گرین زون سیمینار کی دعوت۔۔۔ پر سکون زندگی کی طرف سات قدم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میرے ’ہم سب‘ کے دوستو!

پچھلے چند مہینوں میں ان مردوں اور عورتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو مجھ سے اپنے نفسیاتی مسائل کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتے ہیں لیکن میں اپنی گوناگوں ادبی و سماجی مصروفیات کی وجہ سے انہیں اتنا وقت نہیں دے سکتا جس کے وہ خواہشمند ہیں۔

پچھلے چند ہفتوں میں کرونا وبا کی وجہ سے میری پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں بھی بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ میرے ان مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے جو کلینک آنے کی بجائے اب وڈیو کال سے اون لائن تھراپی کرواتے ہیں۔ اس ہفتے مجھے کینیڈا کی حکومت نے یہ بھی اجازت دی ہے کہ میں بارہ لوگوں کی TELEMEDICINE سے اون لائن گروپ تھراپی کر سکوں گا۔

جب میں اپنے مغرب کے کینیڈین مریضوں کی اون لائن تھراپی کے حوالے سے تیاری کر رہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں اپنے مشرقی دوستوں کے لیے بھی ایک اون لائن پروگرام بناؤں جس سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔ اس حوالے سے پہلی رکاوٹ یہ تھی کہ میری GREEN ZONE LIVINGکتاب انگریزی میں ہے جس سے بہت سے ایسے پاکستانی دوست ’جو صرف اردو پڑھتے ہیں‘ استفادہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ میں نے ثمر اشتیاق کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے میری انگریزی کی گرین زون کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ثمراشتیاق میری عزیز دوست ہیں جو ٹورنٹو کے ایک پبلک اسکول بورڈ کے لیے اسپیشل ایجوکیٹر کے فرائض انجام دیتی ہیں اور ٹورنٹو میں جنوبی ایشیا سے آنے والے معذور بچوں کے مہاجر والدین کے لیے کمیونٹی میں موجود سہولیات کی معلومات اور کاونسلنگ فراہم کرتی ہیں۔ وہ ایک دفعہ فیمیلی آف دی ہارٹ کے سیمینار میں گرین زون پر ایک مقالہ بھی پڑھ چکی ہیں۔
میرے کینیڈا کے کلینک میں میری سیکرٹری مارسیلیا اور میری نرس بے ٹی ڈیوس میری مدد کرتی ہیں۔ اس حوالے سے میں نے اپنی پاکستانی دوست مہر جعفری سے مدد مانگی کہ وہ پاکستانی پروگرام کو منظم کرنے میں میری مدد کریں اور وہ راضی ہو گئیں۔ مہر جعفری پیشے کے لحاظ سے ایک رائٹر ’ایکٹر اور ڈائرکٹر ہیں لیکن وہ ذہنی صحت کی تعلیم میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔

اب ہم ایک سات ہفتے کا فری پائلٹ پروجیکٹ FREE PILOT PROJECTکرنا چاہتے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے لیے ہمیں ایسے بارہ رضاکاروں کی ضرورت ہے جو ہمارے سات ہفتے کے پروگرام میں شامل ہوں۔ اس سے ان کی انفرادی ’خاندانی اور سماجی صحت بہتر ہوگی‘ انہیں خوشحال اور پرسکون زندگی گزارنے میں مدد ملے گی اور ان کے فیڈ بیک سے ہمیں ایک ایسا پروگرام ترتیب دینے میں مدد ملے گی جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کی نفسیاتی مدد کر سکے گا۔

مجھے ایسے رضاکاروں کی بھی ضرورت ہے جو سات ہفتے کے پروگرام کے کتابچے کا انگریزی یا اردو سے پشتو ’سندھی‘ بلوچی ’فارسی اور ہندی زبان میں ترجمہ کر سکیں تاکہ مشرقی دنیا کے زیادہ سے زیادہ شہری اس سے استفادہ کر سکیں۔

اس پائلٹ پرجیکٹ کے لیے سب سے پہلے آپ لوگ مجھے ایک ای میل کریں اور مجھے اپنی زندگی کے بارے میں لکھیں اور یہ بتائیں کہ آپ یہ پروگرام کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو سات ہفتے کے پروگرام کو شروع سے آخر تک مکمل کرنے کا وعدہ بھی کرنا ہوگا۔

میرا ای میل ایڈریس ہے [email protected]
ہم تمام امیدواروں میں سے بارہ کا انتخاب کریں گے۔ پھر ہم سات ہفتے کا پروگرام مکمل کریں گے۔ اس پروگرام میں ہر شخص کو کچھ ہوم ورک دیا جائے گا اور پھر ہفتے یا اتوار کے دن دوگھنٹے کا گروپ انٹرویو ہوگا۔ پھر ہم ہر شرکت کرنے والے سے یہ بھی درخواست کریں گے کہ وہ پروگرام کے آخر میں ہمیں ایک خط لکھیں جس میں وہ پروگرام میں شرکت کے تجربے کے بارے میں ہمیں بتائیں کہ اس پروگرام سے انہوں نے کتنا استفادہ کیا اور ہمیں ایسے مشورے بھی دیں جن سے ہم گرین زون سیمینار بہتر بنا سکیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال اور خاص طور پرکرونا وبا کے دوران بہت سے لوگوں کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے اور یہ مدد فراہم کرنا صرف ایک شخص کا کام نہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ دھیرے دھیرے ہم خیال دوستوں کی ایک ایسی گرین زون ٹیم بن سکے جو عوام کو ذہنی صحت کی تعلیم دے سکے اور ایک صحتمند خوشحال اور پرسکون زندگی تعمیر کرنے میں ان کی مدد کر سکے۔

پچھلے سال جب میں پاکستان گیا تھا تو فیض احمد فیض کے نواسے اور میرے عزیز ماہر نفسیات دوست ڈاکٹر علی ہاشمی نے مجھے دعوت دی تھی کہ میں لاہور کے ڈاکٹروں ’طلبا و طالبات سے ملوں اور ان سے اپنے گرین زون کے فلسفے کے بارے میں تبادلہ خیال کروں۔ اس مکالمے کے دوران مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہماری قوم کو ذہنی صحت کی تعلیم کی کتنی اشد ضرورت ہے۔

ذہنی صحت کی تعلیم کا یہ بھی فائدہ ہوگا کہ بہت سے لوگ نفسیاتی مسائل میں گرفتار ہونے اور ذہنی بحران کا شکار ہونے سے پہلے ہی اپنے روزمرہ مسائل کا حل تلاش کر لیں گے اور ایک صحتمند زندگی گزارنا شروع کر دیں گے۔

میں اس سلسلے میں ’ہم سب‘ کے مدیروں وجاہت مسعود اور عدنان کاکڑ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے ’ہم سب‘ کے فورم پر بہت سے دوستوں کے خطوط کا جواب دینے کا موقع فراہم کیا۔ مجھے وہ سہ پہر یاد ہے جب تنویر جہاں نے وجاہت مسعود کو یہ مشورہ دیا تھا کہ آپ ڈاکٹر خالد سہیل کے لیے ’ہم سب‘ پر ایک ایسا فورم تیار کریں جس پر لوگ اپنے نفسیاتی مسائل پر تبالہ خیال کر سکیں ’سوال پوچھ سکیں اور ڈاکٹر صاحب ان سوالوں کے جواب دے سکیں۔ میں تنویر جہاں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھ جیسے آزاد منش درویش پر اتنا اعتماد کیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ذہنی صحت کو بڑھاوا دینا ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر اس سلسلے میں آپ لوگوں کی مدد سے میں کوئی مثبت خدمات سرانجام دے سکا تو یہ میری خوش بختی ہوگی۔ مجھے اس لمحے سرخ فام انڈین چیف بلیک الک NATIVE CHIEF BLACK ELKکا جملہ یاد آ رہا ہے

NO GREAT THING IN LIFE CAN BE DONE BY ONE PERSON ALONE

میں ان دوستوں کی ای میل کا انتظار کروں گا جو اس فری پائلٹ پروجیکٹ کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ خیال رہے کہ پروجیکٹ کے اس ابتدائی مرحلے میں ہم صرف بارہ لوگوں کا چناؤ کر سکیں گے۔

ذہنی صحت کا خواب دیکھنے والا
ڈاکٹر خالد سہیل

Latest posts by ڈاکٹر خالد سہیل (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 363 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail