دس غلط فہمیاں جو عمراں خان نے دور کیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو تحریک انصاف کو بطور سیاسی جماعت کام کرتے ہوئے کافی سال ہوچکے تھے اور ابتدا ہی سے پتہ نہیں کیوں تحریک انصاف کی سیاست اس کا سیاسی فلسفہ عوامی توجہ اور مقبولیت حاصل نہیں کر سکا۔ مگر اس کے باوجود تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سیاسی میدان میں موجود رہے اور پاکستان کے مسائل پر اظہار خیال کرتے رہے۔ سیاسی جماعتوں کے طرز حکومت پر کڑی تنقید کرتے رہے عوام کی حالت زار پر کھل کر بولتے رہے۔ مگر بات پھر بھی نہیں بنی اور عمران خان عوامی توجہ اور ہمدردی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس ضمن میں ان کو اس سے قبل 2002 میں اور کسی حد تک 2008 میں سازگار سیاسی ماحول بھی میسر آیا تاہم قومی اسمبلی میں ان کی تعداد نا ہونے کے برابر رہی۔

پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں شاید فیصلہ کیا گیا کہ عمران خان کی باری آ گئی ہے اور پہلی بار اکتوبر 2011 میں تحریک انصاف نے لاہور میں مینار پاکستان پر ایک بہت بڑا عوامی جلسہ کرکے تمام سیاسی جماعتوں کو حیران کر دیا۔ اور اس کے بعد پاکستانی عوام کی حیرت کم نہیں ہوئی کیونکہ اس جلسہ کے بعد خان کا ہر جلسہ سپرہٹ ہوا۔ جلسوں میں گویا عوام کا سیلاب امڈ آیا۔ پہلی بار سیاسی جماعتوں کے جلسے کی نوعیت تبدیل ہوئی پہلی بار کسی سیاسی جماعت کے اجتماعات میں گھریلو خواتین اپنے بچوں سمیت شرکت کرنے لگیں۔ میڈیا نے اس تبدیلی کا بھرپور ساتھ دیا۔ اور یوں تحریک انصاف اور عمران خان کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی۔

2013 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے بھرپور طریقے سے حصہ لیا۔ مرکز میں تو حکومت نہیں بنا سکے البتہ ایک صوبے کی حکومت ان کو مل گئی اس کے بعد عمران خان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ایک بھرپور اپوزیشن کی بنیاد رکھتے ہوئے حکمرانوں کو ہر چوک ہر سڑک پر للکارا۔ حکومتی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن، بجٹ میں ٹیکسز کی بھرمار، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا موازنہ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، بجلی اور گیس کے بلوں میں ہوشربا اضافہ غرض کون سا ایشو تھا جس کو عمران خان نے اپنا موضوع نہیں بنایا۔

یہ سب کچھ اس قدر ہوم ورک کے ساتھ ہورہا تھا کہ اعتزازاحسن کو فلور آف دی ہاؤس کہنا پڑا کہ عمران خان کی باتیں عوام کے دل میں تیر ہو رہی ہیں۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے عوام پوری توجہ سے اس کو سن رہی ہے اور اس کی تائید کررہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ عمران خان کی احتجاجی سیاست کا فائنل راونڈ شروع ہوا اور عمران خان کنٹینر پر پہنچے اور یہاں سے قوم سے مخاطب ہوئے۔ اس کے بعد عمران خان نے کنٹینر سے جو کچھ کہا عوام نے اس پر یقین کرتے ہوئے طے کر لیا کہ اب نیا پاکستان بن کر رہے گا جس میں استحصالی نظام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس دوران صرف دس نکات ایسے ہیں جن کا خان نے تقاریر میں مسلسل ذکر کیا اور اگر خان کو اقتدار نا ملتا تو عوام کی یہ دس غلط فہمیاں کبھی دور نا ہوتیں۔

ان میں سے پہلی غلط فہمی یہ تھی کہ ملک میں روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے۔ دوسری غلط فہمی کہ میٹرو 8 ارب میں بنتی ہے ن لیگ مہنگی بنا رہی ہے اور حقیقت پشاور کا بی آرٹی منصوبہ ہے۔ تیسری غلط فہمی کہ خان خود کشی کر لے گا مگر قرضہ نہیں لے گا۔ چوتھی غلط فہمی کہ ہر پاکستان کا مفت علاج ہوگا۔ پانچویں غلط فہمی کہ اقتدار میں ہوتے تو 350 ڈیم بنا دیتے۔ چھٹی غلط فہمی کہ ڈالر کو نیچے لے کر آئیں گے۔ ساتویں غلط فہمی کہ بجلی کی اصل قیمت 10 روپے یونٹ ہے جبکہ حکومت فی یونٹ 6 روپے کما رہی ہے۔

آٹھویں غلط فہمی کہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولوں کو انصاف ملے گا بلکہ عافیہ صدیقی کو بھی واپس لائیں گے۔ نویں غلط فہمی کہ ہمارے پاس انتہائی تجربہ کار ٹیم ہے اور ہم سفارش کا کلچر ختم کرکے کوالیفائیڈ لوگوں کو میرٹ پر لائیں گے اور دسویں غلط فہمی یہ کہ امریکہ اور یورپ کی طرز پر صرف 14 وزیروں کی کابینہ تشکیل دیں گے۔

عمران خان اپوزیشن میں کنٹینر پر کھڑے ہوکر عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے رہے۔ ہر وہ بات کی جو عوام سننا چاہتی تھی ہر وہ وعدہ کیا جس کی عوامی سطح پر خواہش کی گئی۔ اپنے بہتر مستقبل سے مایوس قوم کو جب امید کی کرن نظر آتی ہے تو اس کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اور یہ خوشی اور جنون اس وقت تحریک انصاف کے جلسوں میں دیکھا جاسکتا تھا۔ عوام کو عمران خان نے انتخابات سے قبل ہی تسخیر کر لیا تھا۔ 2018 کی انتخابی مہم میں عمران خان کا ہی بیانیہ چلتا رہا۔

الیکٹرانک میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر ایک طوفان آ گیا۔ شرفا کی پگڑیاں اچھالی گئیں ہر سیاسی روایت کو پامال کیا گیا۔ نئے پاکستان کے جنون میں روایتی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا۔ علمی و عقلی دلائل کی بجائے بدتمیزی کا سیاسی کلچر پروان چڑھا۔ سیاسی نظریات کی مخالفت کی بجائے سیاسی خانوادوں کے گھروں کے معاملات سرعام ڈسکس کیے گئے۔ گویا وہ سب کچھ کیا گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا

بالآخر 25 جولائی کا سورج طلوع ہوا۔ سارا دن نئے پاکستان کی تعمیر ہوئی اور شام کو اس کے معماروں کو نوید مل گئی کہ نیا پاکستان بن گیا ہے۔ خواب حقیقت بننے لگے اور عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا۔ اب ایفائے عہد کا وقت تھا۔ آنکھیں منتظر تھیں کہ کب وعدے پورے ہوں گے مگر زمینی حقائق کی تلخی کو کیسے رد کیا جا سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سحرزدہ عوام کی غلط فہمیاں ایک ایک کرکے دور ہونے لگیں۔ خواب ٹوٹنے اور بکھرنے لگے۔ حرف آخر یہ کہ نیا پاکستان بھی عوام کے مسائل حل نا کر سکا۔ تا ہم ایک چیز تو طے ہوگئی ہے کہ اگر عمران خان وزیراعظم منتخب نا ہوتے تو شاید عوام کی یہ دس غلط فہمیاں کبھی دور نا ہوپاتیں جو کہ ان کے وزیراعظم بننے کے بعد یقینی طور پر دور ہوچکی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •