فوری انتخابات اور ناگزیر اقدامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جولائی 2018 ء کے بعد معرض وجود آنے والی پی ٹی آئی حکومت کے دور میں ملک جس طرح کے حالات سے دوچار ہوا ہے وہ تقاضا کرتے ہیں کہ اب چند بنیادی سوالات کا جواب تلاش کیا جائے۔

1) کیا عمران خان کی حکومت ملک کے لئے ’سماج کے لئے معیشت سیاست اور پارلیمانی جمہوری نظام کیلئے سود مند ثابت ہوئی ہے؟

2) کیا موجودہ حکومت سے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ آئین کے تحت پارلیمان کی مقررہ مدت تک اس اسمبلی کے ذریعے ملک میں بہتری لانے کی استعداد کا مظاہرہ کر پائے گی؟

( 3 ) سیاسی عدم استحکام کی مسلسل موجودگی میں اگر دیگر چند اشاریے مثبت بھی ہوں تو کیا معاشی ترقی و استحکام کا یقینی امکان موجود ہوگا؟

4) کیا عمران حکومت سیاسی استحکام کے لئے درکار سیاسی بلوغت تدبر اور ذہنی کشادگی کا کوئی ہلکاسا تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے؟

بلاشبہ حکومتی جماعت سے جذباتی وابستگی رکھنے والے حلقے اپنی توقعات کے تناظر میں ان سوالات کے مثبت جواب پیش کر سکتے ہیں یا پھر جیسا کہ اکثر عوامی مباحث میں ہوتا آ رہا ہے وہ تمام خامیوں اور ناکامیوں کا ملبہ سابقہ حکومتوں کی نام نہاد بدعنوانیوں اور غلط پالیسیوں کے سرمنڈھ سکتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کو اقتدار سنگھاسن تک لانے میں ضمنی طور پر بے پناہ حمایت مہیا کرنے والے صحافتی حلقے سے وابستہ تجزیہ کاروں کی اکثریت بھی اب ان سوالات کے منفی جواب دے رہی ہے مجھ ایسے معدودے چند افراد ہوں گے جو 2011 سے ہی پی ٹی آئی کے بطن سے خیر کے امکان کو رد کرتے آ رہے ہیں آج حالات نے ان خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے جن کا اظہار راقم تسلسل سے کرتا رہا محترم جناب سہیل وڑائچ نے 20 ستمبر 2017 ء کو اپنے کالم میں۔ عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد ملکی نطام و معیشت میں تبدیلی کے لئے پی ٹی آئی کی تیاریوں یا ہوم ورک کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ

” 200 افراد پر مشتمل مختلف شعبہ جات کے عالمی شہرت رکھنے والے پاکستانی ماہرین کی ٹیم نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے اور وہ موقع ملنے کے انتطار میں ہیں بس ایک بار عمران کو موقع دے دیں تو حالات چشم وزن میں بہتری کی سمت بڑھ سکتے ہیں“

میں نے اس استدلال کے ردعمل میں دلیل دی تھی بیرون ممالک میں مقیم دو سو ماہرین کی متذکرہ ٹیم اگر حکومت ملنے کے بعد عمران خان کو میسر ہوئی بھی تو یہی ٹیم ان کے اقتدار کی کشتی پر بوجھ بنے گی کیونکہ اراکین اسمبلی اور ماہرین کی متذکرہ ٹیم کے درمیان مفادات کا تصادم سیاسی تناؤ لائے گا۔ اور یہی ہورہا ہے

جناب وزیراعظم کے معاونین خصوصی و مشیران کی بڑی تعداد اور ان کی فیصلہ سازی میں موثر شمولیت نے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی میں حکومت اور جماعت سے مفائرت کے احساس کو سیاسی اختلاف میں بدل دیا ہے گزشتہ ماہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں غیر منتخب معاونین و مشیران پر کابینہ ارکان کے تحفظات اور پھر دو معاونین کے استعفوں نے اس حقیقت کا پول کھول دیا ہے جبکہ بذات خود وزیراعظم دو سال میں اپنے ہی متعدد وزراء مشیران اور معاونین کو برخاست بھی کر چکے ہیں ان غیر منتخب مشیران و معاونین کے اثاثہ جات کی تفصیل اور کچھ کی دوہری شہریت نے حکومت کے لئے فضا انتہائی مکدر کر دی ہے چنانچہ ذرائع ابلاغ میں حکومت کی اناہلی اور رخصتی کی بحث شدت اختیار کر گئی ہے جسے جناب وزیراعظم نے ”مائنس ون“ کا عنوان دے کر گہرے مفاہیم عطا کیے چنانچہ بدلتے ہوئے حالات میں حزب اختلاف کی جماعتوں میں از سر نو رابطے بحال ہوئے ہیں ایک دوسرے کے تحفظات کی وضاحت اور عید کے بعد اے پی سی بلانے حکومت مخالف تحریک منظم کرنے کے لئے ایجنڈے اور حکمت عملی طے کرنے کے اعلانات سامنے آ چکے ہیں اب سوال یہ ہے کہ حزب اختلاف تبدیلی کے لئے کیا لائحہ عمل طے کر سکتی ہے؟

کیا تبدیلی کی یہ لہر بامعنی ثابت ہو سکتی ہے؟ یا اس کے لئے چند بنیادی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہوگی؟ تاکہ سیاسی بالادستی جمہوریت اور پارلیمانی مستحکم حکومت کے لئے راہ ہموار ہو سکے! اس کے لئے بنیادی فریضہ انتخابی عمل کو شفاف بنانا ضروری ہے ہرقسم کی مداخلت سے مبرا مصفا اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن بنانا ہوگا اگر اس مقصد کے لئے قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہو تو بھی اور بصورت دیگر وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کے ذریعے مداخلت کاروں کی ”آذریت“ روکنے کے لئے سیاسی جماعتوں میں گفت و شنید مفید ہو سکتی ہے اگر ملک میں تمام سیاسی جماعتیں اس ایجنڈا پر متفق الرائے ہوں تو اس کے وسیع البنیاد اثرات ہوں گے اس کے علاوہ چند دیگر ایسے معاملات بھی بہتر بنانے ہوں گے جو حالیہ دور میں خراب ہونے یا پھر کرونا کی وجہ سے نمودار ہوئے ہیں یہ فریضہ متبادل عبوری قومی حکومت ادا کر سکتی ہے۔

عدم اعتماد کی تحریک اور عوامی احتجاج کے ملے جلے اقدامات سے سیاسی صورتحال بدلنے کی سعی کی جانی چاہیے لیکن سیاسی اشتعال انگیزی کو سرخ لکیر سے آگے بڑھنے سے روکنا بھی لازم ہوگا عمران خان کابینہ کی تحلیل کے بعد (جو خود بھی تحلیل پذیر ہے) پی ٹی آئی کو بھی کسی نہ کسی حد تک شریک اقتدار کرنا ہوگا تحریک عدم اعتماد کے خلاف حزب اختلاف کا ایک معقول سیاسی استدلال جناب سینیٹر جاوید لطیف نے دہرایا ہے

”کون ایسی جماعت یا شخص ہو جو آگے بڑھ کر موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگیوں کا بوجھ اٹھائے“ اس استدلال میں سیاسی مفاد کا تاثر نمایاں ہے عوامی مفاد یا ملکی سیاسی استحکام کا قیام اور اسے موجودہ دلدل سے نکالنے کے عزم کا فقدان نمایاں ہے اس استدلال کو رد کرنے کے لئے دو نکات بیان کئیے جا سکتے یہیں فرض کریں عمران حکومت پانچ سال برسراقتدار رہتی ہے اور 2023 میں انتخابات ہوں تو کیا تب حزب اختلاف پی ٹی آئی کی ناقص کارکردگی کو انتخابی ایشو بنانے کے بعد رد عمل میں ملنے والی عوامی پذیرائی کو یہہ کہہ کر ٹھکرا دے گی کہ ہم کیوں عمران حکومت کی یپدا کردہ سنگین صورتحال کا بوجھ اٹھائیں؟ اگر پانچ سال بعد یہ بوجھ اٹھانا ناگزیر اور درست ہو گا تو دو سالہ ناقص کارکردگی کا بوجھ تو مقدار میں بھی کم ہے اسے اٹھانے سے گریز پائی اختیار کرنا کیونکر صائب عمل ہے!

حکومتی اتحاد میں نمایاں ہوتی دراڑیں اپوزیشن کے لئے گنجائش مہیا کر رہی ہیں وہ دو طرفہ حکمت عملی پر پیش قدمی کر کے ملک کو مزید تباہی اور سیاسی معاشی انحطاط سے بچائے کے لیے عوامی احتجاج منظم کرنے اور ساتھ ہی تحاریک عدم اعتماد کی بارش کر دے تو حالات جلد پلٹا کھا جائیں گے لہذا پنجاب اور مرکزی حکومت کے علاوہ سینٹ کے چیئرمین کے خلاف تحاریک پیش کر کے چومکھی کا آغاز کر کے تمام سیاسی جماعتیں مخلصانہ طور طریقے اپنائیں اور اے پی سی میں متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں جس پر عملدرآمد سب کے لئے لازم ہو۔

اے پی سی کو اولین طور پر جلد عام انتخابات کے انعقاد پر توجہ دینی چاہیے لیکن انتخابات 25 جولائی 2018ء کا اعادہ ہرگز نہیں ہونے چاہئیں تمام متعلقہ حلقوں کو موثر جمہوری انداز میں واشگاف طور پر بتا دیا جائے کہ عوام کو اپنی مرضی اور امنگوں کے مطابق نمائندوں کے انتخاب سے روکنا مملکت کے اتحاد و وجود کے لئے سنگین خطرات لاحق کرنے کے مترادف ہوگا اگر اے پی سی کو کورونا پر قابو پانے اور معاشی گاڑی کو درست سمت پر لانے کے لئے مختصر عرصہ میں اقدامات اور منصفانہ شفاف مداخلت سے پاک عام انتخابات کا نومبر 2020 ء میں انعقاد یقینی نظر نہ آئے تو پھر عوامی جمہوری جدوجہد تیز کرتے ہوئے اسے اسمبلیوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے وگرنہ عوام الناس انہیں بھی موجودہ حکمران گروہ کا ذیلی حصہ تسلیم کریں گے یوں اس حکومت کی ناقص کارکردگی کے پیدا کردہ بحران کا بوجھ حزب اختلاف کے کاندھوں پر بھی عائد ہوگا۔

حکومت کے خاتمے کا ایک رستہ چینی بحران پر تادیبی اقدامات کے لئے دباؤ بڑھانے میں بھی مضمر ہے مگر اس کے نتیجے میں عمران حکمت کو اپنا دامن جھاڑ کر اصول پسندی پر اقتدار قربان کر دینے کا چورن بیجنے کا پھر سہنری موقع مل جائے گا حکومت عوامی اور پارلیمانی ذرائع و قوت سے رخصت کرنے کا ضمنی فائدہ غیر جمہوری قوت کو عوام کے احساسات سے آگہی دینے کی صورت بھی نکل سکتا ہے اگرچہ یہ ایک خوش گمانی بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply