دانش حاضرہ او ر داستان سیف الملوک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرہ ارض پر پنجاب ایک ایسا منفرد خطہ ہے جہاں عظیم صوفی شعراء پیدا ہوئے، جنہوں نے شاعری کے ذریعے انسان کو محبت اور بھای چارے جیسا آفاقی پیغام دیا۔ اسی طرح پنجابی زبان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کو گزشتہ 900 سالوں کے دوران وقفے وقفے سے پنجابی کے عظیم شعراء عطا ہوئے۔ یہ لوگ اگرچہ ہماری تاریخ کے مختلف ادوار میں نمو دار ہوئے مگر ان کا پیغام یکساں تھا: عالم گیر امن، اخوت اور محبت۔ ان صوفی شعراء نے مبلغ بننے کی بجائے شاعری اور موسیقی جیسی صنف ہائے لطیف کے ذریعے، برداشت، رواداری اور حیات بخش طرز زندگی اپنانے کا پیغام زبان زد عام کیا۔ یہ کہنا بھی مبالغہ نہ ہوگا کہ سر زمین پنجاب ایک ایک عظیم صوفیانہ ورثہ رکھتی ہے۔

پنجاب میں جو عظیم صوفی شعراء پیدا ہوئے ان میں بابا فرید گنج شکر، بابا گرو نانک، شاہ حسین لاھوری، سلطان باھو، بلھے شاہ، وارث شاہ، ہاشم شاہ، سچل سر مست، خواجہ غلام فرید مٹھن کوٹی، شاہ مراد، پیر مہر علی شاہ اور میاں محمد بخش صرف چند نام ہیں۔

ان تمام ہستیوں کا اپنا اپنا مقام ہے مگر اس مضمون میں میاں محمد بخش کی کتاب سیف الملوک پر بات کرنے کی جسارت کی جائے گی۔ میاں محمد صاحب کی شاعری میں امن، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ ساتھ روز مرہ زندگی کو سلیقے اور دانشمندی سے گزارنے کے عملی کلیے ملتے ہیں۔ جو آج کے دور میں بھی اسی طرح مفید اور کار آمد ہیں۔

پنجاب اور کشمیر کے لوگ میاں محمد صاحب کو بہت احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کو کشمیر کا ”رومی“ کہنے میں حق بجانب ہیں۔ لوگ ان کی شاعری کو آج بھی انفرادی اور اجتماعی سطح پر گا تے اور سنتے ہیں۔

میاں محمد بخش کی شاعری زیادہ تر پنجابی میں ہے، مگر اس میں مشرقی پنجابی (چڑھدی) ، مغربی پنجابی (لہندی) ، شمالی پنجابی (پربی) اور جنوبی پنجابی (پچھمی ) کے لہجوں کا شیریں امتزاج ملتا ہے جو ان کی شاعری کو منفرد اور خوبصورت بنا دیتا ہے اس کی ایک افادیت یہ بھی ہے کہ اس طرح پہاڑی پنجاب اور میدانی پنجاب کے لوگ ان کی شاعری کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

مثلاًصیغۂ مستقبل کے لئے وہ ”جاواں گا“ کی بجائے ”جاساں“ استعمال کرتے ہیں۔ اور ”اس سے اچھے“ کہنے کے لئے ”اس توں چنگے“ کی بجائے ”اس تھیں چنگے ’استعمال کرتے ہیں۔ اس سے ان کے کلام میں ان کی ماں بولی،‘ پہاڑی ’کی چاشنی آجاتی ہے۔

میاں محمد بخش صاحب اٹھارہ کتب کے مصنف تھے۔ مگر ان کی وجۂ شہرت ”سفر العشق“ ( ’محبت کا سفر)‘ نامی کتاب ہے۔ جو ”سیف الملوک ’‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ 9249 اشعار پر مشتمل سیف الملوک عشق مجازی کی ایک طویل داستان ہے جس کے اندر عشق حقیقی کی واردات کے ساتھ ساتھ زندگی کے روز مرہ پہلوؤں سے متعلق دانشمندانہ رویہ اپنانے کی رہنمائی بھی ملتی ہے۔ یہ جہت باقی پنجابی شعراء کے ہاں ناپید نہیں تو قلیل ضرور ہے۔

داستان سیف الملوک کا مرکزی کردار شہزادہ ”سیف الملوک ’ہے جو ایک خواب میں موجودہ جھیل سیف الملوک پر دیکھی گئی ایک پری جمال خاتون“ بدی الجمال ”کی تلاش میں کوہ قاف ( روس۔ جارجیا) جیسے دور دراز اور دشوار گزار علاقے کا سفر کرتا ہے۔ اس سفر کی داستان میں میاں محمد صاحب کہانی کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب زندگی کے گر بتاتے بھی نظر آتے ہیں۔ جس کی چند جھلکیاں درج ذیل ہیں :

ایک بامقصد زندگی گزارنے کے لئے کچھ مستقل اقدار ہیں جو انسان نے اس کرٔہ ارض پر زندہ اور سلامت رہنے کے لئے فطرت کے ساتھ طویل اور صبر آزما نبر آزمائی سے سیکھی ہیں۔ ان میں سے ایک قد ر ’جہد مسلسل‘ ہے۔ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ محنت کرنے کو اپنا شعار بنائے۔ محنت اور جدو جہد کا ثمر ضرور ملتا ہے۔ اور بعض اوقات ایسا نہیں بھی ہو پاتا، مگر پھر بھی انسان کو نتیجے کی پرواہ کیے بغیراپنا کام لگن، ایمانداری اور جاں فشانی سے جاری رکھنا چاہیے :

مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے
خالق د ا کم پھل پھل لانا لاوے یا نہ لاوے

انسان کو اپنے دوست بنانے میں محتاط ہونا چاہیے۔ آپ کی نشست و برخاست جن لوگوں میں ہوتی ہے ان کی عادات و اطوار کا ’آپ کی شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ نیک فطرت لوگوں کے ساتھ تعلق سے آپ کی شخصیت کی نشو و نما ہوتی ہے جب کہ بد فطرت لوگوں کے ساتھ رہنے سے انسان کی روح تار تار ہو جاتی ہے۔ اس بارے میاں محمد صاحب کے متعدد شعر ہیں۔ ایک شعر جو زبان زد عام ہے :

نیچاں دی اشنائی کو لوں فیض کسے نہیں پایا
کیکر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا

بہترین ابلاغ کے لئے ضروری ہے کہ جب بھی آپ کوئی بات کریں تو مخاطب کے علم اور ذہنی سطح کو مد نظر رکھ کر کریں۔ بھینس کے آگے بین نہ بجائیں۔ سطحی علم رکھنے والے افرا د آپ کی بات کی نا قدری کر دیں گے۔ اور آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ نے بڑے شوق سے میٹھی کھیر پکا کر گلی میں کسی کتے کو کھلا دی ہے :

خاصاں دی گل عاماں اگے نہیں مناسب کرنی
مٹھی کھیر پکا محمد کتیاں اگے دھرنی

اکثر صوفیاء، فلسفیوں اور دانشوروں نے کسی آدرش، خواب یا مقصد کو حاصل کرنے کی لگن کو عشق (Passion) کہا ہے۔ ہم حقیقی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ اپنے مقصود کے ساتھ دیانتداری، لگن اور جہد مسلسل کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے میاں محمد صاحب کا ایک مشہور شعر ہے :

جس دل اندر عشق نہیں وسیا کتے اس تھیں چنگے
مالک دے گھر راکھی کر دے صابر پکھے ننگے

انسان کو چاہیے کہ اپنے من میں محبت کا دیا روشن کرنے کی تمنا اور کوشش کرے۔ اور محبت، اخلاص اور پیار کا دیا قبر کے اندر جانے تک من میں روشن رہنا چاہیے :

بال چراغ عشق د ا میرا روشن کر دے سینہ
دل دے دیوے دی رشنائی جاوے وچ زمیناں

دوستی اپنے جیسے ہم خیال و ہم پلہ لوگوں سے کرنی اچھی ہے۔ یہ لوگ مشکل میں ساتھ نہیں چھوڑتے اور آپ کا غم ضرور بانٹتے ہیں۔ جبکہ اہل ثروت و اقتدار سے دوستی اکثراوقات مہنگی پڑ تی ہے۔ یہ بات افراد پر بھی صادق آتی ہے اورشاید اقوام پر بھی:

ا چی جائی نیوں لگایا بنڑی مصیبت بھاری
یاراں باجھ محمد بخشا کون کرے غم خواری

غربت تمام برائیوں کی جڑ ہے، انسان کو اپنی محنت سے غربت دور کرنی چاہیے تا کہ جملہ برائیوں سے محفوظ رہ سکے :

روگاں وچ روگ انوکھا جس د ا ناں اے غریبی
غربت دے وچ چھڈ جاندے نیں رشتے دار قریبی

وقت انسان کے پاس ایک نہایت قیمتی متاع ہے۔ ہر کام وقت پر ہی کر لینا اچھا ہے۔ جو مختصر سی زندگی ہمیں میسر ہے۔ اس میں صلاحیت بخش کام کر کے اپنا دامن خیر خواہی سے بھر لینا چاہیے۔ کیونکہ گیا وقت پھر واپس نہیں آتا۔ وقت گزر جائے تو پیچھے ڈر خوف اور پچھتاوے ہی رہ جاتے ہیں :

لوئی لوئی کڑئیے بھر لے بھانڈا جے تدھ بھانڈہ بھرنا
دیگر پئی دن ہویا محمد تے گھر جاندی نے ڈرنا
ہجر اور وصال جیسی لطیف کیفیات کو میاں محمد صاحب بڑے دل سوز انداز میں بیان فرماتے ہیں۔
وہ ہجر کی کسک کو اس طرح کرتے ہیں :
ٹر گئے یار محبتاں والے، لے گئے نال ای ہاسے
دل نیئں لگدا یار محمد جائیے کہڑے پاسے
اور وصال کی خوشی بھی قابل ذکر ہے :
باغ بہاراں تے گلزاراں، بن یاراں کس کاری
یار ملن دکھ جانڑ ہزاراں، شکر کراں لکھ واری
میاں محمد صاحب دوست کو جدا کرنے کی کیفیت اس طرح بیان کرتے نظر آتے ہیں :
جا او یار حوالے رب دے میلے چار دناں دے
اس دن عید مبارک ہوسی جس دن فیر ملاں گے

میاں محمد بخش 1830 ء میں میرپور آزاد کشمیر کے نزدیک کھڑی نامی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجدا دپنجاب کے ضلع گجرات سے ہجرت کر کے یہاں آن بسے تھے۔ آپ نے 1907 ء میں وفات پائی اور کھڑی میں ہی اپنے روحانی استاد و مرشد پیر شاہ غازی کے پہلو میں دفن ہیں۔

ایک شعر میں اپنے مقام کا پتہ اس طرح دیتے ہیں :
جہلم گھاٹوں پربت پاسے، میرپورے تھیں دکھن
’کھڑی‘ ملک وچ لوڑن جیڑے طلب بندے دی رکھن

(دریائے جہلم سے شمال اور میرپور کے جنوب میں ایک کھڑی نامی قصبہ ہے۔ مجھ سے ملنے کے خواہش مند وہاں مجھے تلاش کر سکتے ہیں )

میاں محمد بخش ایک صوفی درویش تھے، عم بھر شادی نہیں کی اور اکثر کشمیر کے بیابان جنگلوں میں سفر کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق انھوں نے سیف الملوک کا اکثر حصہ ’پنجنی‘ کے مقام پر تشریف فرما ہو کر تحریر کیا۔ یہ جگہ میر پور سے شمال میں، پچیس تیس میل دور، سماہنی وادٔی کی مغربی پہاڑی پر ایک الگ تھلگ اونچا مقام ہے جہاں سے شمال کی طرف کی وادی بہت حسین منظر پیش کرتی ہے۔ ان کی بیٹھک کو محفوظ کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ کبھی وہاں جایئں تو میاں صاحب کی بیٹھک کے دروازے پر شعر لکھا دیکھیں گے ::

قبر جے میری ’پنجنی‘ ہوندی خلقت گلاں کردی
ڈاھڈے دے ہتھ ڈور محمد جند نمانی ڈردی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply