صدر ٹرمپ کی بھتیجی کی کتاب لاکھوں میں فروخت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے صدر ڈانلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ کی تازہ کتاب جس کی رونمائی 14 جولائی کو ہوئی تھی پہلے روز ہی اس کتاب کی نو لاکھ پچاس ہزار کتابیں فروخت ہوئی ہیں۔ یوں اس کتاب نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ فروخت میں وہ کتابیں شامل ہیں جن کے آرڈرز اشاعت سے قابل آئے، ای بکس اور آڈیو بکس شامل ہیں۔ کتاب کے پبلشر سائمن اینڈ شوسٹرنے یہ اعداد جاری کیے ہیں۔

میری ٹرمپ عمر 55 کلینکل سائیکالوجی میں ڈاکٹریٹ رکھتی ہیں۔ میری ٹرمپ کی کتاب Too Much Never Enough صدر ٹرمپ کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ یو نیورسٹی میں داخلے کے لئے ٹرمپ کا امتحان SAT Exam کسی اور نے دیا تھا۔ اور یہ کہ ٹرمپ دنیا کا خطرناک ترین انسان ہے۔ میری ٹرمپ نے اپنے چچا کو مشورہ دیا کہ وہ مستعفی ہوجائیں کیونکہ صدر کے جاب کے لئے وہ موزوں انسان نہیں ہیں۔ میری ٹرمپ نے اپنے چچا کو فراڈ اور بولی Fraud and Bully کہا ہے۔ صدر امریکہ میں نرگسیت narcissist۔ کے تمام آثار پائے جاتے ہیں۔ اس کے مقابل صدر خو دکو stable genius کہتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز میں صدر ٹرمپ کے بارے میں ان کے ٹیکسز کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے لئے میری ٹرمپ نے 18 باکسز اخبار کو فراہم کیے تھے۔ امریکہ کا ہر صدر اپنے ٹیکسز کی دستاویزات عام کرتا رہا ہے مگر ٹرمپ آج تک ایسا نہیں کیا۔ چودہ ہزار الفاظ پر مشتمل اس رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جائیداد کی قیمت زیادہ بتائی گئی تھی۔

اس کتاب کی اشاعت سے دو ہفتہ قبل ٹرمپ کے سابق نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن کی کتاب The Room Where It happened کی سات لاکھ پچاس ہزار کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔

صدر ٹرمپ کے بارے میں اورکتابیں بھی رکارڈ توڑ چکی ہیں جیسے شہرہ آفاق جر نلسٹ باب ووڈورڈ کی کتاب FEARکی پہلے روز نو لاکھ کاپیاں فروخت ہو ئی تھیں۔ اسی طرح مائیکل وولف کی کتاب Fire and Fury کی پہلے مہینہ میں سترہ لاکھ کتابیں فروخت ہوئی تھیں۔

ٹرمپ، اس کی فیملی اور اس کے حواریوں نے ایسی کتابوں کی اشاعت پر پابندی لگانے کی کوشش کی مگر بجائے اس کے کتاب کو اور بھی شہرت حاصل ہوئی۔ میری ٹرمپ کی کتاب کو روکنے کے لئے صدر کے بھائی رابرٹ نے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا مگر ناکامی ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •