مجھ پر ایک اور ٹھپہ لگ چکا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی بڑی مشکل سے نارمل ہوئی تھی۔ میں نئے ملک، نئی زبان، نئے لوگ اور نئے ماحول سے رفتہ رفتہ آشنا ہو رہا تھا۔ تحفظ ملا تو اطمینان اور خوشی کا احساس بھی ہونے لگا۔ تعلیم تھی، اچھا جاب تھا۔ ایک گرل فرینڈ بھی تھی جس سےمحبت بھی تھی اور ہم آہنگی بھی تھی۔ وہ ایک سرکاری ادارے میں کام کرتی تھی۔ میرا ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ اور ایک چھوٹی سی گاڑی تھی۔ ایک رات میں کوڑے کا کین پاہر رکھنے گیا تو دیکھا کہ ایک گاڑی وہاں پارک ہے اور اس میں لوگ بیٹھے ہیں اور میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ یہاں کیوں ہیں؟ یہ کیا کر رہے ہیں؟ مجھے وہ کچھ مشکوک سے لگے اور مجھے ایک ہلکی سے بے چینی نے آ لیا۔ میں نے اس گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا۔ اگلے چند دن اسی الجھن میں گذرے۔ گاڑی اور اس میں بیٹھے لوگوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ پھر کچھ اور مشکوک قسم کی گاڑیاں نظر آنے لگیں۔ میں نے ان سب کے نمبر نوٹ کرنے شروع کر دیئے۔ میرا فون گاڑیوں کی فوٹوز اور نمبرپلیٹوں سے بھر گیا۔ مجھے لگا کہ میری نگرانی کی جارہی ہے۔ لوگ چھپ چھپ کے دیکھ رہے ہیں۔ ہر دن کے ساتھ یہ احساس بڑھتا چلا گیا۔ وحشت میں اضافہ ہوتا رہا۔ پولیس کی گاڑی سائرن بجاتی گذرتی تو میں گھبرا کر رک جاتا۔ کوئی چلتے میں ٹکرا جاتا تو خوفزدہ ہو کر اپنا جسم ٹٹولنے لگتا کہ کہیں کوئی حملہ تو نہیں ہو گیا۔

ایک رات سوتے سے اچانک اٹھ بیٹھا۔ شدید بےچینی اور سانس لینے میں تکلیف۔ ایسا لگا کہ کوئی یہاں ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے۔ کوئی چھپ کر میری ہر حرکت کا جایئزہ لے رہا ہے۔ ہر بات سن رہا ہے۔ خوف سے مجھے پسیینے آنے لگے۔ میں نے پورا کمرا چھان مارا۔ مجھے یقین تھا کہ یہاں کوئی کیمرا یا مایئکرو فون نصب ہے جس کے ذریعہ میری نگرانی کی جا رہی ہے۔ مجھے لگا کہ میرا کمیوٹر، فون اور ٹی وی ان کے ذریعے سے مجھے دیکھا اور سنا جا رہا ہے۔ مجھے خوف اور دہشت نے گھیر لیا۔

میں نے خود سے سوال کرنے شروع کر دیئے کہ یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں جو مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہر حرکت کی نگرانی کر رہے ہیں۔ مجھے لگا کہ شاید یہ حکومت کے لوگ ہیں جو میری جاسوسی کر رہے ہیں۔ یا شاید جس عقیدے اور نظریے کی وجہ سے بھاگ کر میں یہاں آیا میرے وہی مخالف میرا پیچھا یہاں بھی نہیں چھوڑ رہے۔

 میری گرل فرینڈ سارا نے بھی میری پریشانی بھانپ لی۔ جب ہم باہر جاتے تو میں چوکنا ہو کر ادھر ادھر دیکھتا اور اس سے پوچھتا” وہ گاڑی دیکھی تم نے؟ اس میں کچھ مشکوک سے لوگ بیٹھے تھے۔۔۔ دیکھا تم نے؟ یہ گاڑی تیسری دفعہ ہمارے قریب سے گذری ہے۔” وہ ادھر ادھر نظریں دوڑاتی۔ ایک بار ہم ساحل سمندر پر گئے تو میں نے فورا ہی دیکھ لیا کہ دو کالی عینکوں والے نظر بچا بچا کر ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ میرا سارا وقت بے چینی میں گذرا۔ ایک شام ریسٹورنٹ میں ڈنر پر گئے تو ایک میز پر اکیلے بیٹھے شخص کو دیکھتے ہی میں سمجھ گیا کہ وہ یہاں ہماری نگرانی کے لیئے آیا ہے۔ میں نے سارا سے چپکے سے کہا” چلو کہیں اور چلتے ہیں۔” ہم ایک اور جگہ کھانا کھانے پہنچ گئے۔ کھانے کے بعد باہر نکلے تو ایک گاڑی پر نظریں جم گیں۔

 “ وہ یہاں بھی آ گئے “۔ میرے قدم جیسے جم سے گئے۔ جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔

 “ کون؟ “ سارا نے حیرت سے پوچھا۔ وہی لوگ جو دن رات میری نگرانی کر رہے ہیں۔ کبھی کسی بھیس میں آتے ہیں کبھی کسی میں۔ جہاں بھی میں جاؤں کوئی نہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہوتا ہے “ وہ حیرت سے مجھے دیکھتی رہی

 “ یہ لوگ کون ہو سکتے ہیں؟ کیا چاہتے ہیں تم سے؟ ““ پتہ نہیں “ میں اور کیا کہتا۔

ایک شام ہم دونوں ٹی وی پر فلم سے محظوظ ہو رہے تھے کہ اچانک مجھے شدید قسم کی ایک بے چینی نے گھیر لیا۔ میں نے اپنی کھڑکی کا پردہ ہٹایا اور میرا سانس رکنے لگا۔” دیکھو۔ وہ میری نگرانی کر رہے ہیں “ سارا بھی کھڑکی سے باہر جھانکے لگی۔ اس نے بھی وہ گاڑی دیکھی گاڑی میں بیٹھا آدمی بھی اسے نظر آ گیا” کیا تمہیں یقین ہے وہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے؟ ““ ہاں بالکل۔ ورنہ وہ یہاں کیوں ہے؟ “ میں اداس اور پریشان رہنے لگا اور سارا میری اس کیفیت سے پریشان تھی۔ ایک وقت آیا کہ میں نے ایک پستول خریدنے کا بھی سوچا۔ کہ اس سے پہلے کوئی مجھ پر حملہ کرے میں اسے ختم کردوں۔ کبھی لگتا کہ میں میں نہیں ہوں، کوئی اور ہوں۔

جب میرے خوف کی کیفیت میں اضافہ ہوتا گیا تو میں نے اپنی عبادت گاہ جانا شروع کیا۔ وہاں کے ایک عالم کو اپنی بے چینی کی داستاں سنائی وہاں سے یہ جواب آیا کہ مجھے مذہب میں پناہ لینی چاہئے۔ عبادت کروں، اپنا زیادہ سے زیادہ وقت مسلک کی کتابیں پڑھنے میں صرف کروں۔ میں نے یہ سب بھی کیا۔ خود کو تلقین بھی کی کہ اب میں بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ لیکن حقیقت یہ نہیں تھی۔ میں نے وہاں جانا بھی چھوڑ دیا۔

ایک دن سارا مجھے ساتھ لے کر اپنی ماں کے گھر گئی جو ڈاکٹر ہے۔ ماریت ایک دھیمے مزاج کی ہمدرد انسان ہے۔ مجھے ہمیشہ اس سے مل کر ایک عجیب قسم کے تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ ماریت ہمیں دیکھ کر خوش ہوئی۔ کچن ٹیبل پر کافی پیتے ہوئے سارا نے کہا۔” انہیں بتاو کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے “ میری ہتھیلیاں بھیگنے لگیں لیکن میں نے ہمت کی۔

۔” کچھ لوگ میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ میری نگرانی کرتے ہیں۔ میں کہیں بھی جاؤں کوئی نہ کوئی میرے پیچھے آتا ہے۔” ماریت نے میری بات تحمل سے سنی۔ مجھے لگا کہ وہ بہت کچھ پہلے سے جانتی تھیں۔ سارا نے انہیں میری حالت سے باخبر کر دیا تھا۔

 “ تمہارا کوئی دشمن ہے کیا؟“ ماریت نے تشویش سے پوچھا تو میں زور سے ہنس پڑا اور پھر رو پڑا۔ بائیس کروڑ میں سے چند کروڑ تو ضرور ہوں گے۔

 “سارا وہ لوگ تم نے دیکھے ہیں نا ؟ میں یونہی تو نہیں کہہ رہا۔ بولو تم نے دیکھا ہے نا انہیں؟ “

 “ ہاں میں نے لوگ دیکھے ہیں لیکن وہ تمہاری نگرانی کر رہے ہیں یہ بات مجھے درست نہیں لگتی۔”

میں اداسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ اس بات کا دکھ ہوا کہ سارا میری بات کی نفی کر رہی ہے اور ساتھ ہی ہلکا سا اطمینان بھی کہ میرا شک بے جا ہے۔ کوئی میرے پیچھے نہیں پڑا ہوا۔

 “ میری مدد کریں۔” میں نے سارا اور ماریت سے التجا کی۔

 وہ دونوں میرا پہلا سپورٹ گروپ بن گیں۔ میرے ساتھ مل کر دونوں نے انٹر نیٹ پر اس بارے میں چھان بین شروع کر دی۔ جو کچھ وہاں پڑھا وہ مجھے ہولا رہا تھا۔ اگلا قدم اس مسلئہ کا باقاعدہ حل نکالنے کا سوچا۔ مجھے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ شاید یہ سب میرے اپنے دماغ کی اختراع ہے۔ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ لیکن پھر وہ سب لوگ کون ہیں؟ وہ گاڑیاں جو میرے اپارٹمنٹ کے پاس پارک ہوتی ہیں وہ انجانے لوگ جو میرا پیچھا کرتے ہیں وہ صرف میرا خیال نہیں وہ تو سچ مچ ہیں۔ لیکن اب میں خود بھی شک میں تھا۔

اس کے بعد کا مرحلہ تھا ایک معروف سایئکاٹرسٹ کا اپاینٹمنٹ حاصل کرنا۔ وقت مل گیا اور سارا میرے ساتھ گئی۔ میں ڈرا ہوا تھا کہ میرا مذاق بنے گا۔ لیکن سایئکاٹرسٹ نے پوری توجہ سے میری بات سنی۔ نوٹس لیتا رہا۔ اور سوال بھی کرتا رہا۔ گھر آ کر مجھے ایک اور کیفیت نے گھیر لیا۔ کیا میں پاگل ہونے والا ہوں؟ کیا میں سچ مچ پاگل ہوں؟ کیا میرا علاج ممکن ہے؟

ڈاکٹر نے میری خاندانی میڈیکل ہسٹری جاننا چاہی۔ اور یہ بھی کہ کیا میں زندگی میں کسی ٹروما سے گزرا ہوں۔ اس کے اس سوال نے مجھے لرزا دیا۔ میں تو یہ سب بھلا دینا چاہتا تھا۔ اگلی بار اکیلا گیا اور میں نے دل کھول کر رکھ دیا۔

 میں پاکستان سے فرار ہو کر یہاں تک آیا ہوں۔ تعلق میرا اس فرقے یا اس مذہب سے ہے جس پر ہر کوئی پتھر مارنا اپنا مذہبی حق بلکہ فرض سمجھتا ہے۔ میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن کسی یونیورسٹی جاتے ہوئے ڈرتا تھا۔ میری زندگی ایک شہر کے ایک محلے تک محدود ہو کر رہ گئی۔ اسکول کے ٹیچر سے لے کر پڑوسی تک سے خوفزدہ رہتا تھا۔ کلاس میں، یا باہر کچھ کہتے ہوئے ڈر لگتا تھا کہ کہیں کسی بات کو لے کر مجھ پر کوئی فتوی یا الزام نہ لگ جائے۔ گھر والے میری ہمت بندھاتے کہ ایک دن سب ٹھیک ہوجائے گا اور ہمیں وہ عزت اور حیثیت مل جائے گی جس کا وعدہ ملک کے آئین میں کیا گیا ہے۔ لیکن مجھے لگتا تھا کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ جو چنگاری سلگائی گئی تھی وہ الاؤ بن چکی ہے اور اس کے شعلوں نے گھروں کے گھر جلا ڈالے۔ میں نے ضد لگا لی کہ مجھے اب یہاں نہیں رہنا۔ میرا دم گھٹتا ہے۔ میری شناخت ایک ٹھپہ ہے جو مجھ پر لگ چکا تھا۔

میرے والدین نے کس مشکل سے میرے جانے کے انتظامات کیئے وہ وہی جانتے ہیں۔ اور جو مشکلات اور کٹھنائیاں میں نے یہاں تک پہنچنے میں جھیلیں وہ میں جانتا ہوں۔ یہ ایک الگ لمبی کہانی ہے۔

سایئکٹرسٹ کی تشخیص کے مطابق میں خوف اور خود فریبی کا شکار ہوں۔ پیرانویا اور ڈیلیوژن Paranoia and delusion. مجھے یہ سن کر بہت برا لگا۔ میری کیفیت کا اتنا خوفناک سا نام مجھے ڈرا رہا تھا۔ اچھی خبر یہ تھی کہ میں شیزوفرینیا کا شکار نہیں ہوں۔ جو میری موجودہ حالت سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ مزید گہرائی میں جا کر اس بیماری کو   پرسیکیوٹری ڈیلیوژن (Persecutory Delusion) کا نام دیا گیا۔

 میرا علاج شروع ہو گیا۔ میرے ذہن میں ہزاروں سوال تھے۔ کیا اب مجھے اس خوفناک حقیقت کے ساتھ عمر گزارنا ہوگی؟ کیا میرے دماغ میں خلل ہے؟ کیا میرے دوست اور جاب کے ساتھی میرے ساتھ امتیازی سلوک کریں گے؟ اور اگر میں اپنے باس کو یہ بات بتا دوں تو کیا میرا جاب برقرار رہے گا؟ اور سب سے بڑھ کر کیا سارا میرے ساتھ زندگی گذارنے پر آمادہ رہے گی۔ سارا نے میرا ساتھ دیا۔ میرے قریبی دوست کچھ کچھ تو پہلے ہی سمجھ چکے تھے میرے کھل کر بتانے سے وہ اور بھی زیادہ میری کیفیت کو سمجھنے لگے۔ میں ایک ہارڈ ویئر اسٹور پر سپروائزر کا کام کرتا ہوں کئی دن لگے مجھے ہمت کر کے اپنے باس کو بتانے میں۔ میری بات سن کر وہ بولا ”کیا تم اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام دے رہے ہو؟ میں نے کہا ہاں۔ “پھر مجھے یہ سب کیوں بتا رہے ہو؟ جاؤ پہلے کی طرح کام کرتے رہو“ اس بات نے مجھے اور بھی حوصلہ دیا۔

علاج کے ساتھ گروپ تھراپی بھی ہوئی۔ یہ دیکھ کر حوصلہ بڑھا کہ میری طرح کے اور لوگ بھی ہیں۔ ہم کھل کر اپنی اپنی حالت بیان کرتے اور کبھی ایک دوسرے سے مذاق بھی کر لیتے۔

سارا کے ساتھ مل کر فلم” دا بیوٹی فل ماینڈ“ دیکھی۔ یہ ایک سچی کہانی پر مبنی فلم ہے۔ مجھے اس میں اپنا آپ تھوڑا سا نظر آیا۔ فلم کے مرکزی کردار کو تو خیالی لوگ نظر آتے تھے۔ مجھے سچ مچ دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ان کے وہاں ہونے کی وہ وجہ نہیں ہوتی جو میں سمجھتا ہوں۔

علاج سخت تھا۔ پہلے جو دوائیں اس مرض میں دی جاتی تھیں ان کے سایئڈ ایفیکٹس بہت ہوتے تھے۔ اب نئی تحقیق کے بعد بہتر دوائیں آ گئی ہیں۔ لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی سایئڈ ایفیکٹ ضرور ہوتا ہے۔ کبھی ہلکی سی دھندلاہٹ ہوتی ہے کبھی میری آنکھیں پوری طرح کھلتی نہیں۔ جیسے کہ شدید روشنی کی چکا چوند میں آنکھیں میچ لیتے ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان دواوں سے بیماری پوری طرح دور نہیں ہوگی۔ اسے کسی حد تک کنٹرول ضرورکیا جا سکے گا۔ میں نے اپنی بیماری کی بات صرف اپنے قریبی لوگوں کو بتائی ہے۔ زیادہ لوگوں سے میں اسے شیئر نہیں کرتا۔ میرے دوست کبھی مذاق کرتے ہیں”اچھا بتاو ابھی تمہیں کوئی نظر آ رہا ہے؟۔۔۔ کسی مشکوک گاڑی میں بیٹھے لوگ ہیں؟ “ میں ہنس دیتا ہوں۔ ہمارے اسٹور میں ایک نیا شخص رکھا گیا۔ سوچا اس سے پہلے کہ کوئی اسے بتائے میں خود ہی بتا دوں۔

 “میں سایئکوٹیک ہوں۔ مجھے پیرانونیا اور ڈیلیوژن ہے“ وہ بولا ”یہ تمہاری بیماری ہے۔ یہ تم نہیں ہو۔ اپنا تعارف کراو۔ “ میں اسے جانتا بھی نہیں تھا لیکن اس کی اس بات نے میرے دل و دماغ پر مثبت اثر ڈالا۔۔ کچھ ایسے ستم ظریف بھی ہیں جو میری بیماری جاننے کے بعد کہتے ہیں”یار ویسے تو تم نارمل نظر آتے ہو “۔ کوئی اب بھی پوچھتے ہیں کہ میں اپنی آنکھیں کیوں میچ لیتا ہوں؟ یا یہ کہ اچانک چونک کیوں جاتا ہوں؟

کبھی کچھ ایسا آپ کے ساتھ ہوا۔ آپ نے کہا ہو”میں افسردہ ہوں“ کسی نے جواب دیا ”نہیں تم بس ذرا سے تھکے ہوئے ہو۔ نازہ ہوا لے لو “

آپ نے کہا”مجھے علاج اور دوا کی ضرورت ہے“ کہا ”بالکل نہیں۔ یہ دوائیوں والے مافیاز ہیں۔ ان کا کاروبار اسی لیے چلتا ہے کہ ہم ذرا ذرا سی بات پر ڈاکٹروں کے پاس بھاگے جاتے ہیں “

 آپ نے پھر اپنی حالت پر کہا ”میرا خیال ہے مجھے کسی ماہر نفسیات کے پاس جانا چاہیئے“ وہاں سے مذاق میں جواب آیا ”واہ بھئی اب تم بھی ان فضول باتوں پر یقین کرنے لگے“

آپ نے ایک بار پھر اپنا کیس لڑا “مجھے لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ میں ٹھیک نہیں ہوں“ اور ایک بار پھر تمسخر بھرا جواب آیا “ایسا کچھ نہیں ہے۔ ایک لمبی واک پر چلے جاو۔ ورزش کر لو۔ اپنی ڈایئٹ کا خیال رکھو۔ ٹھیک ہو جاو گے “

آخری کوشش کی “میرے دماغ میں کچھ عجیب سوچیں ہیں “ “ارے بھئی جانے دو۔ لمبے سانس لو۔ سوچیں مثبت رکھو۔ ہمت سے کام لو “

کیا ان میں سے کوئی بات آپ کو سنی سنی لگتی ہے؟ کیا اپ کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہے؟ اگر آپ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو شاید کسی نے آپ سے اپنی ایسی ہی کیفیت بیان کی ہو اور شاید آپ نے ایسے ہی جواب دیے ہوں۔

یہ بات اب مان لینی چاہئے کہ ذہنی امراض کا وجود ہے۔ یہ صرف ایک خیالی سی بات نہیں۔ کوئی اپنی اس قسم کی کیفیت بیان کرتا ہے تو اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے اکثر اسے یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ یہ کوئی وقتی پریشانی ہے، پڑھائی یا دفتر کا کوئی مسئلہ ہے۔ کوئی بریک اپ ہوا ہے۔ وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا جب آپ سےکوئی اپنی ایسی حالت بیان کرے تو اسے مدد کی پکار سمجھیں۔

اب دو سال گذر گئے ہیں بیماری کی تشخیص ہوئے۔ دوائیں جاری ہیں۔ تھراپی بھی ہوتی ہے۔ سارا اب میری بیوی ہے۔ اور ہمارے ہاں بے بی کی آمد آمد ہے۔ کبھی کبھار میں اب بھی چونک جاتا ہوں۔ کوئی پراسرار سی گاڑی یا کوئی شخص دیکھتا ہوں تو بے قراری سی ہونے لگتی ہے۔ لیکن اب یہ کیفیت مجھ پر حاوی نہیں ہوتی ہے۔ اس کا دورانیہ بھی کم ہو گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے اب میں اپنے آپ میں واپس آ رہا ہوں۔ لیکن دماغی مرض کا ٹھپہ مجھ پر لگ چکا ہے۔ ایک اور ٹھپہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •