کیا آزادانہ سوچ ایک سراب ہے؟
صدیوں سے فلاسفرز اور اہل علم کو فری ول پر اتفاق رہا ہے، ان کے بقول ہمارے اخلاق اور درست و غلط چننے کا انتخاب فری ول پر منحصر ہے۔
عظیم فلسفی کانٹ کے مطابق اگر ہم اپنے انتخاب میں آزاد نہیں ہیں تو ہم یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہمیں سیدھا راستہ منتخب کرنا ہے۔ آج کے دور میں فری ول کا الحاق ہر سیاسی ادارے اور سزا و جزا دینے والے نظام میں لاگو ہوتا ہے اس یقین کے ساتھ کہ کوئی شخص بھی اپنی من پسند زندگی بنانے اور سنوارنے میں آزاد ہے۔ جیساکہ باراک اوبامہ نے اپنی کتاب ”AUDACITY OF HOPE“ میں لکھا ہے کہ امریکی عوام کی جڑیں فری ول پر انحصار کرتی ہیں۔
کوئی انسان جو اپنی مرضی سے اپنی نیوز چینل تبدیل کر سکتا ہو اس کی فری ول پر منحصر ہے۔
اب یہاں ایک عجیب سا موڑ آتا ہے کہ آپ جسے فری ول سمجھ رہے ہیں وہ محض ایک دھوکا ہے۔ یہ دعویٰ سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ پروان چڑھا ہے اور یہ تبدیلی ایک فکری انقلاب کا تسلسل ہے جو تقریباً 150 سال پہلے شروع ہوا جب چارلس ڈارون نے اپنی کتاب ORIGIN OF SPECIES لکھی، ٹھیک اس کے بعد اس کے کزن گالٹن نے اس کی توجیہ پیش کی کہ اگر ہم ارتقاء پذیر ہوئے ہیں تو یقیناً ہماری ذہانت بھی ہمیں وراثت میں ملی ہے۔
گالٹن نے ایک بحث کا آغاز کیا جس میں فطرت بمقابلہ پرورش پر دلائل دیے گئے۔
کیا ہماری حرکات اور امور ہماری وراثت پر منحصر ہیں؟
کیا ماحول کا اثر ہمارے فیصلوں پر ہوتا ہے؟
ان دونوں سوالات یا خیالات کے بارے میں بہت متاثر کن ثبوت سامنے آتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی واقعہ کسی علت کے سبب ہے، حالیہ دہائیوں میں دماغ کی ساخت اور اس کے کام کرنے کے بارے میں تحقیق نے گالٹن کی بحث کو حل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ دماغ کے سکیں نے ایک زندہ شخص کی کھوپڑی کے اندر دیکھنے کے قابل بنایا ہے، نیورانز کے پیچیدہ نیٹ ورکس کا انکشاف ہوا ہے۔
سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ نیٹ ورکس ماحول اور جینز دونوں سے تشکیل پاتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات بھی بیان کی گئی کہ کہ نیورانز کی فائرنگ ہماری سوچ، خواب اور امید متعین کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے دماغ کی کیمسٹری میں تبدیلی ہمارے رویوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسا کہ الکوحل کا استعمال اپنا مخصوص اثر رکھتی ہے۔
اسی طرح دماغ کی ساخت کے بارے میں یہ بات درست ہے کہ pedophiles اپنے دماغ میں بننے والی رسولی کی وجہ سے بچوں کو ریپ کرتے ہیں، غرض ہم اپنے دماغ کے gray area پر انحصار کرتے ہیں۔ امریکی فزولوجسٹ لیبٹ نے سن 1980 میں یہ مظاہرہ کیا کہ ہماری کوئی آزاد مرضی نہیں ہے ان کے بقول اگر کوئی انسان کسی شعوری حرکت کا ارادہ کرے اس سے پہلے ہی دماغ میں اس کام کو کرنے کی تعمیر ہو جاتی ہے۔
20 ویں صدی کے فطرت بمقابلہ پرورش کے مباحثے نے کہ ہم خود کو کنٹرول کر سکتے ہیں یا نہیں، ہر ایک انسان کے لیے ایک فکری سوچ چھوڑی ہے۔
نتیجہ یہی اخذ ہوتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کے پیچھے ہمارا ماحول اور ہماری جینز ہیں، ہماری آزادانہ مرضی اسی پر منحصر ہے اور ہم سب ان پر انحصار کرتے ہیں۔


