نفاذ اردو: ابھی مناسب نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2016 ء کے اوائل کی بات ہے، ہم کالج کینٹین پر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے کہ ہمارے ایک کولیگ کی ہمراہی میں ایک بزرگ ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ خاصے پڑھے لکھے۔ تعارف ہوا، ، غالباً کسی محکمے سے ریٹائرڈ تھے، چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے آنے کا مقصد بیان کرتے ہوئے بولے کہ جسٹس جواد ایس خواجہ کے نفاذ اردو کے تاریخی فیصلے کا تو آپ کو علم ہی ہوگا، اب اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے بھرپور تحریک کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمدرد سنٹر میں ہونے والی تقریب میں تقریر کی دعوت دیتے ہوئے فرمانے لگے کہ ”آپ کے پاس تحریک نفاذ اردو کا کوئی عہدہ بھی ہونا چاہیے۔“ میں نے عرض کی کہ اگر اردو کا نفاذ آج تک نہیں ہو سکا تو یقیناً اس میں کچھ دشواریاں حائل ہوں گی اور عجیب بات ہے کہ طے شدہ آئینی قومی معاملے کو عدالت میں لے جانا پڑا اور اب فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تحریک؟ میری نظر میں تو یہ سب سعئی لا حاصل ہے۔ اس بزرگ دوست نے کچھ برہمی سے کہا، کہ اگر اردو والے ہی ایسی باتیں کریں گے تو کسی اور سے کیا شکوہ۔۔۔ میں نے وضاحت کی کہ میں بھی آپ کی طرح اردو سے محبت کرتا ہوں اور بطور قومی زبان اس کا نفاذ چاہتا ہوں، مگر حقیقت ہے کہ تحریکیں جب عہدیداریوں اور دفاتر جیسے تکلفات کا شکار ہو جائیں تو ان کی حیثیت ایک لنگڑے لولے ادارے کی سی ہو جاتی ہے، جس میں سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے، نہیں ہو رہا ہوتا تو وہ مقصد جس کے لیے وہ بنایا گیا۔۔۔ یہ سنتے ہی ان محترم نے چائے کا کپ ادھورا چھوڑا اور برق رفتاری سے چلتے بنے، میری ”سنیے، سنیے“ کی صدا پر انھوں نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا! اس باخلوص بزرگ کے خلوص اور جذبے میں کوئی کھوٹ نہیں تھی۔ مگرمجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایسے شفاف صفت، متلون مزاج لوگ بعض معاملات میں معروضی حقائق کو نہ جانے کیوں فراموش کر دیتے ہیں۔

اب کچھ ہفتوں سے پھر تحریک نفاذ اردو کی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، جلسے، تقریریں، توجہ حاصل کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی کے سامنے کیمپ، کبھی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ، بے تحاشا عہدیداریاں، مگر حاصل جمع مت پوچھیے۔ باقی باتیں چھوڑ دیں، ایک بات کا ہی تجزیہ کر یں تو اردو کے دفتری زبان نافذ نہ ہو سکنے کی وجہ سامنے آ جاتی ہے۔ 1973 ء کے آئین میں لکھا تھا کہ پندرہ سال بعد قومی زبان اردو بطور دفتری زبان رائج ہو جائے گی۔

اردو کے ان متوالوں نے کبھی سوچا کہ نفاذاردو کے لیے پندرہ سال کے عرصے کا تعین کیوں کیا گیا؟ صرف اس لیے کہ 1973 ء تک یعنی پاکستان بننے کے تئیس سال بعد تک ہم نے نفاذ اردو کے لیے کوئی ایسی تیاری نہیں کی تھی کی اس کا نفاذ بطور دفتری زبان ممکن ہو سکتا۔ سرکاری معاملات لکھنے کے لیے وسیع پیمانے پر اردو ٹائپ رائٹرز اور ٹائپسٹ کی فراہمی جیسے تیسے ممکن بنا بھی لی جاتی مگر کبھی سوچا کہ سول سروسز میں بے شمارانواع و اقسام کے سرکاری خطوط اورطویل عدالتی کارروائیوں اور پیچیدہ فیصلوں میں ہزارہا انگریزی میں لکھی اور فوری سمجھی جانے والی اصطلاحات اور قوانین اردو میں کیسے اور کب ترجمہ ہوں گے؟

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج تک اردو ٹائپ کے لیے key board میں یکسانیت اور کاملیت نہیں آسکی کہ اس ہر جگہ بآسانی رائج کیا جا سکے، بلکہ نفاذ اردو کے حامی جب یہ کہتے ہیں کہ کلیدی تختے کی بہتری کے لیے کام ہو رہا ہے تو عام قاری نہیں سمجھ پاتا کہ کس چیز سے متعلق بات ہو رہی ہے۔ پندرہ برسوں کو تو ایک طرف رکھیے، 1973 ء کے آئین کو نافذ ہوئے سینتالیس سال بیت چکے ہیں، ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ اس عرصے میں قومی زبان کے خدمت گزاروں نے قصے کہانیوں، ناول، افسانوں اور کچھ پھسپھسی شاعری کے سوا اردوزبان کے استحکام کے لیے کچھ نہیں کیا، اگر کسی نے کچھ کیا ہے تو اسے نفاذ سے اور دور لے جانے والا؛ اردو کو فروٖغ دینے کے لیے ایسی ایسی ہوشربا اصطلاحات وجود میں لائی گئیں کہ لغات بھی ان کی تفہیم سے عاجز نظر آتی ہیں۔

مثلاً تھرمامیٹر؛ مقیاس الحرارت، کیلکولیٹر؛ شمارندہ، پروف ریڈر؛ عیب جو، کمپیوٹر؛ حاسبہ، موبائل فون؛محمول، ایس ایم ایس؛ پیمچہ، ان باکس؛نامہ دان، چارجر؛ برقیہ، آن لائن ؛ بالرابطہ، سکرین شاٹ: عکسیہ، پاس ورڈ؛ کلیدی بول، ای میل؛ برقی ڈاک، ریسورس پرسن؛ فراہمندہ، ڈیپ فریزر؛ یخ دان، سپیڈبریکر؛ رفتار شکن، لائیٹر؛ آتش انگیز، ٹیوب لائٹ؛ سلاخ تاباں، فنگر پرنٹ سینسر؛ لمس طباع، سلور جوبلی؛ جشن نقرہ، گولڈن جوبلی؛ نقش کندن، پلاٹینم جوبلی؛ جشن موتی، ڈائمنڈ جوبلی؛ جشن ہیرا، روسٹرم؛مخاطبہ، میلینیم؛ الفیہ، گراؤند فلور؛ منزل فرشی، ٹاپ فلور؛ منزل عرشی، کیوی؛ فیل مرغ وغیرہ۔

مجھے ان اصطلاحات پہ کوئی اعتراض نہیں، سوال یہ ہے کہ ان کو عوامی قبولیت کتنی حاصل ہوئی۔ شاید ان اصطلاحات کے وضع کرنے والے بھی عام زندگی میں انھیں استعمال نہیں کرتے ہوں گے۔ نفاذ اردو کے لیے پریشان و متحرک اکثر اکابرین کے بچے اعلیٰ انگریزی اداروں میں پڑھتے ہیں جو کبھی ایسی اصطلاحات کے عادی نہیں ہوسکتے، گویا اردو سے محبت کے دعوے محض کتابوں، مضامین، سیمینارز اور جلسے جلوسوں تک ہی ہیں۔

ایک بات بڑے شدومد کے ساتھ کی جاتی ہے کہ اگر ہم نے اردو زبان نافذ نہ کی تو ہم اپنی تہذیب کو بھول جائیں گے۔ اس سلسلے میں میرے دو سوال ہیں :

1۔ ہم کون سی تہذیب کوبچانا چاہتے ہیں؟
2۔ زبان تہذیب کی محافظ کیسے ہوتی ہے؟

اگر ہم ستر بہتر برسوں میں اردو کو نافذ نہ کر کے اپنی تہذیب کو نہیں بھولے تو آئندہ بھی اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اردو کے ساتھ کون سی تہذیب وابستہ ہے، گنگا جمنی، سندھی یا کوئی اور۔ کوئی بھی موقف اختیار کرنے سے پہلے اس کے مضمرات کو ضرور ملحوظ رکھیے۔ ”پاکستان کا مطلب کیا۔ ۔ ۔ لا الہ الا اللہ“ کے نعرے پر جان دینے والے اسلامی تہذیب کا حوالہ ضرور دیتے ہیں۔ ان کی خدمت میں محض اتنا عرض ہے کہ عربی نہ جانتے ہوئے بھی ہم اسلامی تہذیب کے جتنے رکھوالے تھے، عربی کچھ کلاسوں تک لازمی قرار دلوا کر بھی اس تہذیب کی خدمت و حفاظت میں چنداں فرق نہیں پڑا۔

ایک اور جان دار حوالہ بھی نفاذ اردو کے نفاذ کے لیے دیا جاتا ہے کہ چین میں چینی، کوریا میں کوریائی، فرانس میں فرانسیسی، جاپان میں جاپانی، روس میں روسی بولی جاسکتی ہے تو ہم شاید کسی احساس کمتری کا شکار ہیں۔ اس بات کا جواب خود اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ مذکورہ ہر زبان اپنے ملک کے نام سے پہچانی جاتی ہے، توہم ستر برسوں میں اردو کو پاکستانی کیوں نہیں بنا سکے۔ خاکم بدہن، میرا مطلب اردو کا نام بدلنے سے نہیں بلکہ مراد زبان کے ان معیارات سے ہے جو ہر صوبے کے لیے قابل قبول ہونے کے ساتھ قابل فہم بھی ہوں، مگر ہم تو آج تک علاقائی زبانوں کی متوازی لازمی تدریس کے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں، اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد تو آپ کسی صوبے کو نصاب کے لیے مجبور نہیں کر سکتے یعنی اگر کوئی صوبہ چاہے کہ اردو کو قومی زبان ماننے کے باوجود انٹر میڈیٹ سے اردو کی لازمی تدریس ختم کر دے تو آئینی طور پر اسے ایسا کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔

نصاب کا معاملہ ایک طرف رکھیے، آج تک ہم اردو کے املا کا معیار مستحکم نہیں کر سکے، زبان و املا پر بہت زیادہ اور وقیع کام رشید حسن خاں نے کیا، مگر ان سے اختلاف کرنے والوں کا دیکھا دیکھی ایک دبستان وجود میں آ گیا۔ لہٰذا اب جس کا جو دل چاہے اس کی پیروی کرے۔ چین یا دوسرے جن ملکوں کا ہم حوالہ پیش کرتے ہیں، ذرا ان زبانوں کے استحکام پر نظر دوڑائیے، ماؤ زے تنگ کی تو مثالیں لطیفوں کی حد تک مشہور ہیں کہ اگر کسی نے چینی زبان میں انگریزی کی آمیزش کی تو انھوں نے کس طرح اس کو تضحیک کا نشانہ بنایا اور ہمارے ہاں بات بات میں خواہ مخواہ انگریزی بولنا قابلیت کا معیارسمجھا جاتا ہے۔ آج اردو کو بطور دفتری زبان نافذ کیجیے، جگہ جگہ آپ انگریزی لفظ لکھنے پر مجبور ہوں گے اور پھر لشکری زبان کہہ کر دوسری زبان کے الفاظ بے دریغ استعمال کرنے پر فخر کریں گے۔ اب تو ہماری اردو کا بھرم قائم ہے نہ جانے کیوں ہم دفتری زبان بنا کر اس کی کمزوریاں آشکار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

نفاذ اردو کے حامیوں کا ایک بڑا مطالبہ مقابلے کے امتحانوں کا اردو میں منعقد کروانا ہے تاکہ سول سروسز کے دروازے ہر خاص وعام پر کھل سکیں۔ اگر زبان و تعلیم کا معاملہ بھی نوکریوں کے حصول کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو پھر آپ اردو کے نفاذ سے معلوم نہیں کون سی تہذیب بچانا چاہتے ہیں۔ فی الحال ہمیں خوش ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آئین پاکستان کی رو سے اردو قومی زبان ہے بالکل ایسے ہی جیسے آئین کی رو سے یہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اسلامی دفعات کی عملداری حاکم وقت کا آئینی فریضہ۔۔۔ مگر شب و روز کا تماشا سب کے سامنے ہیں۔ لہذا تحریک نفاذ اردو کے جذباتی رہنماؤں کی خدمت میں بصد معذرت واحترام عرض ہے کہ اردو کے بطور دفتری زبان نفاذ کے امکانات بالکل نظر نہیں آتے، یہ اس وقت مناسب ہوگاجب اردو زبان کی مشکلات و معاملات کو احسن طریقے سے سلجھایا جائے اور قومیتوں اور صوبوں کے دیگر تحفظات دور کرنے کے بعد زبان کے نفاذ کے معاملے پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply