احمدیوں کا مخصوص شیزوفرینیا اور اس کی خطرناک علامت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز پہلے پشاور میں ایک دلخراش واقعہ ہوا۔ ایک شخص طاہر نسیم صاحب کو عدالت میں پیش کیا جا رہا تھا۔ ان پر کچھ مذہبی نوعیت کے الزامات تھے۔ بھری عدالت میں ایک نوجوان خالد نے پستول سے فائر کے طاہر نسیم صاحب کو قتل کر دیا۔ ان کی لاش کی تصویر دیکھ کر دلی صدمہ ہوا۔ اس موضوع پر مختلف قسم کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اس بحث میں ایک پہلو اب بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اور وہ پہلو مقتول اور انہیں قتل کرنے والے قاتل کی نفسیات کا پہلو ہے۔ مقتول کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کچھ دعاوی کیے تھے۔ اور قاتل کا کہنا ہے کہ انہیں ایک خواب میں حکم دیا گیا تھا کہ اس شخص کو قتل کردو۔

قاتل اور مقتول دونوں کے متعلق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ نفسیاتی مریض تھے۔ یہ پہلو اس واقعے اور بھی دردناک بنا رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ محترمہ عفاف اظہر صاحبہ نے اس واقعہ کے نفسیاتی پہلو کے بارے میں ایک قلم اٹھایا اور اس موضوع پر ان کی ایک تحریر ”عقیدت کی گھٹن نفسیاتی مرض میں کیسے ڈھلتی ہے؟“ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس تحریر میں مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا گیا تھا لیکن میں صرف ایک پہلو پر جائزے کو آگے بڑھاؤں گا جس کا تعلق نفسیات کے علم سے ہے۔ اور یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ نفسیات کا علم ایک سائنس ہے اور اس پر جو بھی تجزیہ کیا جاتا ہے وہ سائنسی اصولوں پر ہوتا ہے۔

اور اصول یہ ہے کہ اپنا موقف ثابت کرنے کے لئے یا توکسی ریسرچ کا حوالہ دیا جائے یا پھر خود اپنی ایسی تحقیق اعداد و شمار کے ساتھ پیش کی جائے جو سائنسی معیار پر پوری اترے۔ اس تحریر کے آغاز میں ہی محترمہ عفاف اظہر صاحبہ نے قاتل اور مقتول دونوں کے نفسیاتی تشخیص ان الفاظ میں بیان فرمائی :

” جیسے کل کے واقعہ کو ہی لے لیں۔ مقتول طاہر اور ملزم خالد دونوں کے مختلف اوقات میں دیے گئے بیانات کی وڈیوز میں ان کی سوچ اور باڈی لینگویج کو بغور دیکھ کر کسی بھی ماہر نفسیات کا انہیں شیزوفرینک یعنی نفسیاتی مریض تشخیص کرنا قطعی مشکل نہیں تھا۔ دونوں حتمی طور پر نفسیاتی کیس ہیں۔ ہاں یہ الگ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ انسانی نفسیات کا موضوع ہمارے معاشرے میں کوئی وجود ہی نہیں رکھتا۔ جس کی وجہ سے بہت سے نفسیاتی امراض بنیادی سطحوں پر پکڑ اور علاج ممکن نہ ہو سکنے کا سبب آج ہمارا معاشرہ ایک پاگل خانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔۔۔“

گویا دونوں کی ویڈیو دیکھ کر انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ ان دونوں کو ”شیزو فرینیا“ کا مرض تھا۔ میرے رائے میں تو یہ بہتر ہو گا کہ اس بارے میں وہ ماہرین نفسیات رائے دیں جنہوں نے ان کا معائنہ کیا ہو کہ ان کو شیزو فرینیا تھا کہ نہیں۔ لیکن اس تحریر کا جائزہ لیتے ہوئے ہم اسی بنیاد پر اپنے تجزیہ کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ شیزو فرینیا کی علامات کیا ہوتی ہیں۔

شیزو فرینیا کے مریض کو مختلف قسم کے وہم شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسے یہ وہم شروع ہو جائے گا کہ لوگ مجھے دھمکی آمیز اشارے کر رہے ہیں۔ یا اسے یہ وہم ہو جائے گا کہ میں عالمی شہرت یافتہ انسان ہوں۔ میں نے ایک ایسا مریض دیکھا ہے جسے یہ وہم ہو گیا تھا کہ اس وقت پاکستان کے صدر اپنی بیٹی کی شادی ان سے کرنا چاہتے تھے۔ ایسا مریض دیکھا ہے جسے وہم ہو گیا تھا کہ مجھے ایک بین الاقوامی سازش کے تحت ایف سی کالج سے نکالا گیا ہے۔

ایسے مریض ہذیان میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ کچھ آ وازیں سن رہے ہیں اور بعض مرتبہ انہیں کچھ مناظر یا لوگ دکھائی دیتے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتے۔ میں نے ایسا مریض دیکھا ہے جسے یہ خیال تھا کہ بعض لوگ اس پر قبضہ کر کے اسے گالیاں دیتے ہیں۔ بعض مرتبہ یہ مریض ان آوازوں کو مذہبی رنگ بھی دے دیتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آ رہے ہیں۔ اور غیبی آوازیں انہیں مخاطب کر رہی ہیں۔ ان مریضوں کی سوچ پراگندہ ہو جاتی ہے۔ وہ پوری طرح سوال کا جواب بھی نہیں دے پاتے اور بعض مرتبہ الفاظ کا چناؤ ٹھیک نہیں ہوتا۔ غیر متوقع طور پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ عجیب حرکات کرنا شروع کرتے ہیں۔

محترمہ عفاف اظہر صاحبہ تحریر فرماتی ہیں :

”یعنی کہ یہ ایک ذہین دماغ پر عقیدت کے مکمل غلبے اور انفرادی سوچ پر بے انتہا مذہبی پریشر کے خطرناک نتائج میں سے ایک ہے۔۔۔ کہ جب انسان کو اپنے وجود میں غیر مرئی قوتیں پنپتی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ روح کے تار سیدھے افق سے جا ملتے ہیں۔ خوابوں میں روحانی ہستیاں جگمگانے لگتی ہیں۔ اور فرشتے دن رات ہمکلام رہتے ہیں۔ مقدس ہستیاں سپنوں میں آ کر احکام دیتی ہیں۔ شیزوفرینیا یہی تو ہے؟“

اس اقتباس سے یہ تاثر مل سکتا کہ شیزو فرینیا کی یہی علامت ہے کہ رات کے وقت مریض کو فرشتے نظر آنے لگتے ہیں اور سپنوں میں مقدس ہستیاں احکام دیتی ہیں۔ اور اس بیماری کی پیدا ہونے کی ثابت شدہ ایک وجہ یہی ہے کہ غریب مریض کو اپنے مذہبی عقائد کے پریشر کوکر میں بند رکھا گیا تھا۔ سائنسی طور پر یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔

مانچسٹر یونیورسٹی کے رونلڈ سڈل کی تحقیق کے مطاق شیزو فرینیا کے صرف 24 فیصد مریضوں کو مذہبی نوعیت کے مناظر دکھائی دیتے ہیں یا اس قسم کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ایران، سعودی عرب اور کویت جیسے مذہبی ممالک اور چین اور سنگاپور جیسے دہریہ ممالک میں شیزوفرینیا کی شرح میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور ماضی قریب میں ایک ملک تھا جس کو مذہبی دباؤ سے پاک کر دیا گیا تھا اور وہ سوویت یونین تھا۔ 1977 میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو Holland and Schakhmatova۔ Pavlova نے کی تھی سوویت یونین میں شیزو فرینیا کی شرح بہت زیادہ تھی۔ اس سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ صرف مذہبی دباؤ کو شیزو فرینیا کی وجہ قرار دینا صحیح نہیں۔

یہ تمہید بیان کرنے کے بعد کہ اگر لوگوں کے مذہبی عقائد کے پریشر کوکر میں بند رکھا جائے تو ان کو شیزو فرینیا ہوتا ہے اور اس بیماری کے نتیجے میں وہ مذہبی ہذیان میں مبتلا ہوتے ہیں اور ایسے مریضوں کو کبھی خواب میں مقدس ہستیاں احکامات دیتی ہیں اور کبھی شیزوفرینیا کے مریض سمجھتے ہیں کہ انہیں آوازیں آ رہی ہیں اور پھر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں یہ احکامات دیے جا رہے ہیں، عفاف اظہر صاحبہ یہ تہلکہ خیزنتیجہ پیش کرتی ہیں

” یہاں کچھ سنجیدہ سوال اٹھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ موجودہ حالات میں اس طرح کے زیادہ تر دعوؤں کا سلسلہ آخر جماعت احمدیہ سے جا کر ہی کیوں جڑتا ہے؟“

یعنی شیزوفرینیا کے جو مریض مذہبی ہذیان میں مبتلا ہو کر آسمانی رابطوں کا دعویٰ کر رہے ہیں ان کی اکثریت احمدی مسلک سے وابستہ ہے۔ سائنسی طور پر یہ بہت بڑا دعویٰ ہے۔ لیکن ادب سے عرض ہے کہ اس موضوع پر کہ شیزوفرینیا کے مریض جو مذہبی ہذیان کے سحر کا شکار ہو رہے ہیں اور اس قسم کے مختلف دعوے کر رہے ہیں، ان میں کس مسلک یا مذہب سے وابستہ افراد کی تعداد زیادہ ہے کئی ریسرچ پیپر شائع ہو چکے ہیں۔ اور ان میں سے کسی ایک نے بھی وہ نتیجہ نہیں نکالا جو عفاف اطہر صاحبہ پیش فرما رہی ہیں۔

ان تحقیقات کے مطابق مسلمانوں اور بدھ مت سے وابستہ افراد کی نسبت مسیحی افراد کو مذہبی ہذیان زیادہ لاحق ہوتا ہے۔ کیتھولک احباب پرٹسٹنٹ احباب کی نسبت اس مسئلہ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ یو کے کے مریضوں کو سعودی عرب کے مریضوں کی نسبت زیادہ غیبی آوازیں سنائی دی رہی تھیں۔ مذہبی ہذیان میں مبتلا افراد میں سے کئی دعویٰ کرتے ہیں اور کئی مریض خاموش رہتے ہیں۔ ان تحقیقات میں کہیں پر یہ نتیجہ نہیں اخذ کیا گیا کہ یہ پیچیدگی احمدی مسلک سے مخصوص ہے۔ بلکہ اگر غور کریں تو یہ تحقیقات محترمہ عفاف اظہر صاحبہ کے نظریات کی تردید کر رہی ہیں۔

اگر شیزو فرینیا کو نظر انداز بھی کر دیا جائے اور صرف دعوے پیش کرنے والوں کو شمار کیا جائے تو گزشتہ پندرہ بیس سال کے دوران پاکستان کے اخبارات میں کے کئی ایسے افراد کی خبریں شائع ہوئی ہیں اور ان میں سے صرف ایک کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اور گزشتہ صدیوں میں مغربی دنیا میں بھی ان دعاوی کا سلسلہ اس وقت بھی جاری جب جماعت احمدیہ کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اس سلسلہ میں رونلڈ میتھیو کی English Messiahs ملاحظہ کیا جا سکتی ہے۔

گزارش ہے جب کوئی سائنسی بات کی جاتی ہے تو اسے سائنسی معیار کے مطابق ہی بیان کرنا چاہیے اور اسی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے۔ خواہ بات کرنے والا آئن سٹائن ہی کیوں نہ ہو۔ جب ہم سائنسی تحقیقات کی روشنی میں عفاف اظہر صاحبہ کے اس دعوے کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ تحقیقات اس دعوے کو رد کر دیتی ہیں۔

[گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل مقالوں میں بیان کردہ کئی تحقیقات کے حوالے مل جائیں گے۔

Religion، Spirituality، and Schizophrenia: A Review۔ Indian J Psychol Med۔ 2014 Apr۔ Jun; 36 ( 2 ) : 119۔ 124

The Russian Concept of Schizophrenia: A Review of the Literature by Helen Lavretsky

Appelbaum PS, Robbins PC, Roth LH. Dimensional approach to delusions: comparison across types and diagnoses. Am J Psychiatry. 1999;156 (12) :1938-1943. doi:10.1176/ajp.156.12.1938[

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply