”پاکستان اور اس کے لا محدود وسائل“ ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ عنوان ہم میں سے بیشتر لوگوں کو عجیب لگے گا کیونکہ ہم اکثر پاکستان کے متعلق ایسا نہیں سنتے۔ ہم زیادہ تر پاکستان کے ”لامحدود مسائل“ ہی کے متعلق سنتے آئے ہیں۔ آئیے آج آپ کو ایسے پاکستان سے ملواتے ہیں جس کے متعلق ہمیں کم ہی بتایا جاتا ہے۔

پاکستان تو حقیقت میں ایک سونے کی چڑیا، ایک الٰہ دین کا چراغ ہے جس سے ابتک حکمرانوں نے اپنے کھاتے بھرنے اوراپنی نسلوں تک دولت کے انبار اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اور دنیا کے سامنے جس کو بے کار لوہے کی طرح ہی ثابت کیا جاتا ہے۔

قارئین کرام! تحدیث نعمت کے طور پر اپنے عزیز پاکستانی بہن بھائیوں سے اس کا ذکر کرنا بہت ضروری لگا۔ مزید دیر کیے بغیر تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ نہایت باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان میں اربوں کھربوں ڈالرز کے معدنی ذخائر موجود ہیں جو پاکستان کی عوام کے سارے دلدر دور کرکے ا س کو ایک خوشحال ملکوں کی فہرست میں لا کرکھڑا کر سکتے ہیں۔

مندرجہ ذیل معدنیات کے ذخائر میں پاکستان کی رینکنگ پہلے دس بڑے ممالک میں ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں دنیا میں کوئلے کے چوتھے بڑ ے ذخائر ہیں جن کی مالیت پچیس کھرب ڈالرز بتائی جاتی ہے۔ جو کہ باقاعدہ ریکارڈ پر ہیں۔ سونے اور تانبے کے ذخائر میں پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے۔ جن کی مالیت کا اندازہ دو ہزار پانچ سو ارب ڈالرز ہے۔ قیمتی پتھروں میں سنگ مر مر میں پاکستان آ ٹھویں نمبر پہ جبکہ پکھراج جسے اوپل بھی کہا جاتا ہے پانچویں نمبر پہ ہے۔ ایکسپورٹ میں پاکستان فٹ بال بنانے والا چند سال پہلے نمبر ایک پر تھا اب دوسرے نمبر پہ ہے۔ اب پہلے نمبر پہ چائنا ہے۔

کپڑے کی صنعت میں پاکستان آٹھویں نمبر پر جبکہ کپاس کی پیدا وار میں چوتھے نمبر پہ ہے۔ اسی طرح کاشتکاری میں پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے۔ گندم پیدا کرنے میں ہمارا پیارا وطن چھٹے نمبر پہ ہے۔ گنے کی کاشت میں پانچویں نمبر پہ اور پھلوں میں کنوں کی کاشت میں اول نمبر پہ اور کھجوروں کی کاشت میں پاکستان چوتھے نمبر پہ ہے۔ پاکستان کی کھجور اتنی اعلیٰ ہے کہ عرب بادشاہ یہاں سے بیج نہیں درختوں کے درخت اکھاڑ کر لے گئے ہیں اور کھجوروں کی کاشت میں اب باقاعدہ پاکستان کے مقابل پر آ گئے ہیں۔ دبئی میں کھجور اگانے کے لیے پاکستان سے مٹی درآمد کی گئی۔

خشک میوہ جات میں پاکستان بادام کی پیدا وارمیں ساتویں نمبر پہ اور پستوں میں دسویں یں نمبر پہ ہے۔ اسی طرح سبزیوں میں پیاز کی پیدا وار میں دوسرا بڑا ملک ہے اور انڈیا کو بھی برآمد کرتا ہے۔

قا رئین آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ برقی توانائی کا بحران دور کرنے کے لیے پاکستان نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ سرے سے پاکستان کو یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ مثلاً صرف شمسی توانائی سے پاسکتان بیس لاکھ میگا واٹس بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ اور خدا کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو نہایت مفید موسم عطا فرما رکھے ہیں۔ جن میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہوا کی ہے۔ قرآن پاک میں ہوا کا ذکر ہے جس میں معاشی منفعت ہے۔ پاکستان ہوائی چکی یعنی ونڈ مل سے ساڑھے تین لاکھ میگا واٹس بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ مکران کے ساحل اس کے لیے بہت زرخیز ہیں۔

پھر تیسرے نمبر پہ سب سے سستا ذریعہ یعنی ہائیڈن انرجی ہے۔ جس کو برو ئے کار لاتے ہوئے ایک لاکھ میگا و اٹس بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ جبکہ ضرورت صرف بیس ہزار میگا واٹس کی ہے۔ اس کے مطابق صارفین کو پچاس سے ساٹھ پیسے فی یونٹ بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔ قارئین یہ تو یہ وہ اعداد و شمار تھے جو ہم نے سنے اوور من وعن آ پ کی گوش گزار کردیے۔

مندرجہ بالا تفاصیل کی صداقت پہ کوئی شبہ نہیں کیونکہ یہ ایک نہایت محب وطن پاکستانی نے میڈیا پہ آ کر ببانگ دہل سب کو بتائے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک وقت تھا کہ نواب آف بہاولپور عربو ں کو زکوٰۃ بھیجتے تھے۔ اور یہ کہ جس قدر سنگ مر مر اور دوسرے وسائل پاکستان میں موجود ہیں اگر ان کو صحیح طور پہ استعمال کیا جائے تو پاکستان میں روزگار کے اتنے مواقع فراہم ہو سکتے ہیں کہ ہمیں باہر سے لوگوں کو ملازم رکھنا پڑ جائے۔ اور لوگ پاکستان آنے کے لیے ویزے اور راہیں تلاش کریں۔ اللہ کرے کہ ایسا ہماری زندگیوں میں ہی ہو سکے۔ آمین۔

یہ اعداد و شمار چند سال پہلے تک کے ہیں جب ابھی نئی حکومت نہیں آئی تھی۔ پچھلی حکومتوں ں کے دور میں اتنی خوشحالی میں بھی ان وسائل کی پاکستانیوں کو ہو ابھی نہیں لگنے دی گئی۔

پاکستان کی سٹیل مل کا جو حشر ہوا۔ جنگلات کو جس طرح تباہ کیا گیا وہ الگ ایک المناک داستان ہے۔ پچھلی سیاسی پارٹیاں جن کو کئی کئی بارپاکستان کے سیاہ و سفید سے فائدہ ا ٹھانے کا موقع ملا انہوں نے عوام کو کیا دیا؟ اور آج نئی حکومت سے کس منہ سے دو سال میں ہن برسانے کے مطالبے کر رہے ہیں؟

پاکستانی عوام کس کس طرح لوٹی گئی۔ اور مقروض کی گئی۔ دولت کی فرواوانی ہونے کے بباوجود بھی ہمارا ملک غریب ممالک کی صف میں کیوں کھڑا رہا؟ اور ہماری عوام سانس سانس، بوند بوند خوشحالی کے لیے کیوں ترستی ہے؟ اس کا جواب کون دے گا؟ آج تو چوری اور سینہ زور کا دور ہے۔ لیکن میڈیا کا یہ فائدہ تو ہوا ہے کہ کم از کم سب کچھ منظر عام پر آنے لگا ہے۔ عوام کو اپنے حکمرانوں کے ا صل چہرے نظرآ نے لگے ہیں۔

یہی وجہ ہے کی سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے سے گتھم گتھا رہتی ہیں۔ ان کے نفاق اور ار الحاق سب کے سب اسی اختیار کو حاصل کرنے سے مشروط ہیں۔ یہ لوگ ان وسائل تک پہنچنے کے لیے ے اپنی جان تک لڑا دیتے ہیں۔ تا کہ اس دولت سے جتنی لوٹ مار کر کے اپنی نسلوں کو منتقل کر سکتے ہوں کر لیں۔ ا سی وجہ سے مذہبی اور لسانی فسادات کروائے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنی ہی پڑی رہے؟ ورنہ ان فسادوں سے کن کو فائدہ ہوتا ہے آخر؟ مغربی ممالک میں علاقائی یا مذہبی فساد کیوں نہیں ہوتے؟

ا س لیے کہ وہاں کسی بھی صورت میں حکومتی خزانوں کو لوٹنے کی کوئی راہ نہیں نکلتی۔ قومی خزانے کو تر نوالے کی طرح کوئی نہیں کھا سکتا۔ قوانین سب کے لیے ایک سے ہیں۔ تیسریی دنیا میں مذہبی اور علاقائی دھاندلی اور لوٹ مار منظم طریقے سے کروائی جاتی ہے تا کہ ا سکی آڑ میں حکمرانوں کی لوٹ مار کو کوئی نہ دیکھے۔ جب کسی ملک میں اتنے وسائل ہوں تو اغیار بھی اس تاک میں رہتے ہیں کہ اس سے وہ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسی لیے غیر ملکی طاقتیں اس ملک کے گرد گھیرا تنگ رکھتی ہیں۔ ہارے پیارے پاکستان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کمی نہیں۔ اللہ کرے کہ کوئی ایسا حکمران آئے جو عوام کا حق عوام کو دے۔ اور پاکستان کو دلہن کی طرح سجا دے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply