احمد رشدی نے پلک جھپکتے، ہمیں صحافی بنا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ خبر کیسے ہم تک پہنچی، یہ تو یاد نہیں کیوں کہ وہ زمانہ محض ایک چینل کا تھا اور ٹکر کا تصور بھی تب تک وجود میں نہیں آیا تھا، جس کی تکرار کبھی نہ کبھی دیکھنے والے کی توجہ حاصل کر ہی لیتی ہے۔

ضرور یہ خبر کسی اخبار میں ہی دیکھی گئی ہو گی کیوں کہ اپنی دلچسپی کی خبریں آدمی سے کہاں دور رہ سکتی ہیں۔ اور یہ خبر اتنی غیر اہم بھی نہیں تھی کہ اسے کہیں ڈھونڈنا پڑتا۔ احمد رشدی کو دل کا دورہ پڑنے کی خبر یقیناً فلم اور موسیقی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے شدید تشویش کا باعث تھی۔ ہمیں بھی یہ جان کر دکھ اور گھبراہٹ طاری تھی کہ وہ آواز جو ہمیں سنیما سکرین، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈ پر اس قدر لطف دیتی ہے، اسے یہ کس آزمائش نے آ گھیرا ہے۔

( ٹی وی کی نشاندہی اس لے نہیں کی کہ تب تک نئی نسل کے فنکار وہاں جگہ بنا چکے تھے)

احمد رشدی نے مقبولیت اور پسنددیدگی کا وہ دور بھی دیکھا کہ پاکستان کی اردو فیچر فلموں میں ایسی فلمیں کم ہی ہوتی تھیں جن میں ان کے طربیہ اور مہدی حسن کے المیہ نغمے نہ شامل ہوں۔ اس سادہ زمانے میں پبلسٹی اور تشہیر کے وہ گر ابھی دریافت نہیں ہوئے تھے جو اس کمرشل عہد نے توجہ اور کامیابی کے حصول کے لئے وضع کیے ہیں۔ محض ریڈیو ( یا پھر کیسٹس ) نئے نغموں سے تعارف کے دستیاب ذرائع تھے۔ ریٹنگ اور ٹاپ ٹین چارٹ سے نابلد زمانے میں، ریڈیو سے فرمائشی گانے کی قبولیت یعنی نشر ہونے کی خوشی ایسے تھی جیسے آپ کا پرائز بانڈ نکل آیا ہو۔

سو طے ہوا کہ اس نیک کام میں تاخیر نہ کی جائے اور ان کی عیادت جس قدر جلد ممکن ہو، اس کے لئے روانہ ہوا جائے۔ اپنے کلاس فیلو طاہر نور سے مشورہ کیا تو انھوں نے فوری عملدرآمد کی تائید کی۔ یوں ایک روز یونیورسٹی کے پوائنٹ سے اپنے رہائشی علاقوں کی بسوں کی بہ جائے، ناظم آباد کی بس کا انتخاب کیا گیا جو ہمیں عباسی شہید ہسپتال لے جا سکتی تھی جہاں، ان خبروں کے مطابق احمد رشدی زیر علاج تھے۔

کراچی یونیورسٹی سے ناظم آباد کا فاصلہ اتنا مختصر نہ تھا، مگر احمد رشدی سے ملنے کی دھن میں ہم گردونواح سے بے خبر تھے اور کب کہاں، بس کس کے لئے اور کیوں رک رہی ہے، اس سے یکسر لاتعلق ہو کر ہمارے ذہنوں میں احمد رشدی کے ان گنت گانوں کا مونتاج، مسلسل رواں تھا۔

احمد رشدی کی شناخت کا سفر، مہدی ظہیر کی لازوال دھن ”بندر روڈ سے کیماڑی، چلی ہے میری گھوڑا گاڑی، بابو ہو جانا فٹ ہاتھ پے“ سے شروع ہوا۔ بچوں کے لیے گائے گئے اس نغمے کی شہرت اور قبولیت اس قدر ہم گیر اور گہری تھی، کہ اسے سامعین کی ہر سطح پر سراہا گیا۔ اس نغمے کی معنویت سے بھرپور شاعری بھی، ہمہ جہت شخصیت مہدی ظہیر ہی کے شعری ذوق کا نتیجہ تھی۔

ریڈیو سے فلم کی پلے بیک گائیکی کے سفر نے پھر وہ سریلے گیت جنم دیے جو آج بھی اسی طرح کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ ”گول گپے والا ہو“ یا ”چاند سا مکھڑا گورا بدن“ ، ”حال دل ہم نے سنایا تو برا مانو گے“ ہو یا ”آج اس شہر میں، کل نئے شہر میں، سوکھے پتوں کی مانند اڑاتا رہا، شوق آوراگی ”سب ایک سے بڑھ کے ایک!

سکرین پر احمد رشدی اور وحید مراد کے ملاپ نے خاص طور پر ا یسے رسیلے اور دل موہ لینے والے نغمے تخلیق کیے جنہیں بجا طور پر بے مثال اور با کمال قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی سب سے شاندار مثال فلم ”ارمان“ اور ”دوراہا“ ہیں جن میں احمد رشدی اور وحید مراد کی پرفارمینس، واقعتاً سننے اور دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

اور اب ہم عباسی شہید ہسپتال میں اپنی منزل کی طرف گامزن تھے۔ پوچھتے پاچھتے، ایک فلور پے مطلوبہ کمرے کی تلاش شروع کی اور خوش قسمتی سے، کچھ ہی دیر میں وہ کمرہ ہمارے مقابل تھا۔ مگر ساتھ ہی، دروازے پر آویزاں، ایک دل شکن نوٹس نے ہمارا استقبال کیا ”ملاقاتیوں کو مریض سے ملنے کی اجازت نہیں ہے“ ۔

ظاہر ہے، یہ تحریر ہماری حوصلہ شکنی کے لئے کافی تھی، ہمیں یوں لگا جیسے ہماری ساری تگ و دو اور اظہار تعلق ضائع ہونے کو ہے۔ تجسس میں ہم نے کمرے کے دروازے سے کان لگائے تو یوں لگا جیسے لوگ، اندر گفت و شنید میں مصروف ہیں۔ یہ صورت حال ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے کافی تھی۔ فوراً ڈائری سے ایک ورق علیحدہ کیا اور اس پر اپنے ہنگامی خیالات منتقل کر دیے ”ہم یونیورسٹی سے اتنی مسافت طے کرکے، عیادت کے لئے یہاں پہنچے، مگر یہ نوٹس دیکھ کر اور کمرے کے اندر شوروغل کی آوازیں سن کر ہمیں بہت افسوس ہوا“ ۔

کاغذ کے کمرے میں داخل کرنے کے کچھ ہی دیر بعد کمرہ کھلا اور ایک ڈاکٹر، ایک نرس اور ان کے ساتھ ایک اور صاحب کمرے سے برآمد ہوئے۔ ان صاحب نے ہم سے پوچھا ”یہ رقعہ آپ کا ہے“ ہماری تائید پر انھوں نے کمرے کے اندر آنے کو کہا۔ غالباً وہ احمد رشدی کے بھائی ارسلان تھے۔

احمد رشدی صاحب نے ہمیں خوش آمدید کہتے ہوئے، گپ شپ کے دوران یہ جاننا چاہا کہ ہم کس مضمون کے طالب علم ہیں۔ ہم نے جب شعبہ صحافت کے نشاندہی کی تو وہ مسکرائے اور بولے ”لیجیے! آپ تو صحافی بن ہی گئے۔ دیکھا آپ نے کمرے میں صرف ڈاکٹر اور نرس باتیں کر رہے تھے اور آپ نے اسے“ شوروغل ”بنا دیا۔

یقیناً ہمارے پاس خاموشی کے علاوہ کوئی جواب نہ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •