شہر خواب: موسیٰ کلیم دوتانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن پہلے گرمی کی شدت اپنے عروج پر تھی اور شام ڈھلنے کے باوجود تپش ابھی تک برقرار تھی۔ لیکن موسموں کی سختی ہمیشہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے ہی ہوا کرتی ہے اور ان ہی کو جھیلنی پڑتی ہے۔ امراء کی لغت میں تو شاید اس چیز کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا کہ ان کی دولت موسم گرما کو سرما اور جاڑے کو گرمیوں میں بدلنے کی قوت رکھتی ہے۔ اس وحشت خیز گرمی میں جہاں کولر اور ائر کنڈیشنر کے سامنے بیٹھ کر آئس کریم کھاتے ہوئے بھی سیاسی و سرکاری ملازمین کے پسینے چھوٹ رہے ہیں وہاں گڑ گڑ کی ہلکی پھلکی موسیقی سناتے ہوئے واحد پنکھے کے نیچے، دیوان خاص و عام میں ادب کی خوشحالی کے نامہ نگار یعنی محترم خوشحال ناظر اور ظریفانہ شاعری کے علمبردار جناب رحمت اللہ عامر کی موجودگی میں گرما گرم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے ڈیرہ کی مایہ نازعلمی، فکری، ادبی اور محقق شخصیت جناب موسیٰ کلیم دوتانی صاحب نے اپنے پہلے دو مجموعوں ”ادب اور معاشرہ“ اور ”جمال نقوی، فن و شخصیت“ کے بعد اپنی شاعری کا پہلا و تازہ مجموعہ کلام ”شہر خواب“ عنایت کر کے مجھ جیسے نام نہاد ادب پرست کو اس گرمی اور حبس کے موسم میں بھی دلی ٹھنڈک اور تسکین فراہم کی۔

ویسے تو مجھے شاعری کی کبھی مروج بحور یاد ہوئیں نہ کبھی تقطیع کا سر پیر سمجھ آیا۔ الف کیسے چلتے چلتے گر جاتا ہے اور ی کیسے باقی حروف کے نیچے دب جاتی ہے، یہ بھی معمہ ہی رہا۔ پنگل کے اوزان کو اوزان طبعی سمجھنا چاہیے یا عربی کے علم العروض کو رہنما بنانا چاہیے۔ فن معنی اور فن بدیع سے کون سی چڑیوں کا شکار ممکن ہے۔ اجزا، رکن، زحاف، وتد کثرت، وتد مجموع، وتد مفروق، سبب ثقیل اور استدراک وغیرہ کے قبیل کی تراکیب کس ہانڈی میں ڈالی جا سکتی ہیں، ان کے جواب بھی نہیں معلوم۔

لیکن ”شہر خواب“ میں موسی کلیم دوتانی صاحب نے الفاظ و افکار کے پیراہن میں رنگوں کی ایک ایسی دھنک بکھیری کہ جس رنگ کی غزل پڑھیں، نظم پڑھیں، ہائیکو پڑھیں، ماہیے یا قطعات پڑھیں، شعور و ادراک کی پرتیں کھلتی جاتی ہیں۔ شہر خواب واقعی ایک دھنک رنگ ہے۔ اب یہ قاری کے ذوق طبع پر منحصرہے کہ وہ تسکین دل کے لئے کس رنگ کا انتخاب کرے۔ مگر ایک چیز جو موسیٰ کلیم دوتانی کے یہاں صاف طور پر محسوس کی جا سکتی ہے وہ ان کا نکھرا ہوا شفاف انداز ہے جس میں نہ ابہام کی دھند ہے، نہ قنوطیت کے اجاڑ منظر، نہ الفاظ کی وہ تیز کٹارجو ذوق سلیم کو مجروح کر جائے۔ وہ جذبات کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو سلگتی ہوئی آنچ میں تبدیل کرنے کا فن جانتے ہیں۔ وہ قاری کو اپنی طرف گھسیٹنے کے بجائے آہستہ روی سے اس کے قدم بہ قدم چلتے ہیں۔ اسی لئے ان کی شاعری میں ایک مانوس فضا سانس لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

موسیٰ کلیم دوتانی نے اپنے مجموعہ کلام ”شہر خواب“ کے ذریعے زندگی کے عصری شعور کا جائزہ لے کر مشاہدات کا اک جہان سامنے رکھ دیا ہے۔ اس لئے یہ کہنے میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ زندگی کے شاعر ہیں۔ وہ زندگی کے مختلف پرتیں الٹتے ہیں تو معاشرتی اقدارکو اجاگر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ان کے یہاں منظر کی دلکشی کے ساتھ زندگی کی تصویریں ملتی ہیں۔ ان کی غزلوں میں کلاسیکی رچاؤ بھی ہے اور جدت ادا بھی۔ میں تو ببانگ دہل کہوں گا کہ موسی کلیم دوتانی نے اپنے مجموعہ کلام ”شہر خواب“ میں نئے تلازمات اور علائم سے سجی اور سنوری ہوئی شاعری پیش کر کے ادب کی تاریخ میں اپنا ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔

کیونکہ موسیٰ کلیم نے جب غزل کے میدان میں قدم رکھا تو اسے سیراب کر دیا۔ جب نظم کے میدان میں برسے تو اتنا ٹوٹ کر برسے کہ چاروں طرف جل تھل کا منظر پیش کر دیا۔ جب ماہیے کے کھیت میں مشقت کی تو کئی فصلیں کاٹیں اور جب قطعات، سلام و منقبت، سرائیکی و پشتو کی جانب ملتفت ہوئے تو تخلیقی توانائی کے ایسے جھرنے بہائے کہ پانی ہی پانی دکھائی دینے لگا۔ شہر خواب پڑھنے کے بعد یقین کامل ہے کہ قدرت نے تخلیقی اعتبار سے انہیں جن ادبی سوتوں کی محافظت کے لئے مامور کیا ہے وہ کبھی خشک نہیں ہو سکتے۔

ایک سو تیس صفحوں پر مشتمل مجموعہ کلام ”شہر خواب“ پڑھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بہت سے شاعر، ادیب اور دوسرے انسان بھی شدت جذبات کی نہایت پر، خواہ وہ المیہ کیفیت ہو یا طربیہ، کبھی شعوری اور کبھی غیر شعوری طور پر حقیقت سے نظر چرانے کے واسطے اساطیر ی سوچ میں پناہ لیتے ہیں۔ موسیٰ کلیم دوتانی نے نے اسطورہ اور حقیقت کے درمیانی منطقے میں جسے رومان کا علاقہ کہا جا سکتا ہے، اس میں زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی اور یہیں پر زندگی کے جور و جفا سے پنا ہ لی۔ موسیٰ کلیم دوتانی کی ساری شاعری، رومانٹک اور حقیقت نگاری کی ادبی ٹیکنیک تو ہے ہی، مگر اس کے ساتھ جڑے ہوئے شعور کی شاعری ہے جس میں ذاتی یا انفرادی حسیات ہیں اور سماجی تلخیاں اور نظریات بھی۔

اگر آپ موسیٰ کلیم دوتانی کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ ایک منجھے ہوئے انسان کے ساتھ ساتھ لکھاری، افکاری، کرداری، محقق، کالم نگار، فلاسفر، دانشور، شاعر، مصنف، پریمی اورصاحب سنت استاد ہیں۔ خوداری و وضعداری مزاج کا حصہ اور ادب اور ادیبوں سے لگاؤ طبیعت کا خاصا ہے۔ ایک بندے میں اتنی خوبیاں شاذو نادر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ موسیٰ کلیم دوتانی صاحب وقت اور وعدے کے بہت پابندہیں، ان کی یہ صفت ان کی شاعرانہ حیثیت کو خاصا مشکوک بنادیتی ہے۔ موسیٰ کلیم دوتانی کے مجموعہ کلام شہر خواب سے ایک غزل

گھر کا نہیں ہے اس پہ مکانوں کا بوجھ ہے
ہاں نسل نو پہ آج زمانوں کا بوجھ ہے
چلنا مرا محال ہوا، رک گیا سفر
شانوں پہ مرے کون سے ہاتھوں کا بوجھ ہے
اس واسطے وہ پل مجھے کوہ گراں لگے
لمحوں کے بازؤں پہ جو صدیوں کا بوجھ ہے
منزل قریب آ گئی موسیٰ کلیم ؔ کی
اس کے بدن پہ آخری سانسوں کا بوجھ ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •