کیا پاکستان نے شملہ معاہدہ سے عملاً دستبرداری کا اعلان کر دیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ سال پانچ اگست 2019 کو مودی سرکار نے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصہ جموں و کشمیر کہلایا اور دوسرے حصے کو لداخ کا نام دے کر دونوں علاقوں کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے انڈین یونین میں شامل کر دیا گیا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 6 اگست 2019 کو انڈیا کے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام سے شملہ معاہدہ دفن ہوگیا۔

جدہ میں او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس کے بعد اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ”اب تک انڈیا دوطرفہ بات چیت کا راگ الاپ رہا تھا لیکن کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا یک طرفہ قدم اٹھایا گیا۔ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کے جواب میں بھی نئی دہلی کی طرف سے بیان آیا تھا کہ یہ دوطرفہ معاملہ ہے اور ہم شملہ معاہدے کے پابند ہیں۔ کہاں گیا وہ شملہ معاہدہ؟“

انہوں نے کہا ”میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا نے اس اقدام سے معاہدے کو دفن کر دیا ہے۔ میری رائے میں شملہ معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔“

اس واقعہ کے ایک سال گزرنے کے بعد گزشتہ دنوں چار اگست 2020 کو حکومت پاکستان نے باقاعدہ ایک سیاسی نقشہ جاری کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی کابینہ نے یہ نقشہ پاس کیا ہے۔ سکولوں، کالجوں اور عالمی سطح پر بھی یہ نقشہ استعمال میں آئے گا۔

اس نئے سیاسی نقشہ کے منظر عام پر آنے کے بعد اس خطے میں ایک نئی سیاسی بحث نے جنم لیا ہے کیونکہ اس نئے سیاسی نقشہ میں گلگت اور جموں و کشمیر کے درمیان لکیر کو مٹا کر پاکستان نے پورے جموں و کشمیر پر اپنے دعویٰ کا سرکاری سطح پر اعلان کیا ہے۔

اس نقشے پر تبصرہ کرتے ہوئے بعض ماہرین بین الاقوامی امور کا ماننا ہے کہ یہ محض ایک سیاسی چال ہے۔

یہ نقشہ دراصل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان پر انڈین دعویٰ کے ردعمل میں جاری کیا گیا ہے۔ چونکہ سی پیک گلگت بلتستان سے گزرتا ہے اور انڈیا اس منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے اس لئے اس نقشے کے ذریعے انڈیا کو کوانٹر اور چین کو خوش کرنے کے لئے یہ اقدام کیا گیا ہے۔ سی پیک منصوبے کے بعد چین مسئلہ کشمیر میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے اور اس وقت کشمیریوں اور گلگت بلتستان کے لوگوں کا مستقبل تین ایٹمی ممالک کے ہاتھوں میں ہے۔

مگر اہم سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی موجودگی میں اس نقشے کو تسلیم کرے گی اور کیا ورلڈ اٹلس میں یہ نقشہ شامل ہوگا؟

بقول تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی اس نوعیت کے اقدامات سے حکومت اندرونی سطح پر جذبات کو خوش کر سکتی ہے تاہم بین الاقوامی حمایت اس طرح بنائے گئے نقشوں کو نہیں ملتی ”۔

بہرحال یہ سوال بحث طلب ہے لہذا اس بحث میں الجھے بغیر شاہ محمود قریشی کی اس نئے سیاسی نقشے پر دی گئی بریفنگ پر نظر ڈالتے ہیں کہ آیا وزیر خارجہ کے موقف میں تضاد تو نہیں؟

وزیر خارجہ ایک طرف خود پورے کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف پورے کشمیر پر اپنے دعویٰ کا بھی اعلان کرتے ہیں جوکہ باعث حیرت ہے۔

پوری پاکستانی قوم کو مبارکباد دینے کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے فرمایا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایڈمنسٹریٹو نقشے تو پہلے بھی آئے جیسے کہ 1949 اور 1976 میں مگر پہلی بار قوم کے سامنے ایک ایسا نقشہ رکھا گیا ہے جو قوم کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہے وہ نقشہ جس کی بابت بند کمروں میں پاکستان اپنا موقف پیش کرتا تھا مگر آج پوری قوم کے سامنے کھلے عام اپنا موقف پیش کرکے دنیا کو بتلا رہے ہیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

وزیر خارجہ نے نقشے میں سبز رنگ میں دکھائے گئے علاقے کے متعلق برملا اعتراف کیا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر، آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان بھی ایک متنازعہ علاقہ ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کا یہ بیان یقیناً گلگت بلتستان کے ان تمام حضرات کے لئے پریشان کن ہوگا جو گزشتہ ستر سال سے قوم سے غلط بیانی کرتے رہے کہ ہمارے اجداد نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔

حالانکہ پاکستان میں شامل علاقوں کا تعین پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 1 کرتا ہے۔ اس طرح پاکستان کے علاقوں میں اضافہ پارلیمان کی جانب سے ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان بشمول آزاد کشمیر پاکستان کے آئین میں شامل نہیں ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 257 ریاست جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرتا ہے جبکہ دوسری طرف مہاراجہ ہری سنگھ کے 26 اکتوبر 1947 کی دستاویز الحاق نامے کو بنیاد بنا کر گزشتہ سال انڈیا نے جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے تحت جو قانون جموں و کشمیر میں نافذ کیا ہے اس ایکٹ کے پارٹ 2 کے آرٹیکل 3 کے تحت یونین علاقہ لداخ سابق ریاست جموں اینڈ کشمیر کے کرگل اور لیہ ڈسٹرکٹ پر مشتمل ہے جبکہ لے ڈسٹرکٹ میں شامل کیے گئے علاقوں میں گلگت، گلگت وزارت، چلاس، قبائلی علاقے (یاگستان ) بھی شامل ہیں جو انڈیا کے زیر کنٹرول نہیں بلکہ پاکستان کے زیر انتظام ہیں۔

جبکہ لداخ میں چین کے زیر کنٹرول گلگت بلتستان کا علاقہ اقصائے چن بھی شامل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جموں اینڈ کشمیر Reorganisation Act 2019، گزٹ آف انڈیا میں 9 اگست کو شائع کیا گیا تھا لیکن اس میں یونین ٹریٹری آف لداخ کرگل اور لیہ leh ڈسٹرکٹ کے علاقوں پر مشتمل تھی لیکن بعد میں Jammu and Kashmir Reorganisation Removal of difficulties second order 2019 کے تحت انڈیا کی ہوم منسٹری کی طرف سے صدارتی حکم نامے میں واضح کیا گیا کہ گگت بلتستان کے یہ علاقے لے ڈسٹرکٹ میں شامل ہیں۔ انڈیا کے نئے سیاسی نقشے میں بھی ان علاقوں کو لداخ کا حصہ دکھائی گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس نئے قانون کے حصہ سوئم میں آرٹیکل 24 ( 4 ) کے تحت پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے 24 نشستیں مختص کرکے خالی رکھی گئی ہیں۔ اس لئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ سال پانچ اگست کو انڈیا نے بھی ایک سیاسی نقشہ جاری کیا ہے اور انہوں نے بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنے علاقوں میں سمو دیا ہے۔ یہ دنیا کے ساتھ ایک مذاق ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے برعکس ہے۔ پاکستان ان عزائم کو مسترد کرتا ہے اور ہمارا موقف ہے کہ یہ پورا علاقہ متنازعہ ہے اور حل طلب ہے

اور کشمیریوں اور پاکستان کے امنگوں کے مطابق سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اس کا حل نکلے گا جس کا وعدہ اقوام متحدہ میں ہندوستان کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اس نئے نقشے میں درج کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں مسئلہ کشمیر پر ایک رائے شماری ہوگی جو فیصلہ کرے گی کہ کشمیر کا مستقبل کیا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ دوسری چیز اس نقشے میں جموں اینڈ کشمیر کی انٹرنیشنل بارڈر کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے جو حل طلب ہے۔

سیاچن کے بارے میں بھی انہوں نے کہا کہ سیاچن کل بھی ہمارا تھا آج بھی ہمارا ہے اگرچہ اس پر انڈیا نے قبضہ کر لیا ہے۔

سر کریک پر بھی انڈیا کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسی بہانے انڈیا پاکستان کے ایکسس کلوسیو اکنامک ذون کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔

تیسرا نکتہ فاٹا کے بارے میں ہے۔ فاٹا کا علاقہ چونکہ خیبر پختون خواہ میں ضم کیا گیا ہے اس لئے ان علاقوں کو خیبر پختون خواہ صوبے میں دکھایا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نقشے میں لداخ کے کچھ علاقے اور اکسائے چن (وہ علاقے جو اس وقت چین کی تحویل میں ہیں ) کو نقشے کا حصہ نہیں بنایا گیا اس کے ساتھ چین کی جانب نقشے کا رستہ کھلا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ چین اور ہندوستان کا تنازعہ ہے اس کی وضاحت یوں کی کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے تصفیے کے بعد جو بھی آزاد ریاست ہوگی وہ معاملات حل کرے گی۔ ساتھ میں کہا انشاء اللہ پاکستان حل کرے گا

وزیر خارجہ نے کہا کہ اس سیاسی نقشے پر پوری قوم متفق ہے۔ ہم نے کشمیر کی قیادت کو اعتماد میں لیا ہے. اور پاکستان نے کشمیر کے نہتے نوجوان کو پیغام دیا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم نے شاہراہ کشمیر کو شاہراہ سری نگر کا نام دیا ہے چونکہ یہ ہمارا خواب ہے جو ہمارے بزرگوں نے دیکھا ہے اور آج اس خواب کو عمران خاں نے اس سیاسی نقشے میں پرو دیا ہے اس لئے قوم کو مبارک ہو کیونکہ آج ایک تاریخی دن ہے۔

وزیر خارجہ کی اس دلچسپ بریفینگ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کرنے کے بعد فرمایا کہ میں پھر کہتا ہوں کہ کشمیر کا صرف ایک ہی حل ہے وہ ہے کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد۔ جو واضح طور پر کشمیر کے لوگوں کو حق دیتی ہیں کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ یہ جو ان کا Right of self Determination (حق خودارادیت ) ہے یہ ان کو UNO نے دیا ہے وہ ان کو آج تک نہیں ملا۔ اور ہم واضح طور پر دنیا کو کہنا چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا صرف یہی حل ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔ انہوں نے انڈیا کے پانچ اگست کے اقدام کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب انڈیا کی پوری کوشش ہے کہ وہ باہر سے لوگوں کو لا کر کشمیر میں آباد کرے تاکہ کشمیری وہاں اقلیت بن کر رہ جائیں۔ اس سے کبھی یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ حل ایک ہی ہے، وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد ہے. دنیا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا یہی ایک حل ہے جس کے لئے ہماری حکومت ہر فورم پر کوشش کرتی رہی گی۔ آخر میں وزیراعظم پاکستان نے پوری قوم کو مبارک دی۔

لگتا ہے اس مبارک باد کے پیچھے ایک ہی بات ہے وہ یہ کہ کشمیر پر گزشتہ ستر سال کی پالیسی کے نتیجے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ گزشتہ سال پانچ اگست کو کشمیر کو اپنے ملک کا باقاعدہ حصہ بنا کر انڈیا نے شملہ معاہدے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اور پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کے لئے عالمی برادری سے اپیل کرنے کے علاوہ اور کوئی خاص آپشن موجود نہیں ہے۔ چونکہ شملہ معاہدہ اور لاہور ڈیکلریشن کا انجام پاکستان نے دیکھ لیا جبکہ جنگ کے ذریعے کشمیر کو حاصل کرنا ممکن نہیں جیسا کہ وزیر اعظم پاکستان نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ ہم اس مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں نہ کہ ملٹری حل۔

اس تمام تر صورتحال کا باریکی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شملہ معاہدہ کے تحت پاکستان انڈیا نے متفقہ طور پر مسئلہ کشمیر کو دو ملکوں کا علاقائی مسئلہ قرار دیا تھا اور طے پایا تھا کہ دونوں مل کر اس مسئلے کو حل کریں گے، مگر پانچ اگست کو مودی سرکار نے کشمیر کی خصوصی حیثیت یک طرفہ طور پر ختم کر دیا تو پاکستان کے پاس شملہ معاہدے کی لکیر پیٹنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچتا تھا۔ لہذا پاکستان نے بھی عملاً شملہ معاہدے سے دست بردار ہوتے ہوئے ایک سیاسی نقشہ جاری کیا جس میں انڈیا کے زیر قبضہ کشمیر اور لداخ کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے اور گزشتہ دنوں وادی کشمیر پر ایک گیت بھی ریلیز کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اقوام متحدہ کو بار بار یاد دلائیں گے کہ آپ نے کشمیریوں کے ساتھ ایک وعدہ کیا تھا جو آپ نے پورا نہیں کیا۔

ان تمام حقایق کی روشنی میں یہ بات واصخ ہوتی ہے کہ گزشتہ پچاس سالوں میں شملہ معاہدے کے تحت مسئلہ کشمیر کے نام پر کشمیری عوام کو یرغمال بنایا گیا نتیجتاً مسئلہ کشمیر حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ بن گیا۔ اس لئے شملہ معاہدے کے بابت اگر ایک جملے میں یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا اور وہ بھی مرا ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •