کیا نہرو کی کشمیر سے محبت مسئلہ کشمیر کی بنیاد ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 27 اکتوبر 1947 کی صبح بھارتی فوج کی فرسٹ سکھ بٹالین کی آمد نے کشمیر کی قسمت پر تاریکی کے سائے پھیلا دیے۔ ہوائی جہازوں کے ذریعے 330 بھارتی فوجیوں کے کشمیر میں اترنے سے جس انسانی المیے نے جنم لیا اس کی خوفناک شکل آج نو لاکھ بھارتی افواج کی کشمیر میں موجودگی ہے۔ تقسیم ہند سے تین روز قبل مہاراجہ کشمیر نے نو آزاد مملکتوں پاکستان اور بھارت کے ساتھ معاہدہ جاریہ stand still agreement کی درخواست کی۔

پاکستان نے اثبات میں جواب دیا جبکہ بھارت نے بوجہ چپ سادھ لی۔ اس خاموشی کا تعلق ہندوستان کی 556 دیسی ریاستوں کے ادغام کے لئے قانونی اور تکنیکی اصولوں کی دستاویزات کے پس پردہ تیاری سے تھا 1948 میں طبع ہونے والی دستاویزات White Papers on Indian States کے مطابق بھارت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل اور ریاستوں کے محکمے کے سیکرٹری وی پی مینن نے Standard Instrument Of Accession کے نام سے پر فریب شرائط کے پھندے سے دیسی ریاستوں کی آزادی کا گلا گھونٹ دیا۔

دیگر ریاستوں کے بر عکس کشمیر کی جغرافیائی پوزیشن اور مسلم آبادی کا تناسب اس کے بھارت کے ساتھ انضمام کے راستے مین رکاوٹ تھا۔ مہاراجہ کشمیر کے دونوں ریاستوں کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں خوراک اور تیل کی فراہمی، ڈاک اور ٹیلی گرام کے مواصلاتی روابط جیسے نکات شامل تھے۔ ہندوستان کی حکومت اپنے وضع کر دہ الحاقی شرائط کے مطابق دفاع، مواصلات اور خارجہ امور ہندوستان کے سپرد کرنے پر مصر تھی۔ کشمیر کے مصائب کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک قدرتی اور تاریخی امر پنڈت جواہر لعل نہرو کا کشمیری نژاد ہونا بھی ہے۔

اپنے آباء کی سر زمین کے ساتھ غیر معمولی جذباتی وابستگی نے سیکولر اور انسان دوست سمجھے جانے والے رہنما کو توازن فکر اور سیاسی حقیقت پسندی کی سیدھی شاہراہ سے اتار کرتنازعات اور تضادات کی پر پیچ پگڈنڈی پر لا کھڑا کیا 17 جون 1947 کو لارڈماؤنٹ بیٹن کو لکھے گئے خط سے پنڈٹ نہرو کی کشمیر کی تاریخی، سیاسی اور سماجی حالات سے حد سے بڑھی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مذکورہ خط میں کشمیرکی آبادی کے تفصیلی اعداد و شمار بیان کرنے کے بعدوہ اپنے دوست شیخ عبداللہ کو ایک ایسی طلسماتی شخصیت قرار دیتے ہیں جن کی ذات سے دیومالائی دستانیں وابستہ ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ وہ ریاست کے وزیر اعظم مسٹر رام چندر کاک کے خلاف غصے، نفرت اور بغض سے بھرے نظر آتے ہیں۔ وہ واسرائے کو باور کراتے ہیں کہ کشمیریوں کا نجات دہندہ شیخ عبداللہ کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے حق میں ہے جبکہ مسٹر کاک مہاراجہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے پر قائل کر رہا ہے۔ خط کے آخری پیرا گراف میں وہ اپنے دل میں مچلتی خواہش کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں ”اگر کشمیر کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی تو بہت زیادہ گڑ بڑ پھیلے گی کیونکہ کشمیر نیشنل کانفرنس اس امر کے حق میں نہیں ہے۔

اس صورت میں مہاراجہ کشمیر مشکل میں پڑ جائیں گے۔ کشمیر کے لئے مناسب اور سیدھا راستہ ہے کہ وہ ہندوستان سے الحاق کرے۔ اس سے عوامی مطالبہ بھی پورا ہو جائے گا اور مہاراجہ کی خواہش بھی۔ یہ رائے بالکل لغو ہے کہ کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے پر پاکستان مشکلات کھڑی کرے گا ” تقسیم ہند کے واقعات کے پس منظر اور پیش منظر کے بہت سے سر بستہ واقعات کا احوال بیان کرتے Mountbatten Papers کے مطالعے سے جون 1947 کے اواخر میں نہرو کے کشمیر جانے کے اعلان سے پیدا شدہ دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے۔

وائسرائے ہند کی خفیہ مراسلت کی رپورٹ نمبر دس میں ماؤنٹ بیٹن لکھتے ہیں کہ ”ریاستوں کے سوال پر نہرو اور گاندھی کا رویہ مایوس کن ہے۔ نہرو کا کہنا ہے کہ انھین ہر حال میں کشمیر جانا ہے تاکہ وہ اپنے دوست شیخ عبداللہ کو رہا کروا سکیں۔ نہرو اس ضمن میں بہت بے تاب ہو رہے ہیں کہ مہاراجہ کشمیر کہیں یک طرفہ اعلان آزادی نہ کردے ” لارڈ ماؤنٹ بیٹن 26 جون کو مہاراجہ کشمیر کے نام خط میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ نہرو کو دورے سے نہیں روک پا رہے۔

اب یہ مہاراجہ پہ منحصر ہے کہ وہ نہرو اور گاندھی میں سے کسی ایک کو ریاست میی آنے کی اجازت دے کر تصادم کو ٹال سکتا ہے۔ 8 جولائی 1947 کو مہاراجہ کشمیر جوابی مکتوب میں وائسرائے سے نہرو کے مجوزہ دورہ کشمیر کی صورت میں ریاست میں ممکنہ فرقہ وارانہ فسادات کا خدشہ ظاہر کرتا ہے۔ وہ وائسرائے کو یہ پیشکشں بھی کرتا ہے کہ اگر نہرو کی جگہ گاندھی کا کشمیر کا دورہ نا گزیر ہے تو بہتر ہے کہ وہ اسے خزاں کے آخر تک ملتوی کر دیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن، مہاراجہ کشمیر اور اس کا وزیر اعظم، گاندھی اور پٹیل تمام لوگ پنڈت نہرو کی اس بے تابانہ خواہش سے روکنے کے لئے طرح طرح کے دلائل دیتے ہیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن لکھتا ہے کہ جب میں نے دیکھا کہ نہرو پر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوا میں نے پوری ہندوستانی قوم کی طرف سے ان پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہؤے لکھتا ہے ”ہندوستان میں چار کروڑ نفوس آباد ہیں جبکہ کشمیر کی آبادی صرف چالیس لاکھ ہے۔

بہت جلد انھیں 25 کروڑ ہندوستانیوں کا وزیر اعظم ہونا ہے۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ آپ چالیس لاکھ آبادی میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں جو عین ممکن ہے کہ کستان کاحصہ بن جائے۔ ” 27 جولائی کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے نام اپنے خط میں نہرو نے 4 اگست کو اپنے مجو زہ کشمیر کے پانچ روزہ دورے کی تاریخ بھی دے دی تو وائسرائے سٹپٹا گیا۔ وہ گاندھی کے نام اپنے خط میں اس بات پر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ یہ تصورہی میری سمجھ سے باہر ہے کہ مستقبل کا وزیر اعظم انتقال اقتدار سے صرف 18 روز قبل دھلی سے باہر کیسے جا سکتا ہے؟

29 جولائی کو پنڈت نہرو، سردار پٹیل اور ماؤنٹ بیٹن کی ایک ملاقات میں ” مشن کشمیر ”کے نامکمل رہنے کی صورت میں نہرو کے ذہنی اضطراب میں کمی کے لئے پٹیل نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر یہ معاملہ دو برائیوں میں سے کم تر کے انتخاب کا ہے تو گاندھی کشمیر کادورہ کر لیں۔ ماؤنٹ بیٹن کے بقول پٹیل کے اس جواب پر نہرو ڈھے گئے اورانہوں نے روتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک کشمیر کی جتنی اہمیت ہے وہ کسی اور شے کی نہیں ہو سکتی۔

اس ملاقات کے بعد پٹیل نے اپنے ایک دوست سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وائسرائے نے نہرو کے سیاسی کیرئیر کو تباہ ہونے سے بچالیا ہے اور کانگریس کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ انتقال اقتدار کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکے۔ متحدہ پنجاب کے سابق وزیر اعظم سر سکندر حیات کے فرزند اور مسلم لیگ کے سابق وزیر سردار شوکت حیات اپنی خود نوشت ”گم گشتہ قوم“ میں قیام پاکستان کے بعد نہرو کے ساتھ اپنی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”ایک بار میں اور میری بیگم نئی دھلی میں پنڈت نہرو کے گھر ڈنر پر مدعو تھے۔

نہرو نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان میں لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے اور کہتے ہیں؟ میں نے کہا کہ آپ کے دوستوں کا خیال ہے کہ ہندوستان کوایک عظیم وزیر اعظم مل گیا جبکہ ایشیا ایک عظیم تر لیڈر سے محروم ہو گیاجو ایشیا کو اکٹھا رکھ سکتا تھا۔ کیوں؟ اس نے کہا۔ میں نے جواب دیا کہ پنڈت جی آپ متحدہ خاندانی نظام پر یقین رکھتے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ کے والد صاحب مر جاتے ہیں اور آپ کا چھوٹا بھائی اصرار کرتا ہے کہ اسے حصے میں ایک فالتو غسل خانہ چاہیے جو اس کے کمرے سے ملحق ہے۔

اس مطالبے کی بناء پر آپ خاندانی سسٹم توڑ کر الگ ہو جائیں گے؟ انہوں نے کہا تمہارا اشارہ کشمیر کی جانب ہے جبکہ کشمیر میرا جذباتی مسئلہ ہے۔ ” 27 اکتوبر کو ہندوستای افواج کی مداخلت سے قبل 25 اکتوبر کو ہندوستان کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کی روداد بیان کرتے ہوئے معروف بھارتی صحافی اوردانشور کلدیپ نائر نے اپنی سوانح عمری Beyond The Life میں لکھا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن جو اس اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ہندوستان کے ساتھ کشمیرکے عارضی الحاق کے حامی تھے اس نظریے کے ساتھ کہ امن و امان قائم ہونے کے بعد استصواب رائے کے ذریعے کشمیر کے باشندوں کی مرضی معلوم کی جائے گی۔

نہرو اور پٹیل کو اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا تھا کہ الحاق کے بغیر ہی ہندوستان اپنی افواج بھجوا دے۔ کلدیپ نیئر کی خود نوشت میں کشمیرکے بارے میں نہرو کی ذہنی ساخت اور ذاتی خیالات کے بہت سارے پہلو سامنے آتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ نہرو استصواب رائے کے مخالف تھے مگر ایک دوسری وجہ سے انہوں ماؤنٹ بیٹن سے کہا کہ ”ہندوستانی سپاہیوں کے کشمیر پر فوجی قبضے اور شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے اقتدار میں ہوتے ہوئے اس قدر پراپگنڈہ اور دباؤ ڈالا جائے گا کہ ایک عام مسلمان کو کبھی جرات نہ ہو سکے گی کہ وہ پاکستان کے حق میں رائے دے سکے ”۔

نہرو کے آباء و اجداد کشمیری پنڈت تھے جن کی زبان کشمیری تھی یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک وادی کے علاوہ کشمیر کی حیثیت ثانوی تھی۔ کلدیپ نیئر کابیان اس حقیقت کی تفہیم میں مدد دیتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے کئی سال کے بعد میں نے کشمیر آپریشن کے سر براہ لفٹیننٹ جنرل کلونت سنگھ سء سوال کیا کہ ”آپ لوگ کشمیر کے محاذ پر رک کیوں گئے پورے کشمیر پر قبضہ کیوں نہ کیا؟ ”اس نے جواب دیا کہ وزیر اعظم نے اسے ہدایت کی تھی کہ وہ صرف اس علاقہ تک فوجی پیشقدمی کریں جہاں کشمیری زبان بولی جاتی ہے۔

نہرو نہیں چاہتے تھے کہ فوج پنجابی (ہندکو) بولنے والے علاقے (آزاد کشمیر) میں داخل ہو۔ ایک طرح سے نہرو کو وادی کشمیر مطلوب تھی ان کی سوچ اس پیشکش سے واضح ہو جاتی ہے جو انہوں نے اکتوبر 1947 میں لندن میں دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم کی کانفرنس میں لیاقت علی خان کو کی تھی۔ کشمیر کو اس طرح تقسیم کیا جائے جس میں مغربی پونچھ کے مخصوص علاقے اور ریاست کشمیر کا شمال مغربی حصہ پاکستان کو دیا جائے جبکہ وادی کشمیر ہندوستان کے قبضے میں رہے۔ پنڈت نہرو کا کشمیر سے تیسری نسل کا تعلق تھا۔ ان کی اپنی آبائی سر زمین کو ہندوستان کی یونین میں شامل کرنے کی بے تابی اور بے بصیرتی نے آج کشمیریوں کی تیسری نسل کے لئے کشمیر کو قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید صفدر گردیزی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply