حکیم سعید شہید کا ہمارے گھر آنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بڑے ابا مرحوم نے گھر کی دہلیز پر موٹر سائیکل سٹینڈ پر لگائی اور کہا: امتیاز کو جلدی سے بلاؤ! امتیاز چچا مرحوم عموماً تیار رہتے تھے کہ معمول تھا، ہر جمعۃ المبارک کو ڈاکٹر عبد الحئی رحمہ اللہ کا بیان سننے جانا ہوتا تھا۔ چچا نے کہا: پانچ دس منٹ اور لگیں گے۔

بڑے ابا کو جواب سے آگاہ کرتے ہوئے، موٹر سائیکل کی ٹنکی پر ہاتھ پھیرا تو بڑے ابا مرحوم نے موٹر سائیکل پر بٹھا کر ایک پھیرا گلی کا لگا دیا۔ موٹر سائیکل پر بیٹھنے کا لطف اپنی جگہ اور فخر سے محلے کے بچوں کو دیکھنے کا اپنی جگہ۔ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے یہاں سے واپسی پر بڑے ابا مرحوم اگر فشریز سے مچھلی لے کر آئے ہوتے، تو کھانا پھوپھی کے یہاں کھاتے اور چچا مرحوم گھر کے بچوں بڑوں کو بتاتے کہ آج کیا بیان ہوا۔ جو دادی اماں مرحومہ شوق سے سنتی تھیں۔

نانا اور نانی جان مرحومہ کی کراچی آمد جلد متوقع تھی۔ نانی اماں مرحومہ ہم بچوں کو چپکے چپکے بتاتی تھیں کہ جھوٹ کبھی نہیں بولنا کہ نانا جان مرحوم کو بذریعہ کشف سب پتا چل جاتا ہے۔ جولائی 1977 میں بعد مغرب دو ٹرک یکے بعد دیگرے گلی میں داخل ہوئے۔ جس میں نانا جان مرحوم کے گھر کا سامان تھا۔ چارپائیاں، چوکیاں، ٹرنک اور ادائیگی نماز کے تختے سامان کا نمایاں حصہ تھے۔ دو چار دن بعد نانا و نانی جان مرحومہ بھی ڈومیلی سے تشریف لے آئے۔ یوں گھر کی رونق کو چار چاند لگ گئے۔ عزیز و اقارب کی آمد کا ایک تانتا سا بندھ گیا۔ نانا جان مرحوم کے بھانجے اور بھتیجے تو ہر دم ان پر جان چھڑکنے کو آمادہ رہتے۔

بغرض علاج معالجہ نانی جان مرحومہ نانا جان مرحوم کراچی مستقلاً تشریف لائے تھے کہ اسلام آباد کے نامی گرامی ڈاکٹر صاحبان کے علاج سے نانی جان مرحومہ کو کامل افاقہ نہ تھا۔ نانی جان کا کراچی میں ڈاکٹر حامد شفقت ماہر امراض قلب اور ڈاکٹر عبد الرب ماہر امراض سینہ جیسے نامی گرامی معالجین سے علاج جاری تھا۔ نانی جان مرحومہ کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا خیال رکھنا اور ڈاکٹر صاحبان کے پاس لے جانا امی کی ذمے داری تھی۔ میں اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ بذریعہ بس علی الصبح ہر ہفتے منڈی جاتا اور قندھاری و بے دانہ انار، سیب اور دیگر پھلوں سبزیوں کے علاوہ بہن کی فرمائش پر جنگل جلیبی، املی، بادام اور بیر لے کر آتا۔ سیب اور انار کا رس با قاعدگی سے نانی جان کو دیا جاتا۔

نانا جان مرحوم کے تقوی کا یہ عالم تھا کہ وہ، وہ پھل نہ کھاتے تھے۔ جن کے باغوں کا ٹھیکہ پھل آنے سے پہلے طے پا جاتا تھا۔ ذبیحہ بھی گھر میں ہو تو مرغی گوشت کھاتے تھے یا پھر مچھلی۔ مچھلی اور مرغی کے کباب اور کوفتے بچپن میں بہت کھائے۔ مرغی لانا اور ذبح کے وقت پاپا مرحوم کا ہاتھ بٹانا میرا دل چسپ مشغلہ تھا۔ نانا جان کو کہیں بھی لانے لے جانے کی ذمے داری مجھ سے بڑے بھائی اور میری تھی۔ مغرب سے پہلے کھانا لے کر مسجد فلاح شمالی ناظم آباد پہنچ جاتا۔ مغرب کے بعد نانا جان کھانا کھاتے اور عشاء پڑھا کر گھر واپسی۔ کہیں دور آنا جانا ہو تو مجھ سے بڑے بھائی ساتھ جاتے۔ یہاں تک کہ مجھ سے بڑے بھائی کے ساتھ چرچ بھی گئے اور نانی جان مرحومہ کے لئے دعا بھی کروائی۔

بس میں نانا جان مرحوم کے ساتھ پاپوش نگر ایک مطب پہنچے۔ طبیب انتہائی خوب صورت اور نورانی چہرے والے بزرگ تھے۔ دونوں بزرگوں میں کیا گفت و شنید ہوئی۔ وہ تو معلوم نہیں، لیکن ایک دوسرے کے لیے ادب و احترام نمایاں تھا۔ گھر پہنچ کر امی کو بتایا کہ کہاں گئے تھے، تو امی نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کا مطب ہے۔ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ، مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز بیعت تھے، تو نانا جان مجاز صحبت۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی رہائش بلاک ایف شمالی ناظم آباد میں تھی۔ اور نانا جان مرحوم کراچی آمد کے بعد جس مسجد میں امام مقرر ہوئے۔ وہ بلاک ایچ شمالی ناظم آباد میں واقع ہے۔ قرین قیاس و گمان یہی ہے کہ نانا جان کی بطور امام تقرری میں ڈاکٹر صاحب کا دخل رہا ہوگا۔ ڈاکٹر صاحب کے عقیدت مند و مرید نانا جان کا بھی نہایت ادب و احترام کرتے تھے۔

حافظ الیاس رحمہ اللہ علیہ ہمدرد میں کام کرتے تھے اور حکیم سعید مرحوم کے کزن بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے معتقدین میں حافظ الیاس بھی شامل تھے۔ وہ بھی نانا جان سے رابطے میں تھے۔ نانا جان ہر وقت نانی جان کے بہتر سے بہتر علاج اور صحت یابی کے لیے فکر مند رہتے تھے۔ حافظ صاحب رحمہ اللہ بھی نانی جان کی طبیعت کی خرابی سے آگاہ تھے۔

حکیم سعید مرحوم اپنے معمولات کے انتہائی پابند تھے۔ ہمیشہ سفید و اجلا لباس اور جوتا استعمال کرتے تھے۔ اور مریضوں کو مطب پر بعد نماز فجر دیکھتے۔ ایک شام اطلاع ملی کہ حکیم سعید بروز جمعہ صبح دس بجے نانی جان کا طبی معائنہ کریں گے۔ گھر کی صفائی اور بچوں کے صاف ستھرے لباس پر خصوصی توجہ دی گئی۔ حکیم صاحب کے لیے کھانے پینے کی عمدہ اشیاء پکائی اور منگوائی گئیں۔ وقت مقررہ پر حکیم صاحب تشریف لائے اور نانی جان کی بیماری کا تفصیلی حال احوال پوچھ کر نسخہ تجویز کیا۔

اسی دوران میز پر چائے اور کھانے پینے کی اشیاء سجا دی گئیں۔ لیکن حکیم صاحب نے کسی بھی چیز کو ہاتھ نہ لگایا اور فرمایا: اس وقت کھانا پینا میرے معمول میں شامل نہیں ہے۔ حکیم سعید کے بچوں کے لیے لکھے گئے، 27 مختصر سفر ناموں پر مشتمل سیٹ جب بچوں کے لیے خریدا اور پڑھا تو معلوم ہوا کہ حکیم صاحب کے معمولات میں روزہ بھی ایک طویل عرصے شامل رہا ہے۔

جمعے کی نماز کے بعد گھر کی طرف رواں دواں تھے۔ پڑوسی دوست منیر بھاگتا ہوا آیا اور اطلاع دی کہ نانی جان کا انتقال ہو گیا ہے۔ بھاگم بھاگ گھر پہنچے تو نانی جان کو حالت سجدہ میں پایا۔ ہمشیرہ کی ذمے داری امی نے لگائی ہوئی تھی کہ جب نانی جان سلام پھیر لیں تو اطلاع دے۔ تاکہ ان کو کھانا دیا جا سکے۔ جب کافی وقت بیت گیا تو امی نے بہن کو ڈانٹا: کھیلتی کودتی پھر رہی ہو، اب تک بتایا کیوں نہیں کہ نانی جان نے نماز پڑھ لی کہ نہیں۔

بہن نے صورت حال سے آگاہ کیا۔ امی نے جب خود جا کر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ نانی جان اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ ستمبر 1978 میں نانی جان کا انتقال ہوا۔ نانا جان نے ڈومیلی سے اسلام آباد اور پھر کراچی تک نانی جان کے بہتر سے بہتر علاج کی سر توڑ کوشش کی۔ بالآخر نانی جان کے سفر زیست کا اختتام کراچی میں ہوا۔ نانا جان رحمہ اللہ کی رہائش کئی سال تک اس کے بعد بھی ہمارے ہی گھر رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •