پاکستان اور سعودی عرب: مسئلہ کشمیر یا قرضوں کی واپسی کا مطالبہ؟

اعظم خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کی وبا نے جہاں عالمی صحت کے نظام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں وہیں اس وائرس سے بیشتر ممالک کی معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے اور اب خوشحال ممالک بھی اپنے اخراجات کے بارے میں پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال تیل پر انحصار کرنے والے عرب ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اور سعودی عرب کی اقتصادی حالت ان دنوں میں سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں زیر بحث رہی ہے۔ بات شروع ہوئی کشمیر کے بارے میں پاکستان کے وزیر خارجہ کے ایک بیان سے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں کہا کہ ’میں آج اسی دوست کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کا مسلمان اور پاکستانی جو آپ کی سالمیت اور خود مختاری کے لیے لڑ مرنے کے لیے تیار ہیں آج وہ آپ سے تقاضا کر رہے ہیں کہ آپ وہ قائدانہ صلاحیت اور کردار ادا کریں جس کی امت مسلمہ آپ سے توقع کر رہی ہے۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی آنکھ مچولی اور بچ بچاؤ کی پالیسی نہ کھیلے۔ انھوں نے کہا کہ کانفرنس کی وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا جائے اگر یہ نہیں بلایا جاتا تو میں خود وزیر اعظم سے کہوں گا کہ پاکستان ایسے ممالک کا اجلاس خود بلائے جو کشمیر پر پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق یہ اجلاس او آئی سی کے پلیٹ فارم یا اس سے ہٹ کر بلایا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک جملے میں لفظ ’ورنہ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میرا نکتہ نظر ہے، اگر نا کیا تو میں عمران خان صاحب سے کہوں گا کہ سفیرِ کشمیر اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا، ہمیں آگے بڑھنا ہو گا ود اور ود آؤٹ۔

جب میزبان نے سوال پوچھا کہ پاکستان ’وِد اور ودآؤٹ` سعودی عرب کے اس کانفرنس میں شریک ہو گا تو شاہ محمود قریشی نے ایک توقف سے جواب دیا کہ ’ود اور ود آؤٹ‘۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام کو او آئی سی سے بہت زیادہ توقعات اور امیدیں وابستہ ہیں جس کی وجہ تنظیم اور اس کے رکن ممالک سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان پاکستان کے عوام کے جذبات اور خواہشات کی ترجمانی کرتا ہے۔

ٹی وی پر وزیر خارجہ کے اس بیان کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنی پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔

سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ شاہ محمود قریشی نے جو بتایا وہ سو فیصد درست ہے، کشمیر کے مسئلے پر عرب دوستوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا ہے۔

پاکستان کے اس غصے کو سمجھنے کے لیے دیگر امور پر بحث سے قبل سعودی عرب کی کچھ معاشی مشکلات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

ڈالر

Getty Images

سعودی معاشی مشکلات: پاکستان سے قرض واپسی کا مطالبہ

وزارتِ خزانہ کے افسران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک خبر کی تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو دیے گئے قرض میں سے ایک ارب ڈالر کی واپسی کا تقاضا کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے چین سے قرض لے کر اس رقم کو سعودی عرب کے حوالے کیا۔

سعودی عرب نے کچھ عرصہ قبل تیل کی آمدن پر انحصار کم کرنے کے لیے سیاحت کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا تھا اور کئی ممالک کے لیے ویزے کی شرائط میں بھی نرمی پیدا کی مگر پھر کورونا وبا کی وجہ سے سیاحت کا باب بھی بند ہو گیا۔

کورونا وائرس سے قبل سعودی عرب ٹیکس فری ملک کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن اب وہاں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو پانچ فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ماہانہ رہائشی سبسڈی بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد حکومتی محصولات میں 22 فیصد تک کی کمی کے بعد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں اس وقت 26 لاکھ پاکستانی ریاض، دمام، طائف اور جدہ اور دیگر علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جو وہاں مختلف پیشوں سے وابستہ ہیں۔ لیکن ان میں زیادہ تر تعداد مزدور پیشہ افراد کی ہے۔

کشمیر پر ساتھ دو: سعودی عرب سے متعلق بیان پر ردِعمل

شاہ محمود قریشی کے بیان پر ماہرین کی آرا منقسم نظر آتی ہیں۔ ماہرین کی رائے اور شاہ محمود قریشی کے بیان پر ردعمل جاننے سے پہلے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں نئے دور پر ایک نظر ضروری ہے۔

آپ کو یاد ہو گا جب تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی تھی تو وہ سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستان کی معاشی مشکلات میں کمی لانے کے لیے سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے اور امدادی پیکیج کی منظوری بھی دی۔

اس مقصد کے حصول کے لیے وزیر اعظم عمران خان کو خود سعودی عرب کے دورے کرنے پڑے۔

اس کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آئے۔

پھر وقت کا پہیہ گھوما اور چیزیں بدل گئیں۔

سعودی عرب اور ایران میں صلح کراتے کراتے اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کو مسئلہ کشمیر پر واضح پوزیشن لینے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

سابق سیکریٹری خارجہ شمشماد احمد خان اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جو کشمیر پر ہمارے ساتھ نہیں ہے، وہ ہمارے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا۔ عرب ممالک صرف تیل کی آمدن کی وجہ سے غرور میں ہیں لیکن انھیں پاکستان کی ان قربانیوں کا کوئی ادراک نہیں ہے کہ ہم نے کیسے ان کی وجہ سے اسرائیل اور ایران سے تعلقات بگاڑے ہیں۔‘

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے وزیرخارجہ کے سعودی عرب کے بارے میں بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دے دیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کا مشکل کی ہر گھڑی میں ساتھ دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ حکومت کے ربط و تعلق اور انداز بیان پر قوم کو تشویش ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب سے معذرت کی جائے اور معاملات کو دانائی اور احسن انداز سے ڈیل کیا جائے۔

بین الاقوامی تعلقات میں جو پہلا سبق پڑھایا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ قومی مفادات اہم ہوتے ہیں دیگر عوامل کا کردار ثانوی ہوتا ہے جبکہ ان تعلقات میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔

تاہم سعودی عرب ان دو یا تین ممالک میں شامل ہے جنھیں اس اصول سے استثنیٰ حاصل رہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں آغاز ہی سے سعودی عرب کو مستقل دوست ملک کی حیثیت حاصل رہی ہے۔

امریکی تجزیہ نگار مائیکل کگلمین نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی پیش رفت ہے، پاکستان کے وزیر خارجہ عوامی سطح پر اب اپنے سب سے بڑے اتحادی سعودی عرب پر تنقید کر رہے ہیں جو کہ غیر معمولی ہے۔

ان کے مطابق اس صورتحال کو خطے میں بہت اہم امور کے پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ٹوئٹر پر صارفین یہ سوال بھی پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ کیا پاکستان کشمیر کے مسئلے پر ساتھ دینے سے متعلق سعودی عرب کو دھمکی دے رہا ہے۔

اس سوال کا پس منظر اس وجہ سے اہم ہے کہ کبھی کسی نے اس پہلو پر نہیں سوچا تھا کہ ایک دوسرے کے تحفظ کی قسمیں کھانے والے ان دو ممالک کے تعلقات ایک ایسے دو راہے پر چلے جائیں گے جہاں یہ دیگر ممالک کو قریب لانے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ یا جدائی کی تمنا کر رہے ہوں گے۔

ڈاکٹر نجیب خاقان تحریک انصاف کے دور حکومت میں وزارت خزانہ کے ایڈوائزر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے خیال میں اب پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہو گا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک نے مشکل کی گھڑی میں پاکستان کی بہت مدد کی مگر اس کے باوجود پاکستان کو آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔

ڈاکٹر نجیب کے مطابق اپنی معیشت کی بہتری کے لیے ہمیں نیشنل ایکشن پر انحصار کرنا ہو گا یعنی معاشی ضروریات کم کرتے ہوئے بیرونی امداد پر انحصار کم سے کم کرنا ہو گا۔

ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی بیلنس شیٹ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

سیکریٹری خزانہ نوید بلوچ نے اس صورتحال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

پاکستان کی معاشی پالیسی پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر اشفاق حسن کے خیال میں جیو سٹریٹیجک تبدیلیوں کی وجہ سے اب مختلف ممالک اپنی پالیسیوں کا تعین کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی کھل کر حمایت نہیں کر رہا کیونکہ ان کے انڈیا کے ساتھ تجارتی مفادات ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان نے ’بغیر کسی درخواست‘ کے سعودی عرب کو پیسے واپس کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ اب وہ بدلتے حالات میں سعودی عرب سے معاشی سے زیادہ سفارتی تعاون کا خواہاں ہے۔

شمشاد احمد خان کے مطابق او آئی سی، اسلامی ممالک کا اتحاد، ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے اور اس کا دنیا میں کوئی کردار نہیں ہے۔ ایک ملک (سعودی عرب) 57 ممالک کو بھیڑوں کی طرح آگے چلا رہا ہے۔ ان کے مطابق عرب ملک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔

ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر بھی رضامندی ظاہر نہیں کر رہا تھا تو ہو سکتا ہے کہ سعودی عرب سے قرض واپسی کے مطالبے کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا بھی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15425 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp