بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ اور پاکستانی بچے


\"saleem-malik\"UNCRC بچوں کے حقوق کا بہت اہم عالمی معاہدہ/کنونشن ہے جو 1989 سے لاگو ہے۔ یہ کنونشن دس سال تک اقوام متحدہ میں زیر بحث رہا۔ 1978 میں پولینڈ نے اس کی تجویز دی تھی۔ عالمی سیاست میں پولینڈ کا تعلق اشتراکی بلاک سے تھا اس لئے شروع میں سرمایہ داری بلاک نے پولینڈ سے آئی ہوئی تجویز کو کچھ خاص اہمیت نہ دی لیکن کچھ برس بعد جب بہت لوگوں کو اس میں دلچسپی لیتے دیکھا تو پھر سرمایہ داری بلاک کے اہم ممالک، مغربی یورپ اور امریکہ بھی کود کر کشتی پر سوار ہو گئے۔

اس کنونشن پر بحث کے دوران میں مسلمان ممالک اور چرچ نے بہت دلچسپی لی۔ چرچ والے چاہتے تھے کہ اسی معاہدے کے ذریعے انہیں اسقاط حمل کے خلاف مہم میں مدد مل سکے۔ اس لئے چرچ نے اس کنوینشن میں یہ نکتہ شامل کروانے کی کوشش کی کہ بچے کی زندگی کا پہلا دن وہ گنا جائے جب نطفہ ماں کے رحم میں چلا جاتا ہے۔ لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بات کی مخالف تھیں وہ عورتوں کو ہمیشہ کے لئے اسقاط حمل کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے چرچ کی یہ بات نہیں مانی گئی۔ کنوینشن کے مطابق بچے کی زندگی کا پہلا دن وہ ہے جس دن وہ پیدا ہوتا ہے۔

مسلمان ممالک کی دلچسپی کی زیادہ وجہ لڑکی تھی۔ یہ کسی ایسی چیز پر دستخط نہیں کرنا چاہتے تھے جس سے بچیوں کی زندگی پر ان کا اختیار کم ہو جائے۔ بچپن کی شادی اور بچیوں کی شادی پر والدین کا اختیار ان کی دلچسپی کے خاص موضوعات تھے۔ مسلمانوں کا ایجنڈا کافی حد تک مانا گیا کیونکہ اس معاہدے پر مشروط طور پر بھی دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ مسلمان ممالک جیسے ایران، سعودی عرب اور پاکستان نے مشروط طور پر معاہدے کو قبول کیا۔ ان شرائط میں جب \”مذہب اور کلچر کے مطابق اطلاق\” کا فقرہ ڈال دیا جائے تو پھر معاہدہ عملی طور پر بیکار ہو جاتا ہے۔

دس سال کی بحث کے بعد 54 شق کا یہ کنوینشن 1989 میں منظور ہوا تو پاکستان دستخط کرنے والے پہلے چند ممالک میں تھا۔ دستخط تو ہو گئے لیکن دستخط کرنے کے بعد پاکستان نے اس سلسلے میں کچھ خاص کام نہیں کیا لہذا بچوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔

اس کنونشن کے تحت پاکستان کو ہر دو سال کے بعد ایک پراگریس رپورٹUNCRC کو پیش کرنا تھی۔ البتہ پاکستان نے کئی رپورٹیں ہی جمع نہ کروائیں کیونکہ پاکستان میں کسی ادارے کی یہ ذمہ داری تھی نہ استطاعت۔ اور پھر پراگریس رپورٹ میں لکھنے کو کچھ تھا بھی نہیں۔ کوئی کام تو کیا نہیں تھا۔

کنونشن کہتا ہے کہ 18 سال تک کی عمر کے تمام لوگ بچے کہلائیں گے۔ لیکن ہم نے اپنے قوانیں میں ضروری تبدیلیاں نہیں کیں۔ لہذا بچیاں خاص طور مصیبت کا شکار رہتی ہیں۔ اب بھی سندھ کے علاوہ باقی ہر صوبے میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچی کی شادی قانوناً جائز ہے۔ یہ بات کنونشن کی روح کے خلاف ہے۔

بچے کی پیدائش کا اندراج بچے کا پہلا حق ہے مگر ہمارے ہاں ابھی تک لاکھوں بچے خاص طور پر بچیاں اس حق سے محروم ہیں۔ پیدائش کا اندراج پناہ گزین بچوں کا بھی حق ہے اور ہمارے ہاں لاکھوں افغان بچے ابھی بھی اس حق سے محروم ہیں۔

پرائمری تک مفت تعلیم ہر بچے کا حق ہے۔ اس حق کو پاکستان کے آئین میں شامل ہونے میں ہی 25 سال لگ گئے۔ نتیجہ یہ کہ ہمارے ہاں لاکھوں بچے اور بچیاں سکولوں سے باہر ہیں۔ پھر جن بچوں اور بچیوں کو تعلیم میسر ہے اس کا معیار اور مقصد بھی کافی قابل اعتراض ہے۔

UNCRC کہتا ہے کہ بچے کو ایسی تعلیم دو جو اسے اپنے کلچر اور مذہب کے ساتھ ساتھ دوسروں کے کلچر اور مذہب سے بھی پیار کرنا سکھائے۔ ہماری تعلیم بچوں کو دوسرے مذاہب اور کلچر کے ساتھ باقاعدہ نفرت کرنا سکھاتی ہے۔ اور ہمارے سکولوں کے نصاب میں کسی قسم کی تبدیلی کی بات پر طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔

ہمارے ہاں نہ صرف یہ کی بنیادی انسانی حقوق سرکارخود نہیں سکھاتی بلکہ اگر کوئی فلاحی ادارہ بھی بچوں کو انسانی حقوق کی تعلیم دینا چاہے تو لاہور اور اسلام آباد کی حکومتیں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں۔ باقی صوبوں میں صورت حال قدرے بہتر ہے۔

پاکستان کی حکومت جب UNCRC کمیٹی میں رپورٹ پیش کرتی ہے تو کہتی ہے کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے بچوں کے حقوق پورے کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ حالانکہ بہت سے اہم کام تو وہ ہیں جن کے لئے فالتو وسائل کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔

پاکستان حکومت کے ذمے ایک اہم کام قوانیں میں سقم دور کرنا ہے۔ وہ قوانین جو کچھ بچوں کے خلاف تفریق کا باعث بنتے ہیں ان کو درست کرنا اور جو قوانیں کمزور ہونے کی وجہ سے بچوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر پاتے انہیں مضبوط بنانا ہے۔ حکومت یہ کام اچھے طریقے سے نہیں کر رہی۔ بظاہر اس کام کے لئے کوئی فالتو رقوم درکار نہیں ہیں۔

سکولوں میں پڑہائے جانے والے نصاب کو تبدیل کیا جائے تاکہ بچے صحیع معنوں میں انسانی حقوق اور امن سیکھ سکیں۔ یہ بھی حکومت بغیر کوئی فالتو اخراجات کیے کر سکتی ہے۔ لہذا ہمارے بچوں کے بنیادی انسانی حقوق پورے نہ ہونے کا سبب حکومتوں کی بدنیتی اور نااہلی ہے۔ وسائل کی کمی کا تو صرف بہانہ ہی ہے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik