کچھ باتیں خواب نگر کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے اور آپ کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال نے ملک بنانے کا خواب دیکھا تھا، ایک ایسا ملک بنانے کا خواب، جہاں کچھ لوگ خواب دیکھیں اور کچھ لوگ خواب دکھائیں۔ پاکستان بننے کے پہلے دن سے لے کر آج تک خواب دیکھنے کا سلسلہ انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ جاری و ساری ہیں۔ تاریخ میں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، گزشتہ ایک دو سال کے خواب ہی دیکھ لیجیے تو آپ کو خوابوں کی نوعیت کا اندازہ لگ جائے گا۔

مولانا طارق جمیل صاحب کے خواب کو دیکھ لیجیے، جس میں وہ قائد اعظم کے ساتھ اپنے گاؤں میں اسلامو کے تانگے میں محو سفر ہیں، اسلامو گالیاں دے رہا ہے کہ ”پاکستان بنوایا اور ہمیں لٹوایا“ ۔ جناح صاحب جواب شکوہ میں کہتا ہے کہ میں نے پاکستان اپنے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کے لئے بنایا تھا اور مجھے قبر میں ایصال ثواب مل رہا ہے۔ اوریا مقبول جان نے تو ایک دوسرے شخص کے خواب کو یوں فصاحت و بلاغت سے بیان فرمایا ہے کہ گویا وہ بھی خواب دیکھتے وقت اس شخص کے ہمراہ ہی تھے۔

موصوف کے بقول حضور اقدس (ص) کی محفل لگی ہوئی ہے اور حضرت عمر (رض) جنرل باجوہ کو لے کر حاضر ہو جاتے ہیں، حضور (ص) جنرل باجوہ کو دائیں ہاتھ میں کچھ (سالاری) عطا کر دیتے ہیں۔ خاتون اول بشریٰ بی بی کے بقول ان کے خواب میں حضور (ص) آئے اور اسے اپنے شوہر سے طلاق لے کر عمران خان سے شادی کا حکم دیا۔ (اب یہ الگ بات ہے کہ طلاق نبی کریم (ص) کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے)۔ ایسا ہی ایک خواب گزشتہ ہفتے پشاور میں کمرہ عدالت کے اندر ایک پندرہ سالہ نوجوان نے دیکھا، اس کے بقول حضور (ص) نے خواب میں اسے پستول دے کر گساخی کے ایک ملزم کو قتل کرنے حکم دیا تھا۔

اوپر بیان کیے گئے خواب ان ہزاروں خوابوں میں سے چند ہیں جو دیکھے گئے ہیں یا کم از کم دیکھنے کے دعویدار مین سٹریم میڈیا پر موجود ہیں۔ یاد رہے کہ میں یہاں پر یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہا کہ مذکورہ خواب جھوٹے تھے یا واقعی دیکھے گئے تھے۔ میں اس لیے یہ ثابت نہیں کرنا چاہتا کیونکہ جانتے تو آپ ہو گے کہ پاکستان کو صرف مسلمانوں کا ملک بنانے کے لئے اب تک کیا کچھ نہیں کیا گیا ہے؟ جناح صاحب جنہوں نے تقسیم کے فوراً بعد فرمایا تھا کہ ”آپ پاکستان میں آزاد ہیں، اپنے مندروں، مسجدوں، گرجوں اور کلیساؤں میں جانے کے لئے، آپ کا تعلق چاہے کسی بھی مذہب سے ہو، آپ پاکستان میں آزاد ہو“ ۔

اب اگر کوئی دعویٰ کرے کہ جناح صاح نے خواب میں آکر کہہ دیا ہے کہ ”میں نے پاکستان مسلمانوں کے لئے بنایا تھا“ چاہے دعویٰ کرنے والا طارق جمیل ہی کیوں نہ ہو، تو کوئی شعور رکھنے والا بندہ اس پر یقین کرے گا؟ آپ یہ بھی جانتے ہو گے کہ خواب میں جنرل باجوہ کو ایک انتہائی بابرکت محفل میں دیکھنے کی گواہی زید حامد یا اوریا مقبول جان نہیں دیں گے تو کون دیں گا؟ بشریٰ بی بی کے خواب کی حقیقت کو جانچنا کج بحثی ہی ہے، کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اسلام مکمل ہو چکا ہے اور عدت کے اصول مقرر ہیں۔

خواب نگر میں کچھ ایسے خواب بھی پائے جاتے ہیں جو دیکھے نہیں جاتے بلکہ دکھائے جاتے ہیں، جیسے غزوہ ہند کا خواب، لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کا خواب، پوری دنیا کا ہمارے خلاف سازشیں کرنے کا خواب، اسلامی قلعے کا خواب، جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی کا خواب، ایشیئن ٹائیگر ہونے کا خواب اور ایسے کئی خواب جس کا زمینی حقائق سے دور دور تک کوئی ربط نہ ہو اور جو صرف بدہضمی کے باعث دکھائی دیتے ہو۔

میں خواب دیکھنے پر پابندی کا بالکل قائل نہیں ہوں، لیکن اگر کوئی خواب کو اپنے کسی فعل کے جائز کرانے کے لئے بطور ہتھیار استعمال میں لاتا ہے تو یہ غلط ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ خواب کی شرعی حثیت اور سائنسی حقیقت ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔ لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں کچھ خاص مقاصد کے لئے چند موضوعات ٹائم بم کی طرح نہایت نازک بنا دیے گئے ہیں، وہاں پر ایسے خواب سنانا چہ معنی دارد؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی سطح پر فکر و شعور کو عام کر دیا جائے۔ یہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم ایک تاریک تسلط کا زور توڑ سکتے ہیں۔ تاریخ دلیل دینے کے لئے موجود ہے کہ جب یورپ کے ایک بڑے حصے نے پندرہویں صدی میں مخصوص خول کے دائروں سے باہر سوچنا شروع کر دیا تو وہاں کی اجتماعی زندگیوں میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں اور تعمیری فکر کہاں تک ان کے لئے مشعل راہ بن کر ساتھ چلتی رہی۔ یہ امر عصر حاضر کی اہم ترین ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں خواب خواب ہی رہیں، ہتھیار نہ بن جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply