مخلص نظریاتی مجاہدین اور مبینہ فٹ بال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض افراد کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ہر ایک شخص کا کوئی مقصد حیات ہوتا ہے۔ پہلے تو ایک طویل عرصے وہ تگ و دو میں رہتے ہیں کہ مقصد حیات تلاش کیا جائے۔ انجام کار ان میں سے بہت سے یہ سوچ کر مستقل ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں کہ ”زندگی کیا ہے، غم کا دریا ہے“۔ جو گنے چنے بدنصیب اپنے تئیں اپنا مقصد حیات پا لیتے ہیں، وہ پھر اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپنی اور دوسروں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ان کے سامنے ایک عظیم کاز یا نظریہ آ جاتا ہے جسے باقی دنیا پر لاگو کرنا ہی ہر مرض کا امرت دھارا علاج دکھائی دینے لگتا ہے۔

کرکٹ میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے کہ بلے باز اتنی دیر سے کریز پر کھڑا ہے کہ اسے بال بھی فٹ بال دکھائی دے رہی ہے۔ ان نظریاتی مجاہدین کا بھی اسی بلے باز والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ انہیں اپنے کاز سے مختلف جو بھی چیز لگے وہ انہیں فٹ بال دکھائی دینے لگتی ہے۔ انجام کار اس پر وہ ایسی زور کی ٹھوکر رسید کرتے ہیں کہ اکثر اپنا پیر تڑوا بیٹھتے ہیں کیونکہ وہ مبینہ فٹ بال بیشتر اوقات کوئی بے جان اور بے فکر سی چٹان ہوتی ہے جو ٹھوکروں سے بے نیاز ہو کر اپنے مقام سے ہلنے سے انکاری ہوتی ہے۔

ہم نے تو اپنی مختصر سی زندگی میں یہی دیکھا ہے کہ جب بندہ کسی کاز یا نظریے کو سر پر سوار کر لے اور یہ سمجھنے لگے کہ بھری دنیا میں اس کاز کے تحفظ کی ذمہ داری تن تنہا اسی کے نازک کاندھوں پر آن پڑی ہے تو دنیا کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا مگر بندے کا اپنا بلڈ پریشر خراب ہو جاتا ہے اور طبیعت جھگڑے پر مائل رہنے لگتی ہے۔ یعنی بندہ ہر وقت غم و غصے کی تصویر بنا رہتا ہے۔ ہر وقت اس کے ذہن میں اس قسم کی سوچیں گھومتی رہتی ہیں کہ ”ہائے اللہ اس ناہنجار نے یہ کیا کر دیا، اف خدایا میرا تو خون کھولنے لگا ہے، اب میں ہی کچھ کروں تو کروں ورنہ قیامت آ جائے گی“۔

جبکہ مشاہدہ ہے کہ بڑے کاز یا نظریے اس چھوٹے سے بندے کی مدد یا بے نیازی کے محتاج نہیں ہوتے اور وہیں رہتے ہیں جہاں اس بندے کی کوششوں کے بغیر بھی تھے لیکن بندہ خود خرچ ہو جاتا ہے۔ یعنی وہی مبینہ فٹ بال اور چٹان والی مثال صادق آتی ہے۔ بندہ چٹان کو فٹ بال سمجھتے سمجھتے خود فٹ بال بن جاتا ہے اور کبھی کہیں ٹھوکر کھاتا ہے اور کبھی کہیں، سکون کہیں نہیں پاتا اور طرح طرح کے امراض ظاہرہ و پوشیدہ اس کے تن نازک میں گھر کر لیتے ہیں۔

نہایت مخلص قسم کے شدید نظریاتی بندوں کے لیے ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ شفیق الرحمان کی ”مزید حماقتیں“ کھولیں اور اس میں ”جہاز باد سندھی“ والے مضمون کو اپنی آپ بیتی سمجھ کر مستفید ہوں اور بقیہ زندگی جہاز بن کر ہنسی خوشی گزاریں۔ خدائے بزرگ و برتر کرم کرے گا۔

جسے ہماری یا جہاز باد سندھی کی بات پر یقین نہیں اس کے لیے روایتی طریقہ علاج بھی موجود ہے۔ زمانہ قدیم میں ایسی علتوں کا علاج صوفی حضرات تصوف اور بھنگ کے اوور ڈوز ذریعے کیا کرتے تھے۔ غالباً تصوف سے خون ٹھنڈا ہوتا ہے اور دماغ سے واپس پیٹ اور دیگر اعضائے رئیسہ کی طرف اتر آتا ہے اور بندے کی طبیعت میں دوسروں کی طرف سے بے فکری پیدا ہوتی ہے، جبکہ بھنگ سے وہ بے نیازی اور خوشی پیدا ہوتی ہے جب بندے کا ہم راہی پانی یا نظریاتی گمراہی کے کسی کنویں میں بھی گر جائے تو وہ اسے دعا دے کر اپنا رستہ لیتا ہے کہ ”جہاں رہو خوش رہو“۔

چلتے چلتے جہاز باد سندھی کلاں کی جہاز باد سندھی خورد کو کی گئی آخری نصیحت بھی پڑھ لیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:۔

”خاکسار منزلیں مارتا کہیں کا کہیں جا نکلا۔ آخر کار اس جگہ پہنچ گیا جہاں تو مجھے آج دیکھ رہا ہے۔ اب میں بالکل بے نیاز ہوں۔ کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ مطلب ہو تو خیر ورنہ کسی کی مدد نہیں کرتا۔ کسی کو خط نہیں لکھتا۔ لوگوں سے تب ہی ملتا ہوں اگر کوئی کام ہو۔ بلا غرض کسی کو مدعو نہیں کرتا۔ نا زیادہ سوچتا ہوں نا محنت کرتا ہوں۔ بھلا دنیا کے جھمیلے آج تک کسی سے ختم ہوئے ہیں جو میں اور تو انہیں ختم کر سکیں گے؟“

”ہر قسم کی تقریر و تحریر سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ پڑھنا لکھنا، ملنا جلنا یہ سب بیکار باتیں ہیں۔ شہزادیوں کی متواتر بیوفائی سے شادی میں بھی دلچسپی نہیں رہی۔ بچوں کی سماجی حیثیت پالتو جانوروں پرندوں کی سی ہے۔ چند سال کھیلو پھر بڑے ہو جاتے ہیں اور ماں باپ کو بے وقوف سمجھنے لگتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ جس روز میں اس جہان سے رخصت ہوا وعدہ کرتا ہوں کہ بچوں کو خاندان کا نام روشن کرتے دیکھنے دوبارہ ہرگز نہیں آؤں گا۔ اب میں نی ہلسٹ ہوں۔ خبردار جو اس لفظ کے معنی پوچھے ہوں۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1312 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply