شاہکار موٹر بائیک



اس شاہکار موٹر بائیک پر بیٹھا انسان موصوف ہے۔ برنس روڈ کراچی پر کھڑا ہوں۔ اپنے پٹھان دوست میزبان کو میں نے بتایا کہ میں آج کلفٹن کی سیر پر جانا چاہتا ہوں۔ تمام فیز I۔ II۔ III گھومنے کا ارادہ ہے۔ فرمانے لگے کیوں نہیں بائیک ہے اپنے پاس، خوامخواہ پبلک ٹرانسپورٹ پر خجل ہوں گے۔ بائیک از ہئیر! میں نے بھی کہا بھلا! اور کیا چاہیے۔

قصہ جتنا مختصر ہو سکے لکھوں گا، ویسے تو اس پر کتاب لکھی جا سکتی ہے جس کا عنوان ہو ”ایسی موٹربائیک ہی کیوں؟“

نظر تو آ رہا ہے کہ بائیں سائیڈ کا اشارہ نہیں ہے مگر جو دائیں سائیڈ کا تھا وہ بھی چلتا نہیں تھا۔ ۔ ۔ خیر! اشاروں کا استعمال کر کے کرنا بھی کیا ہے جب کہ اللہ پاک نے بڑے بڑے بازو اور ساتھ دو ہاتھ دے رکھے تھے سو میں نے وہ استعمال کئے۔ جب پتا چلا کہ ہارن بھی نہیں چل سکتا تو میری ”قوت گویائی“ کام آئی۔ میں نے سوچا ہارن تو ویسے بھی ”نائیز پالیوشن“ کا موجب ہیں۔ اس پر بین لگنا چاہیے۔

ابھی پوز مار کر تصویر بنوا کر چلنے کا ارادہ فرمایا کہ پتا چلا پیٹرول ندارد ہے۔ کہنے لگے پاس ای اے پیٹرول پمپ ڈلوا لیتے ہیں۔ میں کہا ہاں بالکل کیوں نہیں۔ فوجداری طریقے سے (دھکا لگوا کر) بائیک سٹارٹ کی اور ان کو کہا لپک کر بیٹھو کہ جس قدر ایندھن ہے ہم پمپ پہنچ ہی جائیں گے۔ مگر میری تمام سپیڈ بیکار گئی کچھ ہی دیر میں آگے ریڑھے والا آ گیا اور بائیک بند!

اس پر میزبان غصے میں آ گئے اور دھکا لگا دیا بائیک کو کہا کہ اب پمپ قریب ہی ہے تم مہمان ہو اوپر ہی بیٹھے رہو۔

اس شاہی انداز میں پیٹرول اسٹیشن میں داخل ہوا تو سب اپنے کام چھوڑ کر مجھے دیکھنے لگے۔ واقعی میزبان کے بقول پمپ نزدیک ہی تھا۔ ۔ ۔ یہی بس 500 میٹر کا فاصلہ رہا ہو گا۔

پیٹرول ڈلوا کر جب بائیک سولویں کک پر چلی تو چلنے کا مزہ ہی آ گیا، پیچھے بیٹھے میزبان نے چلاتے ہوئے کہا، میں کہا تھا نا کہ اپنی بائیک ہو تو بس میں بندہ دھکے کیوں کھائے۔ ۔ ۔ دیکھو ہم نے تمام بسوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کچھ ہی دیر میں، میں بریک لگانا چاہی تو بریک ندارد!

اس سے پہلے کہ میں پریشان ہوتا سامنے کی بریک کو آہستہ سے دبا کر چیک کیا وہ فلی کام کر رہی تھی۔ میں الحمد پڑھی اور ”گوگل میپ“ سے رستہ دیکھتے ہوئے چلنے لگا۔ کیونکہ میرے میزبان پہلے ہی کہہ دیا تھا ”میں پانچ سال سے ادھر ہوں ہی مگر مجھے رستے سمجھ میں نہیں آتا“

Latest posts by عبداللہ محمود (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).