کیا غازی خالد توہین رسالت کا مرتکب ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پچھلے دنوں پشاور کی عدالت میں ایک نوجوان خالد نے توہین رسالت کے ایک ملزم طاہر شمیم احمد کو قتل کر دیا۔ بظاہر یہ واقعہ بھی توہین رسالت کے نتیجے میں ہونے والے قتل کے تمام دوسرے واقعات کی طرح تھا۔ لیکن قتل کرنے کے فوراً بعد قاتل نے کچھ ایسے دعوے کیے جنہوں نے اس واقعہ کو اپنی نوعیت کے ہونے والے دوسرے تمام واقعات سے مختلف کر دیا۔ وقوعہ کے فوراً بعد قاتل یعنی خالد نے ایک شخص کے سوال پوچھنے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ خواب میں حضور ( ص ) نے اس کو بتایا کہ قاتل کہاں بیٹھا ہو گا (جس سے اس کو قاتل کو ڈھونڈ کر مارنے میں مدد ملی) ۔

اس کے بعد بقول خالد حضور پاک (ص ) نے خالد کو مخاطب ہو کر یہ بھی کہا کہ یہاں یعنی عدالت میں ایک بھی شخص غیرت مند نہیں ہے، یعنی کہ وہ وکیل جو مقتول کے خلاف مقدمہ لڑ رہا تھا، وہ جج جو یہ مقدمہ سن رہا تھا اور وہ سارے لوگ جنہوں نے عدالت میں مقتول کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ کیا وہ غیرت مند نہیں تھے۔ خالد نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور ایک ایسی بات کہ ڈالی جو اس پہلے اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں کبھی نہ کسی نے سنی، نہ کہی اور نہ ہی پڑھی، خالد سے جب ایک شخص نے سوال کیا کہ آلہ قتل یعنی پستول تمھارے پاس کہاں سے آیا ہے تو اس نے کہا کہ نبی پاک نے پستول یعنی (آلہ قتل) اپنے ہاتھ سے خالد کو دیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا اور انہونا دعوی تھا جو اس سے پہلے آج تک کوئی نا کر سکا۔ سوال کرنے والے کی طرف سے حیرت کا اظہار کرنے پر خالد نے کہا کیا وہ یعنی نبی پاک مجھے پستول دے کر یہاں نہیں بھیج سکتے؟

قانون کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے جب میں نے اس بیان کی گہرائی پر غور کیا تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ گہرائی میں جانے پر اس بات کا جو مطلب نکل رہا ہے وہ بہت ہی بھیانک اور نا قابل تسلیم ہے۔ کیونکہ جب اس قتل کے مقدمہ کی کارروائی ہو گی تو پاکستان میں فوجداری قانون کے تحت ہونے والے مقدمات کا ایک اہم پہلو 164 ض ف کا بیان ہوتا ہے جس میں ملزم مقدمہ عدالت کے سامنے اپنا اقراری بیان دیتا ہے۔ اگر کارروائی مقدمہ کے دوران خالد اپنے 164 (ض ف ) کے بیان میں اپنا یہ موقف برقرار رکھتا ہے جو اس نے وقوعہ کے فوراً بعد دیا تو اس کا مطلب استفغراللہ (میرے منہ میں خاک) کیا خالد یہ کہے گا کے جرم میں استعمال ہونے والا آلہ قتل اس کو نعوذباللہ سرکار دو جہاں نے دیا تھا۔

نا دانستہ طور پر خالد نے نعوذباللہ سرکار دو عالم کو بھی اس جرم کی واردات میں اپنا مددگار بنا لیا۔ (اس سے آگے اور اس کا مطلب لکھنے کی میں ہمت نہیں پا رہا) ظاہری بات ہے یہ موقف کسی صورت بھی کسی مسلمان کو قبول نہیں ہو گا اور کوئی اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ایسی صورت میں خالد اپنے موقف سے پیچھے ہٹے گا اور اس بیان سے اس کو مکرنا پڑے گا۔ خالد کو کہنا پڑے گا کہ جرم میں استعمال ہونے والا پستول اس کو سرکار دو عالم نے نہیں دیا۔ ایسی صورت میں خالد پر یہ الزام لگے گا کے اس نے سرکار دو عالم کے خواب میں آنے کے متعلق جھوٹ بولا اور وہ ساری کہانی جو اس نے وقوعہ کے فوراً بعد حضور کے خواب میں آنے کے متعلق بیان کی وہ جھوٹی اور من گھڑت یا اس کا کچھ حصہ جھوٹ ہے جو کہ سراسر توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے۔

میری اس سلسے میں عدلیہ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست ہے کہ وہ خالد سے اس سلسلے میں ضرور پوچھ گچھ کر کے تصویر کا اصل رخ جاننے کی کوشش کریں اور عوام کو بھی اصل حقیقت سے آگاہ کریں جو ایک قتل کے مجرم اور جھوٹے شخص کو اپنا ہیرو اور ناموس رسالت کا محافظ بنائے بیٹھے ہیں۔ عوام کو بتایا جائے کہ یہ شخص ایک مجرم اور کذاب ہے جس نے سرکار پاک کی ذات پر اپنا مددگار ہونے اور جرم کی واردات میں استعمال ہونے والے آلہ قتل فراہم کرنے کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگایا ہے۔ ملزم کے خلاف درج ہونے والے مقدمہ میں توہین رسالت کی دفعات بھی شامل کی جائیں اور ملزم کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کے مستقبل میں کوئی بھی اس طرح سے حضور پاک کا نام لے کر ان پر بہتان باندھنے کی جرات نہ کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
توصیف احمد عباسی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply