سمجھے بلاوجہ میرا ٹائم خراب کر رہے ہو اور چاہ رہے ہو کہ میں ریوڑ لے کر حب کی طرف گیا تھا تو کراچی گیا ہوں یا نہیں یہی پوچھنا چاہ رہے ہو۔ حب چوکی تک جانا ٹھیک رہتا ہے۔ میں ابھی ریوڑ لے کر وہیں سے آ رہا ہوں لیکن کلفٹن گھومنے ضرور گیا تھا۔ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر حاضری بھی دی اور ملک ریاض کا پلازہ بھی دیکھا پھر کچھ ہمارے بلوچ سی ویو پر قہوہ چائے بیچتے ہیں۔ ان سے حال احوال کے لئے بھی چلا گیا تھا۔

حال احوال ملا ہے۔ بتا رہے تھے مولانا فضل الرحمان آیا تھا کلفٹن کی سیر کرنے اور بلاول ہاؤس سے واپسی پر لمبی لمبی سانس لے کر سی ویو پر ٹہل رہا تھا لیکن آج جو شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں تقریر کی ہے اس کے بعد لگ رہا ہے فی الحال بلاول ہاؤس میں بیٹھے آصف زرداری کا پلان اپنی جگہ یہ تبدیلی کا کپتان عمران خان بیانوے کے ورلڈ کپ کی طرح کھیلنے کے موڈ میں آ گیا ہے۔

شوانگ عجیب مذاق کر رہے ہو مولانا فضل الرحمان کے قصے میں بیانوے کا ورلڈ کپ اور کپتان کہاں سے آ گئے

ارے بابا سنو مولانا کو جو پیغام زرداری نے دیا یا جو کھیل اسے بتایا اس میں کچھ تو ایسا تھا جس پر مولانا کی شہباز شریف سے ملاقات بھی ہوئی اور اسی دوران بلاول نے سردار اختر مینگل کو بھی بلا لیا اور سردار اختر سے ملاقات کے بعد جو پیغام آصف علی زرداری نے مولانا کو دیا ہے اور کان میں جو بات بتائی تھی مولانا نے شہباز شریف کو بتا دی اب شہباز شریف پھنس رہا ہے اور اسے یاد رکھنا ہوگا آصف علی زرداری پرانا جواری ہے اور موجودہ سیاست جوئے کے کھیل جیسی ہے۔ کوئی اخلاقی یا اصولی سیاست ہے ہی نہیں۔

تو میں نے چرواہے سے پوچھا کیا اپوزیشن یکجا رہے گی۔

اس نے کہا اگر رہی تب بھی زرداری اور کامیاب نا رہی تو زرداری بیٹے کو مزاحمت کے استعارے کے طور پر ابھارنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ پھر میں نے پوچھا ارے بھائی شہباز شریف کی اتنی مفاہمت کے باوجود بھی ایسا ہوگا چرواہا بولا نیک بخت ن لیگ نواز شریف کے ہوتے ہوئے صرف نواز شریف کی ہے۔ شہباز شریف بھائی کے خلاف جا نہیں سکتا اور بڑا بھائی چھوٹے کو من مانی کرنے نہیں دے رہا۔ فی الحال مریم نواز شریف کی خاموشی ہی شہباز شریف کے لئے کافی ہے۔ اگر کہیں وہ بول پڑی تو سنگل ڈبل رن لیتے شہباز شریف رن آؤٹ بھی ہو سکتے ہیں۔ ویسے یہ بات تو ماننے کی ہے۔ زرداری تینوں ٹائپ کی کرکٹ میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میاں صاحبان میں سے ایک صرف ٹیسٹ پلیئر یعنی شہباز شریف میاں صاحب اپوزیشن کے دور میں کبھی نہیں کھیلتے لیکن جب حکومت ملتی ہے تو شاہد آفریدی کا انداز اپنا لیتے ہیں۔

ویسے وہ ایسے ننانوے سے پہلے نہیں تھے۔ ننانوے کے بعد ہوئے ہیں۔ اڑے شوانگ آج تم فارغ لگ رہے ہو سیدھی سیدھی خبر یا حال دینے کے بجائے قصے کہانی سنا رہے وہ حال بھی مریوں والا دے رہے ہو۔ اڑے نیک بخت سفر سے آیا ہوں تو پورا حال ہی دوں گا نا۔ اچھا اب اے پی سی میں کیا ہوگا اے پی سی میں میاں شہباز شریف آئے پھنسے نا آئے تو بھی پھنسے فی الحال آصف علی زرداری صرف یہ چاہتا ہے کہ شہباز شریف آئے گا اور اگر آ کر کسی بات پر ڈٹ گیا تو اس کے اچھے بچے ہونے کا جو تاثر ہے وہ ختم ہوگا جب وہ ختم ہو گیا تو وہ ویسے ہی فارغ ہو جائے گا۔ نا آیا اور جیسا کہ وہ کل کہہ چکا ہے کہ ذمے داری وہ نوجوانوں کے کندھے پر ڈالنا چاہتا ہے تو پھر اپوزیشن لیڈر وہ رہے نا رہے اپوزیشن کو لیڈ کرنے کا اختیار خود بلاول کو دے گا اور ایسا لندن میں بیٹھے بڑے میاں صاحب ہونے نہیں دیں گے پھر ہوگی ن لیگ کے اندر کھینچا تانی اس کا فائدہ بھی بلاول کو ہی ہوگا اس قصے کہانی میں چند ماہ لگیں گے اور خان صاحب کی اننگز بھی نیوزی لینڈ کے میچ تک پہنچ جائے گی پھر کوئی برسات بچا جائے تو ٹھیک ورنہ کھیل کا آخری راؤنڈ ہوگا اور آصف علی زرداری خطے کے حالات میں اس لیے اہم ہے کہ اگر ایران اور چین ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو یاد رکھو آصف علی زرداری سعودی شاہ کو پسند ہو یا نا ہو ایران کے خامنہ ای کے بڑا قریب ہے اور چائینیز کے ساتھ افغانوں سے بھی اچھے مراسم رکھتا ہے۔

اس لیے تو دیکھو اشرف غنی کی حلف برداری میں پیپلز پارٹی کا وفد موجود تھا۔ اب اگر وہاں طالبان آتے ہیں تو پھر کیا ہوگا ان کے تو خلاف ہے پیپلز پارٹی۔ اڑے نیک بخت حامد میر کہہ رہا تھا بے نظیر بھٹو نے نصیر اللہ بابر کے ذریعے طالبان کی امارت اسلامی کے امیر ملا محمد عمر سے ملاقات کروائی تھی۔ بھول گئے؟

اچھا یہ بتاؤ کیا قیوم سومرو کوئٹہ آ رہا ہے۔ یہ خبر درست ہے یا افواہ ہے؟
قیوم سومرو کی بات بعد میں کرتا ہوں سنا ہے۔ آئی آئی چندریگر روڈ پر ایک بڑے میڈیا مالک نے اپنے ملازمین کی پرانی تنخواہیں یک مشت ادا کردی ہیں۔ ہاں کیسے نہیں کرے گا۔ معاملات طے ہو گئے ہیں۔ آئی آئی چندریگرر روڈ والے کے بیٹے اور بلاول ہاؤس کے درمیان جس کے بعد وہ پراپرٹی ٹائیکون جو ہے اسے پیغام چلا گیا ہے اور سندھ حکومت کی میڈیا کیمپین کا بڑا حصہ بھی اسی میڈیا گروپ کو دیا گیا ہے۔ یہ سب ایسے تو نہیں ہورہا ہے۔

جسر شوانگ چھوڑو بتاؤ نا قیوم سومرو پھر کوئٹہ آ رہا یا نہیں۔

بابا زرداری ایک غلطی بار بار نہیں کرتا اب وہ سردار اختر مینگل سے بلوچستان کے لئے رابطہ رکھے گا۔
سنا سردار اختر مینگل بھی عید کے بعد کوئٹہ آ رہا ہے پھر دیکھو مولانا کو جو ٹاسک دیا ہے اس کے بعد یہ سوچ رہا ہوں اب اسفند یار ولی سے زرداری کا رابطہ براہ راست ہوگا یا پھر مولانا ہی وہاں بھی جائے گا۔

اڑے شوانگ اس سے کیا ہوگا اے این پی کہیں قومی اسمبلی میں اس حالت میں نہیں کہ کچھ کرسکے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی دو تہائی اکثریت کا اے این پی کیا بگاڑ لے گیا ڑے بابا اے این پی کے بلوچستان میں چار رکن ہیں اور تمہارے والی ریاست جام کمال نے وزیر اعلٰی منتخب ہوتے ہوئے سینتیس ووٹ لئے تھے۔ اگر چار نکلے تو پھر تینتیس کی سادہ اکثریت رہ جائے گی اور چمن بارڈر کی بندش کا مسئلہ جہاں اصغر خان اچکزئی کے لئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ وہاں ضیاء لانگو اور ظہور بلیدی کے اے این پی کے خلاف تند و تیز بیانات نے معاملہ اور بگاڑ دیا ہے۔ چاہے یہی جام کمال کی مرضی اور منشاء سے ہوا یا پھر وزرا ء ان گائیڈڈ میزائل داغے ہیں۔ اس پر رد عمل آئے گا اور ہاں نواب زادہ گہرام بگٹی پہلے انگاروں پر بیٹھا ہے پھر تو وہ چھلانگیں لگائے گا کہ دنیا دیکھے گی اور وہ تمہارا دوست عبدالخالق ہزارہ کون سا خوش ہے۔

اس کے پاس بھی دو رکن ہیں اور اسد بلوچ کی تو بات ہی نا کرو ایسے میں بی این پی عوامی سے منحرف احسان شاہ بھی اہم ہے اور بی اے پی میں بیٹھا گروپ جو فی الحال لمبی تان کر سو رہا ہے۔ وہ بھی جاگ جائے گا۔ مطلب شوانگ تم پھر بلوچستان میں کھیل سجا رہے ہو بابا اگر چوہدریوں کو میاں منا گئے تو پنجاب نہیں تو بلوچستان یہ سب اس وقت ہوگا جب ن لیگ مان جائے فی الحال ایسا نظر نہیں آ رہا ہے کہ شہباز شریف اپنے اچھے بچے ہونے کے تاثر کو زرداری کی چالوں پر ضائع کردے یہ اتنا آسان نہیں اور ہاں وہ یاد آیا مولانا ایک طرف حکومت کے خلاف کھڑا ہے۔

وہیں وہ اپنے قریب موجود بلوچستان کے ایک بڑے وکیل کو ذمے داری دے چکا ہے کہ قاضی فائز عیسٰی کے معاملے پر ایک تحریک کی تیاری کرلو اور سردار اختر مینگل بھی اس حق میں ہے اور پیپلز پارٹی بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو تیار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ فی الحال قاضی فائز عیسٰی بلوچستان سے واحد جج ہے جو سپریم کورٹ میں موجود ہیں اور ممکنہ طور پر اگر وہ اپنے مقررہ وقت تک رہے تو شیڈول کے مطابق آئندہ انتخابات اس وقت ہوں گے جب وہ چیف جسٹس ہوں گے۔ باقی پھر سوچو لیکن اگر قاضی فائز عیسٰی کا فیصلہ آ گیا اور وہ اس کے خلاف گیا تو کالے کوٹ اس بار تقسیم ہوں گے یہ یاد رکھنا۔

شوانگ یہ بتاؤ کہ جو حال تم نے دیا اس پر تم کو گنوک (پاگل ) نا کہوں پیپلز پارٹی جس جماعت کا بلوچستان میں کوئی رکن نہیں پنجاب میں نا ہونے کے برابر خیبر پختونخوا میں بھی ایسا ہی حال کیا صرف سندھ کی سیٹوں پر تم اور آصف علی زرداری حکومت بناؤ گے دماغ خراب ہے تمہارا شوانگ۔

اچھا چلو سن لو سردار اختر مینگل سے رابطے جاری ہیں۔ در پردہ اور خاموش نظر نا آنے والے رابطے حاصل خان بزنجو سے بھی ہیں اور آصف علی زرداری سبی ڈویژن کے اپنے کچھ پرانے دوستوں کی طرف دیکھ رہا ہے۔ ان کی تعداد تین سے زائد ہو سکتی ہے۔ فی الحال وہ بھی خاموش ہیں لیکن خاموشی کے ساتھ اشارے بازی جاری ہے اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والوں کے مخدوم احمد محمود سے اتنے بھی برے مراسم نہیں کہ رابطہ کاری نا ہو سکے اور بلوچستان خیبر پختونخوا میں مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی نہیں ہیں؟ یاد رکھو مفاہمتی سیاست نے آصف علی زرداری کو ایوان صدر تک پہنچایا تھا اور مدت بھی مکمل کروائی تھی۔

شوانگ یہ سب تو جو تم بتا رہے ہو وہ تو اگلے انتخابات کا کھیل ہے۔ موجودہ حکومت کا کیا بنے گا۔

دیکھو چھ مہینے میں کارکردگی بہتر نا ہوئی اور نتائج نا آئے تو مڈٹرم ہونا اتنا آسان نہیں ملک کی معیشت اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی تو پھر سسٹم کو بچا نے کے لئے کچھ قربانیاں دی جا سکتی ہیں۔ فیس سیونگ کے لئے ایک بڑے گھر والے کو ایک عہدے سے دوسرے پر شفٹ کیا جاسکتا ہے۔

اگر نہیں مانا تو تو پھر ان ہاؤس چینج ہی آئے گا۔ ملتان کے گدی نشین اور اینگرو کے سابق چیف ایگزیکٹو کے ساتھ ساتھ سندھ کے سومرو میں کانٹے کا مقابلہ ہوگا اس دوران۔ دو آخری خبریں سن لو پھر سورج ڈھل رہا ہے۔ ہم بھی چلتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کے پلان کو ایک جھٹکا ستر کلفٹن سے دیا جاسکتا ہے۔ وہ مشروط ہے کہ اگر آصف علی زرداری نے زیادہ رویہ سخت رکھا تو یہ وار ہوگا اور ہاں جیسے بڑے میاں صاحب کو لگا موجودہ عمران خان کی حکومت اب آخری سانسیں لے رہی ہے اور طبعی موت کے قریب ہے تو لندن سے ان کی صحت کے متعلق اچھی خبریں بھی آئیں گی اور مریم بھی بولے گی۔

جج ویڈیو اسکینڈل کا معاملہ اور اس پر آنے والے فیصلے کے لئے عدالتی کارروائی تیز کیا جائے گی۔ سیاست میں قربانی ہو یا نا ہو تمہاری گودی کے لئے اس کی پسند کا سفید بکرا چھوڑے جا رہا ہوں بکرا لینے آئے تھے۔ بغیر لئے گئے تو گودی ناراض ہو جائے گی اور وہ چھوٹی گودی فرمائشی بکرے کا انتظار کر رہی ہے اور قربانی بھی رہ جائے گی۔ اللہ حافظ
چرواہا چلا گیا گودی کا پسندیدہ سفید بکرا ہم نے عید کے دن سنت ابراہیمی کی ادائیگی میں قربان کر دیا اب سیاسی قربانی ہوتی ہے جس نہیں واللہ عالم۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply