کشمیر کیسے بنے گا پاکستان؟


کشمیر برصغیر پاک و ہند کا شمال مغربی علاقہ ہے۔ تاریخی طور پر کشمیر وہ وادی ہے جو ہمالیہ اور پیر پنجال کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان میں واقع ہے۔ آج کل کشمیر کافی بڑے علاقے کو سمجھا جاتا ہے جس میں وادی کشمیر، جموں اور لداخ بھی شامل ہے۔ پاکستانی آزاد کشمیر کے علاقے پونچھ، جموں کے علاوہ گلگت اور بلتستان کے علاقے شامل ہیں۔ 1846 سے پہلے یہ آزاد ریاستیں تھیں۔ پاکستان بنتے وقت یہ علاقے کشمیر میں شامل تھے۔ وادی کشمیر پہاڑوں کے دامن میں کئی دریاؤں سے زرخیز ہونے والی سرزمین ہے۔ یہ اپنے قدرتی حسن کے باعث زمین پر جنت تصور کی جاتی ہے۔

ایک کہاوت ہے کہ ”جب دو ہاتھی آپس میں لڑتے ہے تو کچلی صرف گھاس جاتی ہے“ تنازعہ کشمیر پر بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے پاکستان اور بھارت دو ایٹمی قوتیں کشمیر کے تنازعہ پر 3 سے زائد جنگیں کر چکی ہیں۔ پہلی جنگ 1947 ء، دوسری 1965 ء اور تیسری 1971 ء اور آخری چوتھی 1999 ء میں لڑی گئی۔ اس کے علاوہ آئے دن مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے پر بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ جس میں اکثر جموں کشمیر کے شہری آبادی نشانہ بنتی رہی ہے اور اس گولہ باری کا شکار کشمیری شہریوں کا حال اس گھاس سے کم نہیں ہے جو گھاس دو طاقتور ہاتھوں کی لڑائی کے دوران گھاس کا ہوتا ہے۔ بینہ پاکستان اور بھارت دو ایٹمی قوتیں ہیں جو دو ہاتھیوں کا کردار سر انجام دے رہے ہیں۔ آئیں اگے چل کر ان پہلو کو دیکھتے ہیں جو وجوہات بنی تنازعہ کشمیر پاکستان اور بھارت۔

آخر مسئلہ کشمیر ہے کیا؟ کیا سدباب ہے اس خطے کے تنازعات پر؟ مسئلہ کشمیر، پاکستان، ہندوستان اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے۔ یہ مسئلہ تقسیم ہندوستان سے چلا آ رہا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور ہندوستان کے مابین تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر ہے پاکستان اور بھارت کے ماہ بین: پاکستان اور بھارت دونوں مسئلہ کشمیر پر ایک بنیادی نظریے پر کھڑے ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں۔

تقسیم ہند کے دوران جموں و کشمیر برطانوی راج کے زیر تسلط ایک ریاست ہوتا تھا۔ جس کی آبادی 95 فیصد مسلم تھی۔ جب ہندوستان کو تقسیم کیا جا رہا تھا تو جن علاقوں میں مسلم اکثریت تھی وہ علاقے پاکستان اور جہاں ہندو اکثریت تھی وہ علاقے بھارت کو دیے گئے۔ پر کشمیر میں اکثریتی آبادی تو مسلمانوں کی تھی لیکن یہاں کا حکمران ایک سکھ تھا اور سیکھ حکمران چاہتا تھا کہ بھارت کے ساتھ ہو جائے۔ لیکن تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے اس بات کو مسترد کیا۔ آج بھی پاکستان کا ماننا ہے کہ کشمیر میں مسلمان زیادہ ہیں اس لیے یہ پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت کا ماننا ہے کہ اس پر سکھ حکمران تھا جو بھارت سے الحاق کرنا چاہتا تھا اس لیے یہ بھارت کا حصہ ہے۔

حوالہ

Page No (27-28) Paul kapure and Sumit Ganguly (7 auguest 2012) . India, Pakistan, and the Bomb: Debating Nuclear Stability in South Asia. Columbia University Press (Auguest 2012)

کشمیر کیسے بنے گا پاکستان؟ کشمیر میں مسلم اکثریت ہونے کے باوجود کشمیر پاکستان کا حصہ نہ بن سکا وہ کون سے ایسے محرکات ہیں جو ہماری نظر سے نہیں گزر ے جن کے حصول کے بعد کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے۔ کشمیر، پاکستان، ہندوستان اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے۔ پاکستان کہتا ہے کہ مسلم اکثریت ہونے کی وجہ سے کشمیر پاکستان کا حصہ ہونا چاہیں اور بھارت کہتا ہے کشمیر کا حکمران ہندو راجہ تھا اس لیے کشمیر بھار ت کا حصہ ہونا چاہیں۔

مگر کیاکبھی کسی نے کشمیریوں سے پوچھا ہے کہ وہ خود کیا چاہتے ہیں؟ کیا پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں نے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے کشمیری حریت پسند رہنما کیا چاہتے ہیں؟ کشمیری حریت پسندوں میں بھی اختلاف رائے ہیں چند حریت پسند رہنما چاہتں ہے کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے کیوں کہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے تو ان کو یہاں ان کے مکمل آزادی کے حقوق ملے گے مگر چند حریت پسند رہنما آزادی چاہتے ہیں۔ آزادی کس سے؟ آزادی چاہیے تو پاکستان اور بھارت سے وہ ایک خودمختار ریاست بننا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی ریاست جہاں نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارت کا عمل دخل ہو۔ وہ ایک خودمختار ریاست بناناچاہتے ہیں جہاں ان کی آزادانہ حکومت ہو اور وہ اپنے طرز عمل کے مطابق زندگی گزار سکے۔

مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا ثالثی کردار کچھ اس طرح سے ہے کہ 1948 میں تنازعۂ کشمیر پر چار قراردادیں منظور ہوئی تھیں۔ پھر 1950 میں ایک قرارداد، پھر 1952 میں ایک قرارداد، اور پھر 1957 میں تین قراردادیں کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل میں منظور ہوئی تھیں۔ 72 سالوں سے اب تک کل 17 سے زائد قرارداریں اقوام متحدہ اور سامتی کونسل میں پیش ہو کر پاس بھی ہوچکی ہیں اور ان قراردادوں کے درمیان کئی مشنز تشکیل پائے۔

ایک کمیشن کے ذریعے کشمیر میں استصواب رائے کا فیصلہ کیا گیا جس کو اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے تسلیم کیا اور رائے شماری کے فیصلے کی تائید کی جس کے مطابق کشمیر کے عوام رائے شماری کے ذریعے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا فیصلہ کریں گے۔ پاکستان نے بھی یہ فیصلہ تسلیم کیا۔ لیکن بعد میں بھارت اپنے اس وعدے سے منحرف ہو گیا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کشمیریوں کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ آزادریاست کا مطالبہ کشمیریوں کا حق ہے۔

کشمیریوں کو حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ الحاق پاکستان سے چاہتے ہے یا پھر ایک آزاد ریاست کا قیام؟ بھارت کے ساتھ الحاق تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیوں کہ 72 سال سے بھارت کشمیریوں پر جو ظلم ڈھا رہا ہے وہ پوری دنیا کو پتہ ہے گزشتہ چند سال سے بھارت نے مظلوم کشمیریوں پر ظلم ڈھاتا ہے ان میں تیزی ہوئی ہے اور اس طرح کشمیریوں کا آزادی اور الحاق پاکستان سے دلی لگاؤ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ رہی بات پاکستان کی تو پاکستان ہمیشہ سے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑا رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

Facebook Comments HS