بارش میں بھیگی یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بارش شدت اختیار کر جائے تو آسمان سے برسنے والے قطروں کی لڑی، ذہن کو ماضی کا سفر کرنے کا سامان پیدا کردیتی ہے۔ ارد گرد کی بھیگی فضا اور زمین پر بنتے پانی کے لا تعداد بلبلے، جنہیں کبھی بچپن اور شاید لڑکپن میں چاہتے ہوئے بھی نہ گن پاتے تھے، ایک ایک بوند گرنے کے بعد فوری طور پر ایک مکمل ہالہ بن جاتا، یہ بلبلا جیسے اپنے ہونے کا یقین دلاتا ہے اور پھر لمحہ بھر میں کوئی نقش چھوڑے بغیر فنا ہو جاتا ہے، بادلوں کی چال بڑی نرالی، جیسے کوئی ایک گروہ ایک دوسرے کے کندھوں پر بازو جمائے آگے پیش قدمی کر رہا ہو، ساتھ میں اپنی آمد کا اعلان گھن گرج سے کر رہا ہو۔ نہایت خوبصورت ترتیب اور بڑے بارعب انداز میں ہلکے قدموں اور کبھی آہٹ کیے بغیر سروں کے اوپر آ پہنچتے۔

ہلکی ہلکی ہوا کے ساتھ سفیدی کی چادر اوڑھے آمد ایک احساس چھوڑ جاتی، جیسے ماں نے بڑے پیار سے اپنی آنچل پھیلا کر آغوش میں لے لیا ہو، ایک وہ زمانہ بھی ہوتا تھا، جب آنکھ اٹھا کر دیکھتے تو کئی شکلیں، کئی روپ دھارے چھوٹے بڑے ہیولے محسوس ہوتے، ان جانے میں جیسے خود سے یا پھر ہم سے کچھ کہہ رہے ہوتے۔ شاید وہ سوچیں بھی یادوں کی تہہ تلے دب گئیں۔ لیکن وہ کچھ تھا، اب تک یہ احساس ہوتا ہے، کم از کم اپنے اندر پیدا ہونے والے ہیجان یا پھر خوشی کے جذبات کو بوندوں میں منتقل کر کے ہم تک پہنچانا۔

یہ سب کوئی معمولی نہیں کچھ خاص ہی تھا اور ہے۔ پہلے پہلے گرنے والی ایک ایک بوند، مٹی میں ایسے جذب ہوتی کہ اس کا حصہ بن کر فضا میں ایک معطر سی کیفیت چھوڑتی، دماغ میں اپنے خوش کن اثرات کچھ ایسے بٹھاتی، برسوں گزر جائیں، چند بوندیں گرنے کی دیر ہے کہ ذہن خودبخود اس خوشبو کے سحر کھو کر اس کے تعاقب میں نکل پڑتا ہے، ایسے میں اگر ماضی کے دریچے بھی کھل جائیں تو کبھی کبھی ایک ہلکی سے آہ ہونٹوں تک آکر دم توڑ جاتی ہے۔

زندگی کے سفر میں کئی پڑاؤ آتے ہیں۔ اکثر بھیگے لمحات بھی امید کے ساتھ مایوسی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ باغوں میں جھولے ڈالنے کی باتیں پرانی ہو گئیں، پسند اور خواہشات بدل گئیں۔ اب کاغذ کی کشتیاں کسے یاد؟ کون جانے کیسے بنتی ہیں؟ وقت نے مصروف کر دیا۔ کسی کو اتنی فرصت نہیں، وہ ماضی میں جائے اور یاد دلائے خود کو وہ سب، جو تب بھلا لگتا تھا، مگر وقت کی گرد میں چھپ گیا۔ کچھ ہم نے بھلا بھی ڈالا۔ گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے بچوں کا قمیص اتار کر صرف نیکر میں آنکھیں بند کر کے آسمان کی طرف چہرہ اٹھانا اور بازو بلند کرنا، خوشی سے نعرے لگانا۔ پانی میں زور زور سے پاؤں مار کر دوسروں پر اچھالنا۔ یہ مستیاں بارش کے اس پانی میں لیٹ کر فرضی تیراکی کرنے کے انداز میں بدل جاتیں۔

بادلوں کا یوں مہمان بن کر آنا، پھر تحفے میں برسنا، برسات میں اگر بھلا لگتا سردیوں میں بھی اس کا جنوں سر چڑھ کر بولتا۔ بچپن سے جوانی میں قدم رکھنے میں یہ بھیگے لمحات کبھی اندر کا موسم خوشگوار بنا دیتے، کبھی اداسی اپنے ڈیرے جما لیتی۔ لیکن اوپر سے گرتا پانی کچھ نہ کچھ کیمیائی اثرات ضرور چھوڑ جاتا۔

بارش کے قطرے جب ٹین کی چھت پر گرتے، وہ اپنی آمد کی رفتار کا پتا دیتے۔ کبھی دھیمے دھیمے، دبے قدموں آپٹ ہوتی تو کبھی ایک فوج کی یلغار کا شور سنائی دیتا۔ اس گھن گرج جیسے توپ خانے کی کارروائی، ایک خوف کا سامان ہوتا۔ بارش تھم جانے کے بعد خاموشی، کبھی کبھی اپنے اندر کچھ دیر پہلے کی دہشت سنبھالے یہاں تک کہ باہر نکلنے کی ہمت جمع کرنے کی نوبت آ جاتی۔

ہلکی ہلکی بارش میں چھتری کا ساتھ ختم نہی ہوا، وہ وقت بدلنے کے باوجود اپنی ضرورت کا احساس دلاتا رہا، جسے کوئی سایہ دستیاب نہیں، چاہے وہ اہل ثروت ہو یا تہی دامن اس نے سر ڈھانپنے کے لئے چھاتا پکڑا ہوتا۔ ہاں یہ ہے کہ شرم تب بھی آتی تھی، پکڑتے اب بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ مگر چھتری ہے خوب، جس نے ہاتھ میں تھامی ہو، اور بغیر بادل گھر سے نکلے۔ اسے دیکھ یہی لگتا وہ بارش کا موڈ بنا کر یا پھر اس کا خوف ذہن پر سوار کر کے آیا ہے۔

آسمان نے مہربانی کر دی تو اس نے سر پر چھت تان لی، نہیں تو چھڑی کا سہارا تو پہلے ہی سے تھا۔ بارش کی یاد ہی سیلاب بن کر تباہی مچانے لگتی ہے۔ ہر اچھے خیال اور گزرے خوبصورت لمحے کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔ بڑوں کا کڑاہی تیار کر لینا، بادل کیا برستا، کھانے پینے کا بہانہ مل جاتا۔ اور کچھ نہیں تو ایک ایک کڑاکے دار چائے کا کپ تو ضرور ہاتھ لگ جاتا۔ بچے تو آج بھی تلی ہوئی چیزوں کی فرمائش کر ڈالتے ہیں۔

آسمان سے گرنے والی بوندیں جیسے ڈھیر ساری مصروفیات کا سامان ساتھ لے آتیں۔ دل میں کیا کچھ چل رہا ہوتا، آج بھی سب کچھ باہر نہیں آ پاتا۔ لیکن ایک ہلچل مچ جاتی۔ یہی بارش کا کمال ہے، وہ کل بھی کئی پہلو سمیٹے ہوئے تھی۔ آج بھی اس کے لوازمات کسی طور کم نہیں اور کرنے کو چاہیں تو بہت۔ بڑھاپے کے ساتھ ہی، یادداشت والا خانہ تھوڑا خراب ہو جاتا ہے، اور بارش کا خاصہ یہی ہے کہ وہ یادوں کو تر کرتی ہے۔ ایسے ہی جیسے کسی بوسیدہ چادر پر پانی کا چھڑکاؤ کر کے اسے بہترین طریقے سے استری کر لیا جائے۔ یہ چادر اوڑھنے والے کے لئے بالکل نئی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح یادیں فوری ماضی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہیں۔ ایک فلم سی چل پڑتی ہے، کس نے کیا کیا تھا یہ تذکرہ بھی چل نکلتا ہے۔

بارش تو جیسے بیتے دنوں میں کھو جانے کا بہانہ تراشتی ہے۔ آج کا تیز رفتار زمانہ، کہیں رکنے کی مہلت دیتا ہے اور نہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع۔ ہر نگاہ آگے پر لگی ہے۔ اس کی تدبیر کی جارہی ہے۔ اب کے ساون میں بادل خوب برسا، درختوں کا روپ رنگ اور نکھرا، پرندے بھی جی بھر چہچہائے، موسم کی خوبصورتی بھی مزید کھل کر سامنے آئی، مگر شاید یہ سب محسوس کرنے کے لئے دماغ و قلب کے پاس وقت نہ تھا، آنکھیں بھی کہیں اور لگی تھیں، ہاں اس بات کا گلہ ضرور رہا، کہ اس بار بھی بارش سے جگہ جگہ پانی جمع ہوگیا۔ ٹریفک کا مسئلہ پڑا، کچے مکان گرے، گندگی اور غلاظت کے ڈھیر لگے۔ مگر یہ تو تصویر کا دوسرا رخ تھا، جس سے کوئی انجان نہیں، تو پھر وہ بھیگا ماضی کیا ہوا۔

Latest posts by نعمان یاور (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 78 posts and counting.See all posts by nauman-yawar

Leave a Reply