درخت لگائیں، بخت جگائیں



کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

پروین شاکر نے کس دلکش انداز میں درخت کے کٹنے کے کرب کی کمال خوبصورتی سے منظر کشی کی ہے۔ اگر آپ کو پرندوں کی چہچہاہٹ سننے اور پرندوں کو اپنے آس پاس دیکھنے کا شوق ہے تو پنجرے نہ خریدیں بلکہ اپنے آنگن میں درخت لگائیں۔ پرندے ان درخت نما پنجروں پہ فریفتہ ہیں اور کھنچے چلے آتے ہیں۔

ایک ڈاکیومنٹری دیکھ رہا تھا جس میں بتایا گیا کہ ہر سیکنڈ میں دنیا سے ڈیڑھ ایکڑ پہ مشتمل جنگلات کٹ جاتے ہیں اور ان درختوں کی سالانہ تعداد اگر نکالی جائے تو یہ 15 ارب کے قریب بنتی ہے۔ اب جنگلات کے عالمی کٹاؤ میں کشور پاکستان کا حصہ بھی ملاحظہ ہو۔ جب ہم لوگ 90 کی دہائی میں سکول میں زیر تعلیم تھے تو اس وقت مطالعہ پاکستان میں دی گئی معلومات کے مطابق پاکستان میں جنگلات کل رقبہ کا 6.4 فیصد تھے۔ جبکہ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح اب 4 فیصد رہ گئی ہے۔ جنگلات کے کٹاؤ اور انسانی زندگی پہ اس کے اثرات پہ ایک طویل مضمون لکھا جا سکتا ہے لیکن اس مضمون میں موسم برسات میں شجرکاری کے موضوع پہ مرکوز رہنے کی کوشش کروں گا۔

مغربی ممالک میں ڈاکٹر جب نسخہ تجویز کرتے ہیں تو بعض ڈیپریشن کے مریضوں کو باغبانی یا شجرکاری کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔ کیونکہ باغبانی کرنے سے بندہ جب گھنٹہ یا دو گھنٹے فطرت کے قریب ہو کر گزارتا ہے تو اس سے اس کا دماغی اور نفسیاتی دباؤ کم ہوتا ہے۔ جب وہ کونپلوں کو پھلتا پھولتا، پودوں کو بڑھتا اور پھولوں کو کھلتا دیکھتا ہے تو وہ بندہ فطرت کے فیاضی پہ بے حد خوش ہوتا ہے۔ یوں اس کا صحت کی طرف اور ماحول کا شادابی کی طرف مشترکہ سفر شروع ہوتا ہے۔ اگر کوئی ڈیپریشن کا مریض ہے تو اس کے لئے شجرکاری بہترین دوا اور مشغلہ ہے۔

فلپائن میں ایک قانون پاس کیا گیا ہے جس کے مطابق طلباء کو کالج اور یونیورسٹی سے پاس ہونے کے لئے 10 پودے لگانا ضروری ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان میں بھی ایسا قانون پاس ہو جائے تو ملک سرسبز و شادابی کی جانب گامزن ہو جائے گا۔ ہمارے ملک میں 10 پریم پنچھی یا طلباء ایک درخت کے نیچے گل کھلا رہے ہوتے ہیں لیکن ایک طلباء 10 پودے نہیں لگانا پسند کرتے۔ البتہ جنید جمشید کے اس گانے کے بول پہ من و عن عمل کرتا ہے جس میں وہ ”جنگلوں میں، درختوں پہ“ نام لکھنے کی بات کرتے ہیں۔ درخت اسی رفتار سے کٹتے رہے تو آنے والی نسلیں اپنے نام کہاں کندہ کریں گی۔

آذربائیجان کے زیر اثر ایک چھوٹی سی خود مختار مملکت ہے جس کا نام ناخی چیون Nakhichivan ہے۔ یہاں پہ ایک قانون بنا ہوا ہے جس کے مطابق سرکاری ملازمین چھٹی کے روز شجر کاری کرتے ہیں اور پہلے سے لگے ہوئے پودوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اگر کوئی سرکاری ملازم یہ بیگار کرنے سے انکار کرے تو اس کو ملازمت سے استعفی دینا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناخی چیون ایک صاف ستھرا اور سر سبز ملک ہے۔ کیا ہم سرکاری ملازمین یہ قومی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کی بنی ہوئی ایک معلوماتی ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں یہ بتایا گیا ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مقامی حکومت شہر میں پھلدار پودے لگا رہی ہے جس سے ناصرف ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہو گا بلکہ ضرورت مندوں کی غذائی ضروریات بھی پوری ہونگی

پاکستان میں بھی پھلدار درختوں کے لگانے کا بے حد سکوپ ہے۔ پاکستان کے تین صوبوں میں نہری نظام موجود ہے۔ اگر محکمہ انہار اور محکمہ جنگلات مل کر ان نہروں کے کنارے پہ اس علاقے کی آب و ہوا کے مطابق پھلدار درخت لگا دیں، جیسا کہ KPK میں سیب، اپر پنجاب میں کنو، ساوتھ پنجاب میں آم، سندھ میں کھجور اور آم دونوں لگائے جا سکتے ہیں۔ نا صرف یہ کہ یہ ماحول دوست قدم ہو گا بلکہ غذائی ضروریات بھی پوری ہونگی۔

پاکستان میں سال میں دو دفعہ شجر کاری کی مہم چلائی جاتی ہے ایک جب موسم بہار کی آمد آمد ہو اور دوسرا جب مون سون کی بارشوں کے موسم میں۔ مون کی بارشیں 15 جولائی سے 15 ستمبر تک برستی ہیں اور ان دو ماہ میں جو پودے لگائے جاتے ہیں ان کے تناور درخت بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ میرا ایک خواب ہے جتنے فیصد ہمارا جھنڈا سبز ہے اسی قدر یا اتنے فیصد یہ دھرتی بھی سرسبز ہو جائے۔ اگر ہم نے اب بھی اس طرف دھیان نہ دیا جنگلات کے کٹاؤ کو نہ روکا، شجرکاری نہیں کی تو ہریالی یا سبز رنگ صرف پاکستان کے جھنڈے میں ہی نظر آئے گا اور کہیں آس پاس بمشکل ہی نظر آئے۔ اس سال 14 اگست پہ ملک کو سر سبز بنانے کے لئے ضرور پودے لگائیں۔

اس سال مون سون کی برسات کے موسم میں بھیڑ ہو یا تنہائی کا عالم، گھر سے ضرور نکلیں، (پانی کی) بوتل بھی اٹھا لیں، ساتھ ہی حسب استطاعت پودے بھی لائیں اور ملک پاکستان کو کشور حسین شادباد بنانے میں اپنا عملی کردار ادا کریں۔ اس لیے میری اپنے پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ آپ کے خاندان میں جتنے لوگ ہیں اس کو 10 سے ضرب دیں اور اتنے پودے نرسری سے خرید کر اپنے گھروں، گلیوں، سڑکوں، نہر کے کنارے اور اپنے قریبی سکول یا پارکس میں لگائیں۔ کوشش کریں کہ پودے ایسی جگہ پہ لگائیں، جہاں پانی دینے کا مناسب انتظام موجود ہو۔

پودے نرسری سے خریدتے وقت ایسے پودے خریدیں جو کہ مقامی آب و ہوا سے مطابقت رکھتے ہوں۔ اس سلسلے میں سایہ دار درختوں میں نیم، بکائن، پیپل، ٹالھی، کیکر، کچنار، سوہانجنا، سکھ چین وغیرہ اچھا انتخاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن خدارا کونو یا کونو کارپس یا مصطفی کمال بوٹی کو لگانا بند کریں۔ یہ پودا نہ تو پھلدار ہے اور نہ ہی اس کی لکڑی کارآمد ہے اور پولن الرجی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی عدم توازن کا بھی سبب بن رہا ہے۔ روزنامہ ڈان نے اس کے تباہ کن اثرات پہ ایک پورا فیچر چھاپا تھا جو کہ انٹرنیٹ پہ اس عنوان سے موجود ہے Gardening: The detrimental Cononcarpus

انڈیا کی ایک سٹیٹ راجستھان کے شہر راجسمند کے ایک گاؤں پیپلانتری میں جب بھی کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اس کے والدین 111 پودے لگاتے ہیں اور بیٹی پیدا ہونے کا جشن اور ماحول دوست قدم اٹھاتے ہیں۔ ہمیں انڈینز کو ہر فیلڈ میں مات دینے کا شوق ہے آئیے ہم عہد کرتے ہیں کہ جس کو بھی اللہ پاک بیٹی کی رحمت سے نوازے وہ 200 اور جس کو بیٹے کی نعمت سے نوازے وہ 100 پودے لگا کر استقبال کرے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ بچہ ہو یا بچی، وہ جس آنگن میں بھی اتریں وہ اپنے والدین کے لئے باعث مسرت و فخر ہوں، اور سرسبز و شاداب پاکستان کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو۔

Facebook Comments HS