بساط پر نہیں شاطروں پر نظر رکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں پر تشدد کارروائیاں پہلے بالکل ہی یک طرفہ ہوا کرتی تھیں۔ 1958 سے پہلے شاید ہی عوامی سطح پر نہ تو مسلکی و مذہبی اور نہ ہی سیاسی بنیادوں پر کوئی ایک لاش بھی گری ہو لیکن 1958 کے بعد حکومتی سطح پر پورے ملک میں عمومی اور کراچی میں خصوصی طور پر قتل و غارت گری کا باقاعدہ آغاز ہوا اور پہلی مرتبہ ایک ایسے ملک میں جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، حکومتی سطح پر محض سیاسی مخاصمت کو بنیاد بنا کر نہ صرف غداری کے سرٹیفیکیٹ جاری ہونا شروع ہوئے بلکہ اپنے ہی ملک میں آکر بسنے والے ان مسلمانوں پر حملہ کیا جو جد و جہد پاکستان میں ہراول دستے کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس دن کے بعد سے تا حال، پاکستان کے مسلمان خود پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کا خون بہانے کے ایسے عادی ہوئے کہ یہ سلسلہ کہیں بھی رکتا نظر نہیں آ رہا۔

ایک طویل عرصے تک خون خرابے کا یہ سلسلہ صرف اور صرف حکومتی سطح پر ہی دیکھنے میں آیا لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ عوام نے گلی کوچوں میں اپنے اپنے لشکر تیار کر کے ایک دوسرے کی بستیوں پر لشکر کشی کی ہو۔ ایوب خان، یحییٰ خان اور بھٹو کی حکومتیں پاکستان کی تاریخ کے ایسے سیاہ باب ہیں جن کو جب بھی مورخ لکھے گا اس کا قلم ہر ہر حرف پر خون اگلتا نظر آئے گا لیکن یہ تاریخ کب لکھی جاسکے گی اور ان کو پڑھنے والے کون ہوں گے ، اس کا علم اللہ کے علاوہ شاید ہی کسی کو ہو۔

بھٹو کے دور تک یہ سلسلہ یک طرفہ ہی رہا اور لسانیت کو ہوا دے کر سندھ کے 22 شہروں سے ایک خاص کمیونٹی کا انخلا اور قتل و غارت گری کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا گویا یہاں تک بھی آگ و خون کا جو کھیل پاکستان میں کھیلا جاتا رہا وہ کسی نہ کسی حد تک یک طرفہ اور حکومتی سطح پر ہی کھیلا جاتا رہا۔

کسی بھی خطے میں ایک طویل عرصے یہی سب کچھ ہوتا رہے اور عوام ریاستی جبر اور ریاست کی جانب سے امتیازی سلوک کا شکار ہوتے رہیں تو پھر وحشتوں کے جنگل کے جنگل اگتے چلے جانا اور درندوں در درندوں کا پیدا ہونا کوئی انہونی نہیں ہوا کرتا۔ ہزاروں افراد جب ایک ہی جیسے سلوک کا شکار ہوتے رہیں تو پھر نیک و بد کی ہر تمیز ختم ہو جایا کرتی ہے چنانچہ جو جو علاقے، قومیں، صوبے اور طبقات تشدد اور امتیازی سلوک کی زد میں زیادہ آئے وہاں وہاں اسی حساب سے وحشتیں اگتی چلی گئیں اور آج پورے ملک میں ہر وہ علاقہ، خواہ اس کا تعلق، پنجاب، شمالی علاقہ جات، بلوچستان، اندرون سندھ یا کراچی سے ہو، ان علاقوں میں ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ درندگی کے مظاہرے دیکھنے میں آتے بھی رہے ہیں اور آ بھی رہے ہیں۔

دکھ اس بات کا ہے کہ دیکھنے والوں کو درندگی اور درندے تو صاف دکھائی دیتے رہے ہیں لیکن وہ، ان پالیسی سازوں، ان ہاتھوں، ان قوتوں، ان امتیازی اور جارحانہ سلوک روا رکھنے والوں کی جانب کبھی آنکھ بھر کر دیکھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوئے جو اس وحشت اور بربریت کا سبب بنے۔ یہی وہ بزدلی، مصلحت پسندی، موقعہ پرستی اور مفادانہ ذہنیت ہے جو پاکستان کے حالات کو کبھی درست ہونے نہیں دے سکی۔

امیر جماعت اسلامی کا فرمانا ہے کہ ”وفاقی و صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بتائیں کہ 2 دن گزرنے کے باوجود اب تک جماعت اسلامی کی بھارت کے خلاف کشمیر ریلی پر بم حملے کے مجرموں کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ کشمیر ریلی پر حملہ پاکستان اور اسلام دشمنوں کی کارروائی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارتی لابی ملوث ہے، یہ حملہ کسی فرد واحد نے نہیں کیا بلکہ اس کے پیچھے پوری ایک سازش ہے جس کا فائدہ بھارت کو ہوا اور نقصان پاکستان کو ہوا، حملے میں 37 کارکنان زخمی اور ایک کارکن شہید ہوا“ ۔

ان کا فرمان اپنی جگہ درست لیکن اس کا جواب وہ حکومتوں سے کیوں مانگ رہے ہیں جبکہ وہ اس شہر کے گٹروں کی صفائی سے لے کر ہر قسم کی ”سیاسی“ صفائی تک کی ساری ذمہ داری کسی اور کے سپرد دیکھ رہے ہوں۔ رہی بات دو دن گزر جانے کے باوجود قاتلوں کی گرفتاری کا معاملہ تو جس شہر کے 50 ہزار سے زائد مقتولوں کے 50 قاتل بھی سولی پر نہ لٹکائے جاسکے ہوں وہاں 37 زخمی اور ایک شہادت تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔

امیر جماعت کو کراچی کا پر تشدد ہونا تو ہمیشہ دکھائی دیتا رہا ہے لیکن کیا کبھی انھوں نے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں تشدد کے رجحان کے پائے جانے کے اسباب پر پاکستان کے کسی فورم پر بات کی؟ یہ وہی لوگ تو ہیں جنھوں نے جماعت اسلامی کو ایک طویل عرصے تک سر کا تاج بنائے رکھا۔ کبھی اس پر بھی غور کیا کہ یہ کیوں اور کس کی ایما پر ان سے باغی ہوئے؟

جس ملک کی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے سربراہان ان کے اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کے ووٹوں اور پسند سے نہ بن سکتے ہوں، جس ملک میں باد شاہ بنائے جانے کے فیصلے اسلام آباد سے باہر ہوتے ہوں، جس کی ساری پالیسیاں سامراج بناتا ہو اور جو ملک بیرونی امداد کے بغیر ایک نوالہ اپنے عوام کے منھ میں نہ ڈال سکتا ہو وہاں ایک پتہ بھی اپنی مرضی سے کیسے ہل سکتا ہے۔ وہ یہ کہتے تو نظر آتے ہیں کہ کراچی کی ایک سیاسی جماعت کو، جماعت اسلامی کا زور توڑنے کے لئے بنایا گیا تھا مگر وہ یہ سوچنے کے لئے تیار نہیں کہ ”وہی“ کب اور کیا پالیسی بنا جائیں۔ لہٰذا اپنی بقا کے لئے بساط پر نہیں شاطروں پر نظر رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply