پاکستانی نقشہ پر کشمیر ہمارا ہے!
پا کستانی قوم نے بڑے جوش و جذبے سے یوم استحصال کشمیر منا یا اور حکومت نے بھی بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے حقیقی نقشہ کی نقاب کشائی کردی، یہ نیا نقشہ پاکستان کی اصل ترجمانی کرتا ہے، جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر ’لداخ اور جموں پاکستان کا حصہ ہیں۔ اگرچہ اس نقشہ کو بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کو کیے گئے اقدامات سمیت دیگر متنازع علاقوں کے بارے میں برسوں سے جاری عیارانہ حربوں کے تناظر میں عالمی برادری کو درست حقائق سے غیرمبہم طور پر آگاہ کرنے کی ضرورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مگر کئی دیگر حوالوں سے بھی اس کی اہمیت مسلم ہے۔
مذکورہ نقشے کے لئے حکومتی اتحاد اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کے علاوہ کشمیری قیادت کو بھی اعتماد میں لیا گیا اور ان کی حمایت کے بعدہی وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے بیان میں واضح کیاکہ اسے پاکستان کے سرکاری نقشے کی حیثیت حاصل ہوگی اور پا کستان کا نیا نقشہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔
اس میں شک نہیں کہ پا کستان کا نیاسیاسی نقشہ نہیں، پاکستان کا حقیقی نقشہ ہے جوپاکستان کی اصل ترجمانی کرتا ہے۔ نئی دہلی کے گزشتہ سال 5 اگست کو کیے گئے اقدامات کے بعد ضروری ہو گیا تھا کہ اسلام آباد عالمی برادری کو نہ صرف تنازع جموں و کشمیر کے حقائق سے آگاہ کرے، بلکہ پاکستان سے الحاق کرنے والی ریاستوں مثلاً جونا گڑھ اور مناودر پر فوج کے ذریعے کیا گیا بھارتی قبضہ ختم کرانے کا مطالبہ بھی کرے۔ حکومت پاکستان کے جاری کردہ نئے سیاسی نقشے میں گلگت بلتستان اور سری نگر سمیت جن علاقوں کی سبز رنگ کے ذریعے نشاندہی کی گئی، ان کے بارے میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہ علاقہ متنازع ہے جس کی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا باقی ہے، چنانچہ غیر طے شدہ سرحدکی وضاحت کے ساتھ مشرقی سمت کی بین الاقوامی سرحدہماچل پردیش سے ملتی دکھائی گئی ہے۔
سرکریک جو 1914 کے حکومت سندھ اور ریاست ”کچھ“ کے معاہدے کے تحت پاکستان کا حصہ ہے، اس کے مشرقی کنارے تک سرحد دکھائی گئی ہے، جبکہ قبائلی علاقے، فاٹا کے مئی 2018 میں انضمام کے بعد صوبہ خیبر پختوا کا حصہ ہیں۔ اس نقشے میں تمام سرحدوں کی درست حیثیت پیش کرکے ایک اعتبار سے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے سامنے حقائق مسخ کرنیکی کوششوں کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس نئے نقشے کو دیکھ کر سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد عالمی قراردادوں، باہمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کے اعتبار سے نئی دہلی کے مقابلے میں اخلاقی طور پر بہت بلند مقام پر کھڑا ہے۔
اس کے برعکس بھارت نے 5 اگست کے اقدام کے بعد جو نقشہ جاری کیا تھا، اس میں جموں و لداخ سے لے کر گلگت بلتستان تک علاقے کو اپنا حصہ قراردیے کر اپنے آپ کو افغانستان کا ہمسایہ ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی تھی، اس سازشی کاؤش کو پاکستان نے اپنے نئے نقشہ کے ذریعے ناکام بنا دیاہے، لیکن مقبوضہ کشمیر کی آزادی محض کاغذی نقشے سے حاصل ہو نے والی نہیں، ہمیں اس سے مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اپنی ایک سالہ کارگزاری کا جائزہ لینے کے ساتھ سفارتی ’اقتصادی‘ معاشی اور دفاعی سطح پر ان کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے کہ جن کے باعث کشمیری عوام آزادی کی منزل کے مزید قریب ہو سکے۔
آزادی کی منزل اتنی آسان نہیں کہ جو آدھے گھنٹے کی خاموشی، ترانوں کے اجراء یا سڑکوں کے نام رکھنے کے فیصلے اور کاغذی نقشہ سے حاصل کی جاسکے، اس کے لیے سفارتی کوشش کے ساتھ ساتھ اپنے زور بازوکو بھی آزمانا پڑے گا، کیو نکہ اس سر کاری نقشے کے مطابق مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے تو اپنے ملک میں دس لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے باہر نکالنا ہو گا۔ وزیر اعظم پاک فوج اور پوری پارلیمنٹ کی ذمے داری ہے کہ اس غیر ملکی فوج کو اپنے ملک سے باہر نکالیں، کیا ہمارے حکمرانوں میں اتنی جرات ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لیے کاغذی کارروائیوں سے آگے بڑھ کر کوئی عملی قدم اٹھائیں گے۔
در حقیقت پا کستانی حکمران جنگ کی بجائے بات چیت کے ذریعے اپنے تمام مسائل حل کر نا چاہتے ہیں، جبکہ بھارت جارحیت کی ہٹ دھرمی پر گا مزن ہے۔ پاکستانی حکمران ترانے، نقشے بناتے اور بڑھکیں مارتے رہیں، مودی نے شہید بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھ دی ہے۔ بھارت میں حکمران بی جے پی ہو یا کانگریس یامختلف جماعتوں کا اتحاد، کشمیر پر ان کی پالیسی ایک ہی ہوتی ہے کوئی دوسری جماعت اقتدار میں آ کر کشمیر کے بارے میں کوئی اور پالیسی اختیار نہیں کرے گی، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ پاکستانی حکمران کشمیر پر پالیسی بدلتے رہتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ کرنے والوں کو دنیا میں کوئی جگہ نہیں ملتی ہے۔
کشمیر کی آزادی کا فیصلہ نقشہ نہیں، جنگ کر سکتی ہے یا بین الاقوامی برادری کا وہ دباؤ کہ جس کے تحت بھارت کومقبوضہ کشمیر آزاد کرنا پڑے گا، اگرپاکستان جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ صورتحال سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور اپنی اندرونی کمزوریوں کے احساس جرم میں مبتلا رہتا ہے تو ہم جتنے مرضی نقشے جاری کرکے خوش ہوتے رہیں، بھارت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پا کستانی نقشہ پر کشمیر ہمارا ہے، دکھادینا کافی نہیں، اسے حقیقت میں بدلنے کے لیے موثر حکمت عملی واضح کر نا بھی ضروری ہے، اگر حکومت واقعی آزادی ٔکشمیر کے سلسلے میں سنجیدہ ہے تو پھر عملی قدم اٹھائے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوگا، پا کستان کو مصالحت سے ایک قدم آگے پیش قدمی کر نا ہو گی، جنگ سے فرار ویسے بھی ممکن نہیں رہا ہے، کیو نکہ چین اور امریکا کی کشمکش پاکستان کو کسی وقت بھی جنگ میں جھونکتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، اس جنگ کا خاتمہ بھارت کی بربادی اور کشمیر کی آزادی پر ہی ہو گا۔


