عربوں کو ارب کی واپسی، پاکستان کا باؤنسر
جو قومیں اپنی خود مختاری، سالمیت، اور عزت نفس کو مجروح نہیں ہونے دیتیں وہ اقوام عالم میں اپنا مقام مضبوط بنانے کی جانب سفر بہت جلدی طے کرتی ہیں۔ اور جہاں دوسروں پہ انحصار، قرضوں کا حصول، مشکل حالات میں غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا عام روش بن جائے وہ قوم کبھی بھی دنیا میں اپنا مقام نا پا سکتی ہے نا ہی دوسری اقوام اسے عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ کیوں کہ مانگنے والے کی عزت کے بجائے دنیا میں اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونا سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اور جو قومیں خود مختاری کی جانب سفر مشکل حالات میں بھی جاری رکھتی ہیں ان کی باتوں کو نا صرف اہمیت دی جاتی ہے بلکہ عالمی فیصلوں میں اس کا کردار بھی بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان ایک اہم اسلامی ملک ہونے کے ساتھ اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت بھی ہے۔ اور ہمیشہ سے پاکستانی قوم نے نامساعد حالات میں بھی اپنا لوہا اقوام عالم میں منوایا ہے۔ پاکستان کے بارے میں ایک عالمی تاثر موجود ہے کہ ہم غیر یقینی کا شکار قوم ہیں۔ اس کی وجہ یہی رہی کہ ہم طویل المدتی پالیسی کے بجائے ہمیشہ مختصر المدتی پالیسی اپنانا پسند کرتے ہیں۔ ہم تین سے پانچ سال کا لائحہ عمل طے کرتے ہیں اور اسی کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں۔
جب کہ اس حقیقت سے چشم پوشی ہمارا خاصہ رہا ہے کہ ہم مستقبل مزاجی کو اپنے مزاج کا حصہ نہیں بناپائے۔ کھیل، سیاست، خارجہ امور، داخلہ امور، معیشت، صنعت و حرفت، تعلیم، صحت، سماجی بہبود، انسانی حقوق، غرض کہ کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں کہ جس کے حوالے سے ہم کہہ سکیں کہ فلاں شعبے میں ہم نے پچاس سالہ ماسٹر پلان اپنایا ہے، یا پھر بیس سالہ وسط مدتی کوئی پلان یا پالیسی اپنائی ہے۔ یہ ہمارا خامی بھی رہی ہے اور ہماری خوبی بھی یہی ہے۔
کوالالمپور سمٹ 2019 کے کرتا دھرتا پاکستان، ترکی اور ملائیشیا تھے۔ اس کانفرنس پہ پوری دنیا کی نظریں اس لیے بھی تھیں کہ اس کا سہرا جن تین ممالک کے سر بندھ رہا تھا ان میں سے ایک اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت، دوسرا معاشی حوالے سے مضبوطی کی جانب گامزن، اور تیسرا ملک یعنی ترکی یورپی ممالک کے علاوہ امریکہ و روس جیسی طاقتوں سے بھڑنے کو بھی ہچکچا نہیں رہا تھا۔ اس لیے پوری دنیا کی نظریں اس کانفرنس پہ تھیں کہ دیکھیے اسلامی دنیا کا نیا اتحاد عملی سطح پہ کیا کر دکھاتا ہے۔
لیکن اسلامی دنیا کو اس سمٹ سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ اس لیے پوری نا ہو سکیں کہ اس کے اہم رکن اور اس کا انعقاد یقینی بنانے والے پاکستان نے آخری لمحات میں اس کانفرنس میں شرکت سے نا صرف معذرت کر لی بلکہ پاکستان کے رویے سے یہ شنید ملنا شروع ہو گئی کہ مستقبل قریب میں بھی پاکستان اس کا حصہ نہیں بنے گا۔ پاکستان نے سعودی عرب کی مداخلت سے انکار کرنے پہ کوئی واضح بیان نہیں دیا لیکن رجب طیب اردوان کے کھلے عام سعودی عرب کی جانب سے پاکستان پہ اس کانفرنس میں نا جانے کے دباؤ کے حوالے سے بیان نے پاکستان کو مشکل موڑ پہ لا کھڑا کیا۔
ایک طرف معاشی مسائل میں سعودی عرب کی مدداور پاکستانی تارکین وطن تھے تو دوسری جانب ملائیشیا، ترکی اور ایران جیسے مضبوط اسلامی ممالک۔ دو راہا تھا جسے کم و بیش پچھلے آٹھ مہینے مٹی پاؤ پالیسی کے تحت گزارا گیا۔ 3 ارب ڈالر کا قرضہ، اور اتنی ہی مالیت کا ادھار تیل، یہ سعودی عرب کی طرف سے دیا گیا ایک سہارا تھا جس نے پاکستان کو کوالالمپور سمٹ میں شرکت سے روک دیا۔ اور اب پاکستان کے وزیر خارجہ نے نا صرف یہ اقرار کیا ہے کہ کوالالمپور سمٹ میں شرکت نا کرنے کے فیصلے میں سعودی عرب کا کسی نا کسی حد تک ہاتھ تھا بلکہ پاکستان نے ایک ارب ڈالر سعودی قرض واپس کرتے ہوئے ایک سخت بیان بھی جاری کیا ہے جس میں او آئی سی کی جانب سے مسئلہ کشمیر پہ خاموشی کو آڑھے ہاتھوں لیا گیا ہے۔
شاہ محمود قریشی کا براہ راست یہ کہنا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں، بہت معنی خیز ہے۔ کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس کشمیر کے حوالے سے نا ہو سکنا، اب تک صرف سعودی عرب کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ہے۔ آرامکو سرمایہ کاری ہو یا اربوں ڈالرز کی معاشی ڈیل، سعودی عرب کے مفادات بھارت سے وابستہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے موقف کی تائید سے ہچکچا رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا کشمیر کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دینا شاید اب پاکستان کے فیصلہ سازوں کو سمجھ آ رہا ہے۔ کشمیر موقف پہ حمایت کرنے والے ہم خیال ممالک کے ساتھ ممکنہ اتحاد کا داؤ کھیلا ہی شاید اس لیے گیا ہے کہ ہو سکتا ہے اب بھی سعودی عرب کی آنکھیں کھل سکیں اور وہ کشمیر پہ پاکستان کے موقف کے ساتھ آ کھڑا ہو (جو کہ ممکن نظر نہیں آتا) ۔
سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کی واپسی میں یہ بات کم اہمیت کی حامل ہے کہ واپسی کے لیے ایک ارب ڈالر لیے کس سے گئے (جو کہ کھلا راز ہے ) ۔ زیادہ اہم لیکن یہ ہے کہ جس انداز سے پاکستان نے یہ رقم واپس کی ہے وہ ایک نہایت اہم رویہ ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات جس قدر مضبوط رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے اس انداز کو نا سعودی عرب نظر انداز کر پائے گا اور نا ہی خلیجی ممالک۔ جس دوراہے پہ کبھی پاکستان تھا اب یقینی طور پر خلیجی ممالک اور سعودی عرب ہیں۔
چین کی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری اور ایران کے ساتھ متوقع ڈیل، نا صرف خطے کا منظر نامہ تبدیل کر دے گی بلکہ عالمی منظر نامہ بھی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے (یہ تبدیلی ذرا مختلف ہو گی) ۔ ترکی، ملائشیا، قطر، ایران، یہ ممکنہ سامنے آنے والا نیا اسلامی اتحاد ہرگز بھی ایسا نہیں جسے پاکستان نظر انداز کر سکے۔ چین کا پاکستانی مفادات کا تحفظ (ایران میں بھارتی سرمایہ کاری کا راستہ روکنا) بھی پاکستان کے لیے اہم ہوتا جا رہا ہے۔
اور بھارت میں سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کی بھاری سرمایہ کاری سے یہ دونوں ممالک پیچھے ہٹنے کی پوزیشن میں نہیں۔ سعودی عرب کو جہاں ایک طرف پاکستان کا کھویا اعتماد بحال کرنا ہو گا ورنہ ایک مضبوط اسلامی ممالک کا اتحاد او آئی سی جیسے بے ضرر فورم کے سامنے تیار کھڑا ہو گا تو دوسری طرف اسے بھارت میں سرمایہ کاری بھی ڈوبنے سے بچانے کی فکر ہے۔
شاہ صاحب کا کہنے کو یہ ایک ٹی وی انٹرویو تھا لیکن حقیقت میں یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں موجود بے چینی ہے۔ دوستی کا راگ الاپتے رہیں، اور مشکل وقت میں دوست ہی پیٹھ دکھا دے تو پھر سوچنا پڑتا ہے کہ آخر ہمارا دوست ہے کون۔ سعودی عرب اہم اسلامی ملک ہے جہاں پاکستانیوں کی جذباتی وابستگی بھی ہے جیسے پوری مسلم امہ کی ہے۔ مقدس سرزمین سے جذباتی وابستگی مسلم امہ کو تو ہے لیکن کیا سعودی عرب اس جذباتی وابستگی کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ عالمی حالات میں مسلم امہ کے سربراہ کا کردار ادا کر پا رہا ہے؟ امریکی مفادات سے جان چھڑانا فوری طور پر نا ممکن ہے نا مفاد میں ہے۔ لیکن سعودی عرب تو مسلم امہ کو اپنی کوششیں تک دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس او آئی سی کے فورم سے اگر ایک سال کے کشمیر کے محاصرے کے دوران ممکن نہیں ہو سکا۔ تو اب پاکستان یہ سوچنے پہ مجبور ہو گیا ہے کہ ہم کب تک دوسروں کے مفادات کی گرداب میں پھنسے رہیں گے۔ بدلتی دنیا کے تقاضے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ مضبوط فیصلے اہم ہو گئے ہیں۔
وزیر خارجہ کا باؤنسر سعودی عرب کے لیے کھیلنا تھوڑا مشکل ہو گا۔ کیوں کہ چین نے باؤنسی وکٹ تیار کر رکھی ہے اور فاسٹ باؤلنگ کا شعبہ پاکستان کا مضبوط ہے۔


